سیو دی چلڈرن کی نئی رپورٹ میں ویڈیو گیمنگ کے مقابلوں میں حصہ لینے والے بچوں کو درپیش خطرات اجاگر کیے گئے ہیں۔ دیر تک بیٹھنے اور رات گئے کھیلنے سے جسمانی درد اور نیند کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ آن لائن ہراسانی اور مقابلے کا دباؤ بھی اضطراب اور افسردگی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
یورو نیوز کے مطابق، دنیا بھر میں اندازاً 25 سے 30 کروڑ بچے گیمنگ مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ رپورٹ میں ٹوئچ کے 20 مقبول سٹریمرز کی 302 نشریات کے تجزیے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ان میں 62 فیصد نشریات میں جنس پرستانہ اور 37 فیصد میں نسل پرستانہ زبان دیکھی گئی۔ معذور افراد کے خلاف توہین آمیز زبان 84 فیصد، جبکہ تشدد پر مبنی زبان 97 فیصد نشریات میں پائی گئی۔
سیو دی چلڈرن نے بچوں کی تربیت، آرام اور آن لائن تحفظ کے واضح اصول بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مقصد گیمنگ کے دوران بچوں کی صحت، تعلیم اور نشوونما کا تحفظ ہے۔