Vinkmag ad

بجٹ میں صحت کے لیے 27 ارب روپے مختص

وفاقی حکومت نے بجٹ میں صحت کے لیے 27 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ گزشتہ برس یہ رقم 24.21 ارب روپے تھی۔

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 19.86 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 21.63 ارب روپے ہسپتالوں کی سروسز کے لیے استعمال ہوں گے۔ صحت عامہ کے لیے 891 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گزشتہ برس اس کے لیے 3.11 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یوں یہ رقم پہلے سے کم ہوئی ہے۔

ہیپاٹائٹس پروگرام کے لیے 5 ارب جبکہ ذیابیطس کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صحت کے شعبے کی انتظامی لاگت گزشتہ برس 4.5 ارب روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 5.3 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔ طبی مصنوعات اور آلات کی خریداری کے لیے 32 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ جاری اور نئی اسکیموں کے لیے مجموعی طور پر 27 ارب روپے مختص کیےگئے ہیں۔ ان میں جاری اسکیموں کے لیے 7.2 ارب روپے شامل ہیں۔

اسلام آباد میں ہیلتھ ٹاور کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ 15 ارب روپے کا منصوبہ ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے تعمیر کیا جائے گا۔

نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروجیکٹ کے لیے 295 ملین روپے ہیں۔ یہ پروگرام غریبوں کو صحت کے شعبے میں امداد فراہم کرتا ہے۔

صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سکیم سے 5,000 افراد مستفید ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں 10,000 لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔

ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے۔ اس میں ادویات اور ایکٹیو فارماسوٹیکل اجزاء، دونوں شامل ہیں۔

بجٹ میں صحت کا حصہ بڑھنا خوش آئند ہے۔ تاہم صحت عامہ کے شعبے میں کمی افسوسناک ہے۔ ادویات پر سیلز ٹیکس بھی تشویشناک ہے۔ اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

لال بیگ: وہ کیڑا جو سر کٹنے کے بعد بھی ایک ہفتہ زندہ رہ سکتا ہے

Read Next

کے پی میں 8 لاکھ بچوں کے لیے پیٹ کے کیڑوں کی دوا

Leave a Reply

Most Popular