گراس ہوپر سے متعلق دلچسپ حقائق

گراس ہوپر لمبی اور پتلی جسامت والا سبز رنگ کا کیڑا ہے جو ایک سے دوسری جگہ با آسانی چھلانگ لگا لیتا ہے۔ گراس کا مطلب گھاس جبکہ ہوپر کا مطلب پھدکنے یا چھلانگ لگانے والا ہے۔ اسے یہ نام شاید اس کے گھاس پر چھلانگ لگانے کی صلاحیت کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے۔ گراس ہوپر سے متعلق دلچسپ حقائق جانتے ہیں:

کچھ دیگر جانوروں کی طرح ان کے حوالے سے بھی مافوق الفطرت خیالات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کے خواب میں آنے کو آزادی کی بشارت یا روحانی طور پر بیدا رہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ زمین پر کم و بیش 250 ملین سالوں سے موجود ہیں اور ان کی اب تک 11,000 اقسام کے بارے میں پتا لگایا جاچکا ہے۔

رنگت، سائز اور اقسام

٭ان کی پانچ آنکھیں ہوتی ہیں جن میں سے دو بڑی جبکہ تین چھوٹی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پروں کے دو جوڑے، چھ ٹانگیں (چار چھوٹی، د و بڑی) اور سر پر دو انٹینا ہوتے ہیں۔ انٹینا وہ عضو ہے جو انہیں خوراک اور ماحول میں موجود دیگر چیزوں کو چھونے اور بو محسوس کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کی اگلی ٹانگیں پچھلی کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہیں۔

٭لمبی اور پتلی جسامت والے ان کیڑوں کا سائز ایک سے سات سنٹی میٹر ہو سکتا ہے۔ ان میں مادہ کا سائز نر سے بڑا ہوتا ہے۔

٭عموماً جانوروں کے کان ان کے سر پر ہوتے ہیں تاہم گراس ہوپر کے کان ان کے پیٹ کے نچلے حصے پر ہوتے ہیں۔

٭ان کی پچھلی ٹانگوں کے گھٹنے میں سپرنگ کی طرح ایک چیز ہوتی ہے جو انہیں اچھالنے میں مدد دیتی ہے۔ جب انہیں چھلانگ لگانا ہوتی ہے تو یہ اپنے پٹھوں کو آہستہ سے سکیڑکر ٹانگوں کو موڑ لیتے ہیں۔ پھر ٹانگوں کو ریلیکس کرتے ہیں۔ یوں جب سپرنگ سکڑ کر ریلیکس ہوتا ہے تو انہیں انرجی ملتی ہے اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ چھلانگ لگاتے ہوئے پروں کا استعمال کریں تو ایک گھنٹے میں آٹھ میل کا سفر طے کر سکتے ہیں۔

٭ٹِڈیوں کا رنگ سبز یا بھورا ہوتا ہے۔ تاہم کچھ قسمیں (rainbow grasshopper) ایسی بھی ہیں جن کے جسم پر ایک سے زائد شوخ رنگ ہوتے ہیں۔

٭بعض گراس ہوپر پتے کی طرح (Katydids)جبکہ کچھ ٹہنی کی طرح (stick grasshopper) دکھائی دیتی ہیں۔

ٹڈیوں کی ایک قسم، گراس ہوپر، شفانیوز

ٹِڈی اور ٹِڈے میں فرق

٭نر اور مادہ کے درمیان فرق کرنا ہو تو یہ ان کے پیٹ سے واضح ہوتا ہے۔ مادہ کا پیٹ پتلا ہوتا ہے اور اس کے ایک کنارے پر نوک سی دکھائی دیتی ہے۔ یہ دراصل ایک نالی ہے جس سے وہ انڈے دیتی ہے۔ اس کے برعکس ٹِڈے کا پیٹ گول اور اوپر کی طرف مڑا ہوتا ہے۔

