فرانزک سائیکاٹری: نفسیاتی مرض کے زیراثرجرم

0

فرانزک سائیکاٹری: نفسیاتی مرض کے زیراثرجرم

یہ بتائیے کہ’’فرانزک سائیکاٹری‘‘ ہے کیا اوراس کا کام کیا ہے؟

 اس پرگفتگوسے قبل میں تھوڑی سی بات فرانزک پتھالوجی پرکرنا چاہوں گا کیونکہ لوگ ان دونوں کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ فرانزک پتھالوجی کا بنیادی مقصد کسی نعش کا مختلف حوالوں سے جائزہ لے کران عوامل کا پتہ لگانا ہوتا ہے جوممکنہ طور پراس کی موت کا سبب بنے۔ اس کے علاوہ جنسی زیادتی جیسے جرائم میں بھی اس شعبے سے مدد ملتی ہے۔ اس کے لئے لیبارٹری ٹیسٹ‘ فنگرپرنٹس اورڈی این اے وغیرہ کواستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کام ایک میڈیکل ڈاکٹرسرانجام دیتا ہے۔

فرانزک سائیکاٹری اس سے مختلف شعبہ کیسے ہے؟

یہ نفسیاتی علاج (سائیکاٹری)کا ایک خاص ذیلی شعبہ ہے۔ یہ بنیادی طورپران ذہنی بیمارلوگوں کے تجزئیے اورعلاج سے متعلق ہے جو کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا زیادہ تعلق اس مجرم سے ہے جو کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہواوراس کے جرم کا تعلق اس مرض سے ہو۔ جب ایسا جرم ہوتا ہے تو قانون کے سامنے اس کے دو پہلو آتے ہیں جن میں سے ایک بیماری اوردوسرا جرم ہے۔ جرم کی وجہ سے انہیں گرفتارتو کرلیا جاتا ہے لیکن عام لوگوں(جومرض کا شکار نہیں) کے ساتھ عام جیل میں نہیں رکھا جاتا۔ انہیں جیل میں رکھنے کا مقصد صرف قید کرنا نہیں بلکہ ان کا علاج بھی ہوتا ہے۔

نفسیاتی مریض مجرموں کی جیلیں کیسی ہوتی ہیں؟

ان کے معاملے میں انسانی حقوق کا پہلو بھی شامل ہوجاتا ہے۔اگر نفسیاتی معالج یہ رائے دے کہ جیل کا ماحول ان لوگوں کےعلاج کے لئے ٹھیک نہیں تو پھران کے لئے محفوظ یونٹس یا ہسپتالوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کے سیکورٹی لیول کا انحصارہسپتال کی عمارت‘ جرم کی نوعیت اورمجرم سے دوسرے لوگوں اوردوسروں سے اس کی حفاظت کی ضرورت پرہوتا ہے۔ اگرمریض علاج کے بعد اس قابل ہو جائیں کہ انہیں معاشرے میں دیگر لوگوں کے ساتھ رکھا جا سکے توبعض صورتوں میں اس کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں13 سال سے کم عمربچوں کو مخصوص ہسپتالوں میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں تربیت یافتہ عملہ چوری، جسم فروشی، الکوحل اورجنسی زیادتی وغیرہ جیسے جرائم میں ملوث بچوں کاعلاج کرتا ہے۔

کیا بیویوں پرگھریلو تشدد کرنے والے بھی اسی کیٹگری میں آتے ہیں؟

ترقی یافتہ ممالک میں گھریلو تشدد فرانزک سائیکاٹری کا بہت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔ ہمارے شعبے میں جو لوگ آتے ہیں‘ ان میں غیرمعمولی طورپرغصیلے‘ تشدد پسند‘ قاتل ‘ دہشت گرد‘ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے شامل ہیں ۔اس میں وہ افراد بھی ہیں جنہیں نفسیاتی عارضے کے زیراثرلگتا ہے کہ ان پرغیرمرئی قوتوں کا اثر ہے اورانہوں نے جرم انہی کے کہنے پرکیا ہے۔ مثال کے طور پرایک شخص کو ریلوے سٹیشن‘ پارک، بس سٹیشن یا ہسپتال کے باہر چلتے ہوئے اچانک پراسرارآوازیں اورخیال آتا ہے کہ کوئی فرد اس کا دشمن ہے۔ بعض لوگوں کوکوئی خاص چیزدکھائی دینے کا وہم ہوتا ہے۔ ایسا فرد کسی کوماربھی سکتا ہے۔ جرم اگراس تناظر میں ہوا ہو تو پھرفرانزک سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

