انفیکشن سے بچاؤکیسے ممکن ہے

11

؟٭انفیکشن کی حالت میں انفرادی سطح پر کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں

٭٭ انفیکشن سے 100 فی صد نہیں بچا جا سکتا‘ البتہ احتیاط سے اس کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ گھروں میں عام طور پرجو انفیکشن پھیلتے ہیں وہ کھانے اور پانی کے ذریعے ہوتے ہیں لہٰذاپانی ہمیشہ ابال کر پیا جائے۔بعض اوقات فلٹرشدہ پانی بھی پوری طرح جراثیم سے پاک نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بیماری کا حملہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پینے کا پانی جراثیم سے پاک ہے۔

پھل اورسبزیاں وغیرہ اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ صحت بخش غذا وہی ہے جسے اچھی طرح سے دھولیا جائے ۔اس کے لیے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے پھل یا سبزیاں جن کو کچا کھایا جاتا ہے مثلاً انگور، خوبانی، آلوبخارہ وغیرہ‘ ان کو کھانے سے پہلے پانی میں سرکہ ڈال کر دھوئیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف ان کی صفائی ہو گی بلکہ یہ جراثیم سے بھی پاک ہو جائیں گے۔بازاری کھانوں‘ خاص طور پر کھلی جگہ پر اور بغیر ڈھانپ کر رکھے گئے کھانوںسے پرہیز کیا جائے کیونکہ اکثر اوقات یہ حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کئے جاتے لہٰذا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں فون‘ کی بورڈ اور مائوس جیسی چیزوں کی صفائی کا بھی خیال رکھنا چاہیے‘ اس لئے کہ وہ ایک سے زائد افراد استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ وائرس ان کی سطح پر آٹھ گھنٹے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

نزلے اور زکام کے موسم میں پرہجوم مقامات سے حتی الامکان دور رہنے کی کوشش کریں۔کئی لوگ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے لہٰذا ہاتھوں کے ذریعے وائرس ان کے جسم میں پہنچ کر انہیں بیمار کردیتے ہیں۔ صابن سے ہاتھوں کو بار بار دھویا جائے توکسی حد تک انفیکشن سے بچاؤ ممکن ہے۔

 

ڈاکٹرمحمود حیدر جاوید

ماہر متعدی امراض

شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x