کتا وفاداراور بہترین دوست

5

کتا وفاداراور بہترین دوست

وفا بڑاخوبصورت اور قابل قدرجذبہ ہے اورجانوروں میں کتا شاید اپنے مالک کا سب سے زیادہ وفادارجانورہے۔ اسے انسانوں کا بہترین دوست بھی قراردیا جاتا ہے، اس لئے کہ یہ انسانی جذبات اوراحساسات کے حوالے سے بہت حساس ہوتا ہے ۔

کتے جانوروں کی جس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ان میں بھیڑیے اورگیدڑ بھی شامل ہیں۔ان کی اگلی ٹانگوں میں پانچ جبکہ پچھلی میں چارانگلیاں ہوتی ہیں۔انسانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بہتر سننے اورسونگھنے کی صلاحیت رکھنے والے ان جانوروں کو مختلف مقاصد کے لئے پالا جاتا ہے۔ ان کی بہت سی قسمیں ہیں تاہم پاکستان میں پوائنٹر، گلٹیر، بلڈوگ اورولف ڈوگ نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے منگوائے جانے والوں میں جرمن شیفرڈاورچھوٹے سائزکے کتے بھی قابل ذکر ہیں۔

کتیا چھ سے آٹھ ماہ کی عمرمیں افزائش نسل کے قابل ہوجاتی ہے۔ان میں حمل کا دورانیہ عموماً دوماہ ہوتا ہے مگر کچھ میں 65یا 70 دن بھی ہوسکتا ہے۔ پیدائش کے بعد پِلوں کا منہ اورناک فوری طورپر خشک کریں۔ اگران میں سے کوئی بول نہیں رہا یا سانس نہیں لے رہا تو اس کی چھاتی پرمساج کریں یا اسے دبائیں۔ پھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد اس کی ماں کے پاس چھوڑیں تاکہ وہ اسے فیڈ کراسکے۔

خوراک کیا ہو

بچوں کوپیدائش کے بعد دوماہ تک ماں کا دودھ لازماً پلانا چاہئے۔40ویں دن سےان کی خوراک میں مرغی کا ابلا ہوا گوشت یا قیمہ شامل کرسکتے ہیں۔ اسےبچوں کو دودھ پینے کے بعد، دن میں دو سے چارمرتبہ کم مقدارمیں دیں۔ یہ روٹین پانچ سےچھ ماہ تک جاری رکھیں۔ چونکہ وہ کچی سبزیاں ہضم نہیں کرسکتے لہٰذا چھ ماہ کی عمرسے ابلی ہوئی سبزیاں اورچاول دیں۔ 6سے12ماہ تک کے بچوں کو دن میں دو مرتبہ جبکہ اس سے بڑی عمرمیں دن میں ایک مرتبہ خوراک دینا کافی ہے۔ اس حوالے سے چند پرہیزیں یہ ہیں

٭پیاز،لہسن، انگور، کشمش، چاکلیٹ، ایووکیڈواورمصنوعی مٹھاس ان کے لئےنقصان دہ ہیں لہٰذا ان کا استعمال نہ کروائیں۔ اگرکبھی کھا لیں تو جانوروں کے ڈاکٹرسے رابطہ کریں۔

٭ان کی خوراک متوازن رکھیں،زیادہ مقدار میں روٹی نہ دیں۔

٭بھٹےسے مکئی کے دانےاتارکردیں۔

٭مرغی یا چھوٹے بڑے کسی بھی گوشت کی ہڈی ابال کر نہ دیں۔ کچے گوشت کی بڑی ہڈیاں دے سکتے ہیں۔ یہ ان کی چبانے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گی ۔

دیکھ بھال کیسے کریں

انہیں دن میں کم ازکم ایک یا زیادہ سے زیادہ دومرتبہ باقاعدگی سے سیرکروائیں۔ رہنے کے لئےصاف ستھری ، خشک اورسایہ دار جگہ مہیا کریں جہاں شدید موسم سے بچنے کا انتظام موجود ہو۔اس کے علاوہ ہرجانورکے سائزکے مطابق خاص قسم کے پنجرےبھی ہوتے ہیں جس میں یہ کھاتے پیتے،سوتے اورباآسانی چل پھرسکتے ہیں۔ ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جانوراکیلا رہتا ہے اوراس کے بیمار ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ دیگرجانوروں کی طرح ان کے دانتوں ، آنکھوں اورکانوں کی صفائی کابھی خاص خیال رکھیں۔ گرمیوں میں ہرچوتھے دن اور سردیوں میں 15سے 20 دنوں بعد نہلائیں۔

