فش آئل سپلیمنٹس کو یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق میں ان میں موجود اومیگا تھری کی قسم ڈی ایچ اے سے یہ فائدہ ثابت نہیں ہوا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دو سالہ تحقیق میں 55 سے 80 سال کے 365 افراد شامل تھے۔ انہیں ڈیمنشیا نہیں تھا، تاہم بیماری کے خطرے کے عوامل موجود تھے۔ ایک گروپ کو ڈی ایچ اے کی زیادہ مقدار اور دوسرے کو بے اثر دوا دی گئی۔
جریدے ای بایومیڈیسن میں شائع نتائج کے مطابق ڈی ایچ اے لینے والوں کے دماغ میں اومیگا تھری کی مقدار بڑھی۔ اس کے باوجود ان کی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں دوسرے گروپ کے مقابلے میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔ دماغی ساخت میں بھی کوئی نمایاں فائدہ سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کے مرکزی مصنف حسین یاسین کے مطابق اومیگا تھری دماغ کے لیے اہم غذائی جزو ہے۔ تاہم اس تحقیق میں اس کی اضافی مقدار سپلیمنٹ کی صورت میں دینے کا فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اومیگا تھری متوازن غذا سے حاصل کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