زینب قتل کیس کے مجرم کے بارے میں کہا گیا کہ اس پر جنات کا سایہ ہے۔ کیا اس میں بھی فرانزک سائیکاٹری کا کرداربنتا ہے؟

اس طرح کے جرم میں اگر مجرم کا وکیل کہے کہ اس کا موکل نفسیاتی مریض ہے تو پھرانصاف کے تقاضے پورا کرنے کے لئے فرانزک سائیکاٹرسٹ کو بلایا جاتا ہے۔ وہ جائزہ لیتا ہے اوررپورٹ تیار کرکے جج کو پیشہ ورانہ مشورہ دیتا ہے کہ ایسا ہے یا نہیں۔ اگر وہ واقعتاً نفسیاتی مریض ہو تومجرم کو جیل یاہسپتال منتقل کرنے یا کمیونٹی میں واپس بھی بھیجنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اگر اس کا ذہنی بیمارہونا ثابت ہوجائے تو باہرکے ملکوں میں جج عام قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ ذہنی صحت کے شعبے کی طرف ریفرکردیتا ہے۔

ذہنی مریض مجرموں کے ہسپتال کس طرح کے ہوتے ہیں؟

ان کی ہیئت جیل جیسی ہوتی ہے‘ تاہم مریضوں کے اردگرد پولیس اہلکارنہیں بلکہ ڈاکٹر، نرسیں اوردیگرعملہ ہوتا ہے۔ عملے کی حفاظت کا پورا انتظام ہوتا ہے۔ اس عملے نے فرانزک سائیکاٹری کے خصوصی کورسز کیے ہوتے ہیں۔ مریض کی ذہنی حالت اورجرم کی نوعیت کو مدنظررکھتے ہوئے سائیکاٹری کے مختلف ٹیسٹوں سے تجزیہ کیا جاتا ہے کہ وہ کس ذہنی حالت سے دوچارہے۔ اس کی بنیاد پرمریض کی سائیکوتھیراپی اورعلاج شروع کردیا جاتا ہے۔

جج ہرچھ ماہ بعد ہسپتال میں عدالت لگاتا ہے جس میں ہسپتال سے باہرکا ایک سائیکاٹرسٹ ‘ وکیل اورکمیونٹی کا ایک فرد ہوتا ہے۔اس میں مریض کی ذہنی صحت میں آنے والی تبدیلیوں کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اسے نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ اگر مریض کا جرم سنگین اورنا قابل معافی ہو تو صحت یاب ہونے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کی جاتی ہے۔

کیا مجرم کو صحت یابی کے بعد سزا بھی دی جاتی ہے ؟

جی ہاں‘ لیکن یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ مثلاً زیادتی کرنے والے ایک شخص نے 10بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔ فرض کریں کہ جج اسے 20سال کی قید کا حکم سنانے کے ساتھ  کہتا ہے کہ اسے ہسپتال لے جائیں‘ ذہنی کیفیات کا تجزیہ کریں اوراگراس کے پس پردہ کچھ نفسیاتی عوامل ہیں تو انہیں دورکرکے اس کا علاج کریں۔ اگرمعالج پانچ یا 10سال کے بعد رپورٹ دیتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے توبعض اوقات اس کی سزا کم بھی ہوجاتی ہے۔ تاہم 60 سے70 فی صد کیسزمیں جج اسے وزارت انصاف کے متعلقہ شعبے میں بھیج دیتا ہے جہاں ایسے انتظامات ہوتے ہیں کہ اسے دوبارہ عام جیل میں نہ بھیجاجائے ۔

یہاں محفوظ یونٹس بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟

ترقی یافتہ ممالک میں اس کام کے لئے سرکاری اورنجی شعبہ جات مل کرکام کرتے ہیں ۔ میرے فہم کے مطابق ہمارے ہاں سب سے پہلے ایک سینٹربنانا چاہئے۔ اس کے ساتھ 10 بیڈز پرمشتمل ایک یونٹ بنایا جائے جوعدالت اورکسی ایک جیل کے ساتھ منسلک ہو۔ایک تربیت یافتہ ٹیم جیل میں جاکرقیدیوں کا معائنہ کرے اوراگر وہ سمجھے کہ کچھ مریضوں کوعلاج کی ضرورت ہے تو انہیں اس یونٹ میں لے آئے۔اصولی طورپرتو اسے’’شعبہ بیرونی مریضاں‘‘ کے طور پر بھی کام کرنا چاہئے۔

کیا اس شعبے کی وجہ سے تفتیش میں بھی مدد ملے گی ؟

ہمارے پاس انٹرویوز کی کچھ تکنیکیں ہیں جو اس میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں ۔ اگرکوئی مجرم کچھ چھپا رہا ہو تو فرانزک سائیکاٹرسٹ اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے ۔

