Vinkmag ad

لمبر پنکچر (سپائنل ٹیپ): ریڑھ کی ہڈی کے مائع کا اہم تشخیصی ٹیسٹ

A close-up view of a healthcare professional wearing sterile gloves inserting a spinal needle with an orange hub into a patient’s lower back through a sterile green surgical drape during a lumbar puncture procedure.

لمبر پنکچر (Lumber puncture)  ایک میڈیکل ٹیسٹ ہے جو مختلف بیماریوں کی تشخیص کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ پروسیجر کمر کے نچلے حصے میں انجام دیا جاتا ہے۔ اس دوران دو مہروں (ورٹیبرا) کے درمیان ایک باریک سوئی داخل کر کے سیریبروسپائنل فلوئڈ (سی ایس ایف) کا نمونہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ مائع دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو چوٹ سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے سپائنل ٹیپ بھی کہا جاتا ہے،

لمبر پنکچر سنگین انفیکشنز، جیسے گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مرکزی اعصابی نظام کی بیماریوں، مثلاً گیلین بیری سنڈروم اور ملٹی پل سکلروسس، کی تشخیص کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

یہ ٹیسٹ دماغ کے گرد خون بہنے یا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے بعض کینسرز کی تشخیص میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں سی ایس ایف کے ذریعے بے ہوشی کی دوا یا کیموتھراپی کی ادویات بھی دی جاتی ہیں۔

کیوں کیا جاتا ہے

لمبر پنکچر درج ذیل مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے:

٭ انفیکشن، سوزش یا دیگر بیماریوں کی جانچ کے لیے سی ایس ایف کا نمونہ حاصل کرنا

٭ سی ایس ایف کے دباؤ کی پیمائش کرنا

٭ ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے دی جانے والی بے ہوشی کی دوا، کیموتھراپی یا دیگر ادویات داخل کرنا

٭ سی ایس ایف کے بہاؤ کی تصویری جانچ کے لیے خاص رنگ یا تابکار مادے داخل کرنا

لمبر پنکچر سے حاصل ہونے والی معلومات درج ذیل بیماریوں کی تشخیص میں مدد دیتی ہیں:

٭ بیکٹیریا، فنگس یا وائرس سے ہونے والے سنگین انفیکشنز، بشمول میننجائٹس، اینسیفلائٹس اور سفلس

٭ دماغ کے گرد خون بہنا

٭ دماغ یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق بعض کینسر

٭ اعصابی نظام کی بعض سوزشی بیماریاں، جیسے ملٹی پل اسکلروسس اور گیلین بیری سنڈروم

٭ آٹو امیون اعصابی بیماریاں

٭ الزائمر بیماری اور ڈیمنشیا کی دیگر اقسام

خطرات

اگرچہ لمبر پنکچر عمومی طور پر محفوظ طریقہ کار سمجھا جاتا ہے، تاہم اس سے بعض خطرات وابستہ ہو سکتے ہیں۔

٭ لمبر پنکچر کے بعد سر درد

٭ کمر میں درد یا تکلیف

٭ سوئی لگنے والی جگہ کے قریب خون بہنا

٭ برین سٹیم پر دباؤ بڑھنا

ٹیسٹ کی تیاری

٭ لمبر پنکچر سے پہلے آپ کی میڈیکل ہسٹری لی جائے گی، جسمانی معائنہ کیا جائے گا، اور بلڈ ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

٭ دماغ کے اندر یا اس کے گرد سوجن کا جائزہ لینے کے لیے سی ٹی سکین یا ایم آر آئی بھی تجویز کی جا سکتی ہے۔

٭ آپ کو کھانے، پینے اور ادویات سے متعلق مخصوص ہدایات دی جائیں گی۔

٭ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔

٭ اگر آپ کو کسی دوا، خاص طور پر لوکل اینستھیزیا سے الرجی ہے تو اس بارے میں بھی ضرور بتائیں۔

طریقہ کار

٭ آپ کو اس پروسیجر کے ممکنہ خطرات اور دورانِ عمل ہونے والی ممکنہ تکلیف کے بارے میں آگاہ کرے گا

٭ اگر یہ عمل کسی بچے پر کیا جا رہا ہو تو والدین کو کمرے میں موجود رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے

پہلے

٭ آپ کو ہسپتال کا گاؤن پہننے کے لیے کہا جا سکتا ہے یا آپ اپنے کپڑوں میں بھی رہ سکتے ہیں۔

٭ عام طور پر آپ کو کروٹ کے بل لٹایا جاتا ہے اور گھٹنے سینے کی طرف موڑنے کو کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو بیٹھ کر آگے جھکنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ان پوزیشنز سے کمر جھک جاتی ہے اور مہروں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے، جس سے سوئی داخل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

٭ اس کے بعد کمر کو جراثیم کش صابن یا آئیوڈین سے صاف کیا جاتا ہے اور جراثیم سے پاک چادر سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔

٭ شیر خوار یا کم عمر بچوں کے لیے ایک معاون فرد انہیں مناسب پوزیشن میں تھامے رکھتا ہے۔

دوران

٭ سوئی داخل کرنے سے پہلے کمر کے نچلے حصے میں لوکل اینستھیزیا دیا جاتا ہے

٭ ایک باریک اور کھوکھلی سوئی دو نچلے مہروں کے درمیان داخل کی جاتی ہے

٭ سوئی حفاظتی جھلی سے گزرتے ہوئے سپائنل کینال تک پہنچتی ہے، جہاں کمر میں دباؤ محسوس ہو سکتا ہے

٭ سوئی اپنی جگہ پہنچنے کے بعد آپ سے پوزیشن میں معمولی تبدیلی کرنے کو کہا جا سکتا ہے

٭ سی ایس ایف کا دباؤ ماپا جاتا ہے، تھوڑا سا مائع نکالا جاتا ہے اور پھر دباؤ دوبارہ جانچا جاتا ہے

٭ آخر میں سوئی نکال کر اس جگہ پر پٹی لگا دی جاتی ہے۔

یہ عمل عموماً 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹر پروسیجر کے بعد کچھ دیر آرام سے لیٹے رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ شیر خوار اور کم عمر بچوں میں سوئی کی درست رہنمائی کے لیے الٹراساؤنڈ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے سوئی زیادہ گہرائی تک جانے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

بعد میں

٭ آرام کریں اور اسی دن سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں

٭ اگر آپ کا کام جسمانی مشقت پر مشتمل نہیں تو آپ کام پر واپس جا سکتے ہیں

٭ اگر سر درد شدید ہو جائے تو فوراً اپنے طبی ماہر سے رابطہ کریں

نتائج

لمبر پنکچر سے حاصل کیے گئے سی ایس ایف کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔

لیبارٹری ماہرین درج ذیل پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں:

عمومی ظاہری شکل

سی ایس ایف عام طور پر شفاف اور بے رنگ ہوتا ہے۔ اگر اس کا رنگ نارنجی، پیلا یا گلابی ہو تو یہ خون بہنے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ سبز رنگ انفیکشن یا بلی روبن کی موجودگی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

پروٹین

ٹوٹل پروٹین اور بعض مخصوص پروٹینز کی مقدار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔45  ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ پروٹین انفیکشن یا کسی سوزشی کیفیت کی علامت ہو سکتا ہے۔

خون کے سفید خلیے

عام طور پر سی ایس ایف میں فی مائیکرو لیٹر پانچ تک سفید خون کے خلیے موجود ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھ جانا انفیکشن یا کسی دوسری بیماری کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

شوگر (گلوکوز)

سی ایس ایف میں گلوکوز کی کم مقدار انفیکشن، رسولی یا دیگر بیماریوں کی علامت ہو سکتی ہے۔

جراثیم

بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا دیگر جراثیم کی موجودگی انفیکشن کی نشاندہی کرتی ہے۔

سرطانی خلیے

رسولی یا خون کے ناپختہ خلیات کی موجودگی بعض اقسام کے کینسر کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔

لیبارٹری نتائج کو دیگر طبی معلومات کے ساتھ ملا کر حتمی یا ممکنہ تشخیص کی جاتی ہے۔ عام طور پر نتائج چند دنوں میں موصول ہو جاتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurosurgery

Vinkmag ad

Read Previous

زندہ عطیہ دہندہ سے اعضا کی پیوند کاری

Leave a Reply

Most Popular