زندہ عطیہ دہندہ سے اعضا کی پیوند کاری (Living donor transplant) ایک سرجیکل پروسیجر ہے، جس میں ایک صحت مند زندہ شخص سے عضو یا اس کا کوئی حصہ ایسے مریض میں منتقل کیا جاتا ہے جس کا عضو ناکارہ ہو چکا ہو۔
گردے کا عطیہ اس طریقہ کار کی سب سے عام مثال ہے۔ ایک صحت مند فرد ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے، جبکہ دوسرا گردہ جسمانی افعال جاری رکھتا ہے۔ اسی طرح جگر کا ایک حصہ بھی عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ جگر اپنی غیر معمولی افزائشی صلاحیت کے باعث چند ہفتوں یا مہینوں میں دوبارہ اپنی جسامت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں جلد، ہڈی کا گودا اور خون بنانے والے خلیے بھی عطیہ کیے جا سکتے ہیں۔
عطیہ دہندہ درج ذیل افراد ہو سکتے ہیں:
٭ قریبی رشتہ دار جیسے والدین، بہن بھائی یا بالغ اولاد
٭ دیگر خونی رشتہ دار جیسے چچا، ماموں، خالہ یا کزن
٭ غیر خونی قریبی تعلق رکھنے والے افراد جیسے شریک حیات، دوست یا ساتھی
٭ وہ افراد جو مریض کی ضرورت سے آگاہ ہو کر عطیہ کریں
کیوں کیا جاتا ہے
زندہ عطیہ دہندہ سے اعضا کی پیوند کاری کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مریض کو انتظار کیے بغیر بروقت عضو فراہم کیا جا سکے۔
اس طریقے میں کامیابی کی شرح بہتر اور عضو کے طویل مدتی فعال رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
خطرات
زندہ عطیہ دہندہ کے لیے یہ ایک بڑا سرجیکل پروسیجر ہوتا ہے، اس لیے اس میں طبی اور نفسیاتی خطرات موجود ہیں۔
ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:
٭ درد اور انفیکشن
٭ خون بہنا یا کلاٹ بننا
٭ زخم کی پیچیدگیاں
٭ ہرنیا
٭ بے چینی یا افسردگی
٭ نایاب صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیاں
کچھ افراد میں بعد ازاں جذباتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر پیوند کاری کے نتائج توقع کے مطابق نہ ہوں۔
گردے کا عطیہ
مجموعی طور پر زیادہ تر عطیہ دہندگان معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ کچھ افراد میں درج ذیل مسائل کا معمولی خطرہ بڑھ سکتا ہے:
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ پیشاب میں پروٹین کی مقدار میں اضافہ
٭ گردے کی کارکردگی میں معمولی کمی
جگر کا عطیہ
جگر کا عطیہ نسبتاً پیچیدہ عمل ہے اور اس کی شرح گردہ عطیہ کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ اس کی ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ بائل رِسنا
٭ بائل ڈکٹس کا تنگ ہونا
٭ اندرونی خون بہنا
٭ جگر کی مکمل بحالی میں مسائل (نایاب)
تیاری اور فیصلہ سازی
عضو عطیہ کرنے کا فیصلہ انتہائی سنجیدہ اور ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ اس پر دباؤ کے بغیر غور کرنا ضروری ہے۔
فیصلہ کرنے سے پہلے درج ذیل نکات پر غور کیا جاتا ہے:
٭ طبی خطرات اور فوائد
٭ مالی اور سماجی اثرات
٭ خاندان اور ذاتی زندگی پر اثر
٭ مذہبی اور اخلاقی پہلو
٭ مکمل معلومات کی دستیابی
٭ ذہنی اور جذباتی تیاری
طبی جانچ کا عمل
عطیہ دہندہ کی مکمل جانچ کئی مراحل میں کی جاتی ہے:
٭ ابتدائی سکریننگ اور میڈیکل ہسٹری
٭ بلڈ ٹیسٹ اور مطابقت کا تعین
٭ جسمانی معائنہ اور نفسیاتی جائزہ
٭ اعضاء کی صحت کے لیے تفصیلی ٹیسٹ
اگر فرد اہل قرار پائے تو اسے تمام خطرات اور نتائج سے آگاہ کر کے باقاعدہ رضامندی لی جاتی ہے۔
آپریشن کا طریقہ کار
گردہ عطیہ زیادہ تر کم کٹ والی سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے درد اور صحت یابی کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ جگر کے عطیے میں جگر کا 40 سے 70 فیصد حصہ نکالا جاتا ہے، اور باقی حصہ چند ہفتوں میں دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔
آپریشن کے بعد بحالی
٭ گردہ عطیہ کرنے والے عام طور پر چند ہفتوں میں معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں، جبکہ جگر عطیہ کرنے والوں کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
٭ صحت یابی کے دوران زخم کی دیکھ بھال، آرام اور باقاعدہ فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=liver-transplant