صحت کے مسائل

ان جانوروں میں خوراک کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً بچوں کو صرف روٹی کھلانے سے ان کےمعدے میں گیس بھرجاتی ہے۔اسی کی ایک قسم بڑوں میں ہوتی ہےجس میں معدہ پھولنے کے ساتھ ساتھ مڑجاتا ہے۔ یہ زمین پرلوٹ پوٹ ہونے یا اچھلنے کی وجہ سے بھی ہوتا ہےاوربعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مکئی کےبھٹے اورابلی ہوئی ہڈیو ں سےدانتوں کےمسائل جیسے میل کی تہہ جم جانا اوردانت خراب ہوجانا، زیادہ تر بڑی عمراورموٹاپے کے شکارجانوروں میں پیش آتے ہیں۔ لمبے بالوں والے جانورجیسےشٹزو، ٹیرئراورہسکی وغیرہ عموماًجلد کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ زیادہ وزن رکھنےوالے کتوں مثلاً جرمن شیفرڈ اوربلڈوگ وغیرہ کی ہڈیوں اور جوڑوں میں درد ہوسکتا ہے۔

کتوں میں وائرل انفیکشنزمیں ریبیز اور سی پی وی جبکہ بیکٹیریل میں لیپٹوسپائروسس زیادہ عام ہیں۔ ریبیزاعصابی نظام کومتاثرکرنے والی بیماری ہےجوانہیں متاثرہ جانورکے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ اسی طرح سی پی وی ایک متعدی مرض ہے جوزیادہ تردو سے چھ ماہ تک کےان بچوں کومتاثرکرتا ہےجن کی ویکسی نیشن نہ ہوئی ہو۔ یہ متاثرہ جانوروں کی گندگی سے رابطے کی صورت میں پھیلتا ہے۔ تیسرے مرض یعنی لیپٹو سپائروسس کا جرثومہ پانی اورمٹی کے ذریعے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ان تمام بیماریوں سے بچا ؤ کے لئے ان کی ویکسی نیشن کروائیں۔اس کے علاوہ بیمارجانوروں کو صحت مند جانوروں سےالگ رکھیں۔

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

غیر معمولی طورپررال ٹپکنا،پانی سے خوفزدہ ہونا،پیشاب میں خون آنا، ڈائریا آنا، بہت تیزبخارہونا یا جسم ٹھنڈا پڑجانا،چلنے یا چبانے میں دقت ہونا، جھٹکے لگنا ،قےآنا، شدید کمزوری کا شکارہونا، حرکت نہ کرنا، تیز تیزسانس لینا، کھانا چھوڑ کرصرف پانی پینا اورپیٹ میں گیس جمع ہونا وہ علامات ہیں جن میں فوری طورپرڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔

انسانوں کو لگنے والی بیماریاں

ریبیزایک بہت خطرناک مرض ہےجو کتوں سے انسانوں تک منتقل ہوسکتا ہے۔اس لئے تمام افراد بالعموم اوراس جانور کوپالنے والے بالخصوص اس کی ویکسین لگوائیں۔ یہ خشک خارش کی بیماری اورلیپٹوسپائروسس بھی پھیلاتے ہیں جو شدید صورت میں گردوں،جگر اور دیگراعضاء کونقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کی علامات تیزبخار، سردرد، پیٹ درد، آنکھوں اورچہرے کے زرد پڑجانے یا آنکھیں لال ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں تاہم بعض افراد میں یہ نہیں بھی ظاہرہوتیں۔

اہم نکات

٭کوئی جانورکتنا متحرک یا گھلنے ملنے والا ہے، اس کا انحصاراس کی قسم پر ہوتا ہے۔ بعض بہت زیادہ کھیلتے کودتے ، کچھ غصے والے جبکہ کچھ بہت زیادہ بھونکتے ہیں ۔یہ ان کی صحت میں خرابی کی علامت نہیں لہٰذا اس سے پریشان نہ ہوں۔

٭کتوں کا سونے سے پہلے اپنی آرام گاہ کے گرد گول گول گھومنا معمولی بات ہے۔ اگر وہ اس کے علاوہ بھی یہ عمل مسلسل دہرائیں تویہ صحت کے کسی مسئلے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے، اسے نظراندا زنہ کریں۔

٭بعض جانورغذائی کمی کے باعث گھاس کھانے لگتے ہیں۔ یہ ہضم نہ ہونے کے باعث معدے اورآنتوں میں جمع ہوکررکاو ٹ کا باعث بنتی ہے جسے دورکرنے کے لئے سرجری کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

٭ان میں بہت زیادہ پلکیں جھپکانا آنکھیں خشک ہونےیا آنکھ میں کچھ اٹکے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ ایسی صورت میں تازہ پانی سے آنکھیں دھونا مفید ثابت ہوتا ہے۔

dogs, pet care, health issues of dogs, how to take care of dogs

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x