فرانزک سائیکاٹرسٹ کی حیثیت سے کوئی خاص تجربہ آپ شفانیوز کے قارئین کے ساتھ شئیرکرنا چاہیں گے؟

برطانیہ میں 19 سالہ لڑکے کا کیس ہماری طرف ریفرکیا گیا۔ وہ 14سال سے کم عمر بچوں اوربچیوں سے جنسی زیادتی کرتا تھا اوراسی جرم میں گرفتارہوا۔ جج نے اس رویے پررائے مانگی۔ ہم نے مختلف نفسیاتی ٹیسٹوں کے ذریعےمختلف حوالوں سے جائزہ لیا۔ اس دوران کئی باتیں سامنے آئیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس کے سیکھنے کی صلاحیت اورآئی کیو لیول اپنے ہم عمرافراد سے کافی کم تھا۔ مزید گہرائی میں گئے تومعلوم ہوا کہ چھوٹی عمرمیں اس کے سوتیلے باپ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کی ماں بھی منشیات کی عادی تھی لہٰذا اسے فاسڑ ہوم بھیج دیا گیا۔ وہاں ایسے بچوں کو رکھا جاتا ہے جو کسی وجہ سے اپنے والدین کے ساتھ نہیں رکھے جا سکتے۔ بدقسمتی سے وہاں بھی اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ چونکہ اس کے سیکھنے کی صلاحیت کمزورتھی لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ پھروہ منشیات کے استعمال اورفروخت کے دھندے میں پڑ گیا۔ یوں اس کی زندگی میں یہ معمول کی باتیں تھیں۔

وہ منشیات کے لئے چوریاں بھی کرتا تھا لہٰذا اس میں کئی طرح کے مسائل تھے۔ ہم نے اس کے آئی کیوکے مطابق اس کا جائزہ لیا۔اس تناظر میں پہلا سوال تھا کہ کیا اسے سمجھ ہے کہ جنسی زیادتی کتنا بڑا اورحساس معاملہ ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے اوراسے سمجھانے میں مہینوں لگے۔ وہ ایک ایسے فرد کے روپ میں ڈھل رہا تھا جو دوسروں کو جنسی اذیت دے کر خوشی محسوس کرتا ہے۔

 دو یاتین سال تک ہسپتال میں رکھنے کے بعد پہلی دفعہ سٹاف کی نگرانی میں اسے کمیونٹی میں بھیجا گیا۔ پھر دورانیہ بڑھاتے گئے اوربتدریج گھرسے باہر رہنے کی اجازت بھی دے دی۔ ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو ہفتے میں چاریا پانچ دفعہ اس سے ملتی۔ اسے مکمل صحت یابی اورمعاشرے کا مفید حصہ بننے میں چھ سے سات برس لگے۔ حالانکہ اس کا جو جرم تھا‘ اس میں صرف چھ ماہ کی سزا ہوسکتی تھی۔ تاہم اس کی اورمعاشرے کی بہبود کومدنظررکھتے ہوئے وہاں کے سسٹم نے اس پروقت اورپیسے کی سرمایہ کاری کی۔

یہ بتائیے کہ اس شعبے میں جانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

آپ میڈیسن کے جس بھی شعبے میں جانا چاہیں‘ میری رائے میں سب سے پہلے آپ کو ایک اچھا فزیشن ہونا چاہئے۔اس کے لئے آپ کو چاہئے کہ پانچ سالہ ’’ایم بی بی ایس‘‘ کریں اوراس کے بعد سائیکاٹرسٹ بنیں۔اس کے بعد آپ کو فرانزک سائیکاٹری کی چار سالہ ڈگری حاصل کرنا ہوتی ہے جس میں تین اہم شعبوں جرم،ذہنی صحت اورقانون کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مختلف جیلوں اورمحفوظ یونٹس کا دورہ اوران میں کام کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

آخر میں کوئی پیغام جو آپ قارئین یا اس شعبے سے وابستہ لوگوں کو دینا چاہیں؟

 ہم’’ فش‘‘ کے نام سے جو ٹیچنگ پروگرام شروع کرنے لگے ہیں‘ مستقبل میں اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس مرحلے پرکوئی ٹائم فریم دینا مشکل ہے لیکن جب بھی شروع ہو‘ ماہرین نفسیات‘ قانون کے ساتھ وابستہ افراد‘ پولیس اورسماجی کارکن اس سے ضرورفائدہ اٹھائیں ۔اس سے انہیں اورمعاشرے‘ دونوں کو فائدہ ہوگا ۔

serial rapist, foster home, Forensic Institute Shifa Hospital, secure units, forensic psychiatry, forensic pathology

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x