٭نر مادہ کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے پچھلی ٹانگوں اور اگلے پروں کو رگڑ کر یا پھر اپنے پروں کو آپس میں رگڑ کر مخصوص قسم کی آوازیں پیدا کرتے ہیں۔

٭مادہ اپنے انڈے مٹی کے اندر دیتی ہے اور ان کے گرد ایک مادہ خارج کرتی ہے جو خشک ہو کر حفاظتی خول(pod) بن جاتا ہے۔ یہ خول چاولوں کے دانے جیسا ہوتا ہے۔ خول کی تعداد 7 سے 30 جبکہ ہر خول میں انڈوں کی تعداد 8 سے 30 ہوتی ہے۔ ان میں سے بچے گرمیوں یا بہار میں نکلتے ہیں جو مختلف مراحل سے گزر کر ایک بڑی ٹِڈی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

خوراک اور رہن سہن

٭ایک گراس ہوپر دن بھر میں اپنے وزن کے نصف حصے جتنی خوراک کھاتے ہیں۔ ان کی خوراک میں پودے، پتے، گھاس اور پھول وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ان کی کچھ قسمیں چھوٹے کیڑے مکوڑوں کو بھی کھاتی ہیں۔ پروٹین کا اچھا ذریعہ ہونے کی وجہ سے انہیں بھی افریقی اور امریکی ممالک میں شوق سے کھایا جاتا ہے۔

٭ان کے شکاریوں میں سانپ، مینڈک، بھڑیں، کچھ پرندے اور چمگادڑ وغیرہ شامل ہیں۔

٭گراس ہوپر اکیلے یا پھر چھوٹے چھوٹے گروپس کی شکل میں رہتے ہیں۔ ان کی کچھ قسمیں (مثلاً صحرا میں رہنے والے گراس ہوپر) ایسی ہیں جو ماحول میں خوراک کی کمی کی صورت میں ایک دوسرے کو تلاش کرکے جھنڈ بنا لیتی ہیں۔ جھنڈ میں رہنے والے ان گراس ہوپرز کو لوکسٹس (Locusts) کہتے ہیں۔

لوکسٹ پہلے گراس ہوپر ہی ہوتے ہیں تاہم ایک جگہ پر جمع ہونے کے باعث یہ ایک ایسے مرحلے (swarming phase) سے گزرتے ہیں جس کے دوران ان کے رویے اور جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بڑی تعداد میں اکٹھے خوراک کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والی ہر سبز چیز کو کھا لیتے ہیں۔ اسی طرح یہ فصلوں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

لوکسٹ کا حملہ-شفانیوز

دفاعی نظام

٭ان میں خطرے سے بچنے کے لئے لمبے فاصلے پر چھلانگ لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ 25 سینٹی میٹر اونچائی اور ایک فٹ لمبائی تک چھلانگ لگا سکتے ہیں۔

٭پکڑے جانے پر اپنے دفاع کے لئے یہ بعض اوقات بھورے رنگ کا مائع بھی خارج کرتے ہیں۔ یہ مائع بد ذائقہ اور بو کا حامل ہوتا ہے اور انہیں شکاریوں سے بچنے میں مددد یتا ہے۔

ٹڈیاں عموماً انسانوں کو نہیں کاٹتیں اور نہ ہی زہریلی ہوتی ہیں۔ تاہم اگر یہ جھنڈ کی شکل میں ہوں اور انہیں خطرہ محسوس ہو تو کاٹ بھی سکتی ہیں۔ ان کے کاٹنے پر سوئی چبھنے جیسا درد ہو سکتا ہے۔

amazing facts about grasshoppers, grasshoppers interesting facts, grasshopper vs locusts, tiddi k baray mai dilchasp maloomat shifa news, health, interesting facts about animals

Vinkmag ad

Read Previous

Anxiety

Read Next

MYTH: Gurr (jaggery) is better than sugar

Leave a Reply

Most Popular