Vinkmag ad

ایوسینوفیلیا: خون میں ایوسینوفلز کی زیادتی

Close-up of a blood sample tube for eosinophilia testing

ایوسینوفیلیا (Eosinophilia) ایسی کیفیت ہے جس میں خون کے سفید خلیوں کی ایک خاص قسم، یعنی ایوسینوفلز، کی تعداد معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ یہ خلیے جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی تعداد کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ (سی بی سی) کے ذریعے معلوم کی جاتی ہے۔ یہ کیفیت اکثر پیراسائیٹ کی وجہ سے انفیکشن، الرجی یا بعض اقسام کے کینسر کی علامت ہوتی ہے۔

اگر خون میں ایوسینوفلز کی تعداد زیادہ ہو تو اسے بلڈ ایوسینوفیلیا کہا جاتا ہے۔ اگر سوجن والے ٹشوز میں ان کی تعداد زیادہ ہو تو اسے ٹشو ایوسینوفیلیا کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ٹشو ایوسینوفیلیا کی تشخیص بائیوپسی سے ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ خون میں بھی ایوسینوفلز کی مقدار زیادہ ہو۔

خون کی ایوسینوفیلیا کا پتہ سی بی سی جیسے بلڈ ٹیسٹ سے چلتا ہے۔ بالغ افراد میں خون کے ایک مائیکرولیٹر میں 500 سے زیادہ ایوسینوفلز کی موجودگی کو ایوسینوفیلیا سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ تعداد کئی ماہ تک 1,500 سے زیادہ رہے تو اسے ہائپر ایوسینوفیلیا کہا جاتا ہے۔

وجوہات

ایوسینوفلز مدافعتی نظام میں دو بنیادی کردار ادا کرتے ہیں:

٭ نقصان دہ مادوں کو ختم کرنا

٭ انفیکشن پر قابو پانا

ایوسینوفیلیا اس وقت ہوتا ہے جب خون کے سفید خلیوں کی ایک خاص قسم، یعنی ایوسینوفلز، جسم کے کسی حصے میں غیر معمولی تعداد میں جمع ہو جائیں یا ہڈی کا گودا انہیں ضرورت سے زیادہ مقدار میں بنانے لگے۔ اس کے ممکنہ اسباب میں شامل ہیں:

٭ پیراسائیٹ اور فنگس سے ہونے والی بیماریاں

٭ الرجی کے ری ایکشن

٭ ایڈرینل غدود کی بیماریاں

٭ جلد کے امراض

٭ زہریلے مادے

٭ خودکار مدافعتی بیماریاں

٭ اینڈوکرائن غدود کی بیماریاں

٭ رسولیاں

سبب بننے والے امراض

وہ بیماریاں اور کیفیات جو خون یا ٹشوز میں ایوسینوفیلیا پیدا کر سکتی ہیں، ان میں شامل ہیں:

٭ ایکیوٹ مائیلوجینس لیوکیمیا (اے ایم ایل)

٭ الرجی

٭ اسکاریاسس (راؤنڈ وارم کا انفیکشن)

٭ دمہ

٭ ایگزیما

٭ کینسر

٭ ای جی پی اے (خون کی نالیوں کی سوزش)

٭ کروہن کی بیماری (آنتوں کی سوزش کی ایک قسم)

٭ دواؤں سے الرجی

٭ غذائی نالی کی ایوسینوفیلی سوزش

٭ ایوسینوفیلیک لیوکیمیا

٭ پولن الرجی

٭ ہاجکن لمفوما

٭ ہائپر ایوسینوفیلیئک سنڈروم

٭ نامعلوم وجہ سے ہائپر ایوسینوفیلیک سنڈروم، جس میں ایوسینوفلز کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے

٭ لمفیٹک فائلیریاسس (پیراسائیٹک انفیکشن)

٭ بیضہ دانی کا کینسر

٭ پیراسائیٹک انفیکشن

٭ بنیادی مدافعتی کمزوری

٭ ٹرائیکینوسس (راؤنڈ وارم کا انفیکشن)

٭ السریٹو کولائٹس (آنتوں کی سوزش کی ایک قسم)

پیراسائیٹک انفیکشن اور دواؤں سے الرجی ایوسینوفیلیا کی عام وجوہات ہیں۔ ہائپر ایوسینوفیلیا جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہائپر ایوسینوفیلیک سنڈروم کی وجہ اکثر معلوم نہیں ہوتی، لیکن بعض اوقات یہ ہڈی کے گودے یا لمف نوڈ کے کینسر سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اکثر ایوسینوفیلیا کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کسی دوسری بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہوں۔ تاہم، بعض اوقات یہ اتفاقاً بھی سامنے آ جاتی ہے۔

ایوسینوفیلیا کے ساتھ دیگر ٹیسٹوں کے نتائج بیماری کی اصل وجہ جاننے میں مدد دیتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو ہائپر ایوسینوفیلیک سنڈروم ہو تو ڈاکٹر کورٹیکو سٹیرائڈز جیسی ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔ چونکہ یہ کیفیت وقت کے ساتھ سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، اس لیے باقاعدہ طبی معائنہ اور فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=medical-specialist

Vinkmag ad

Read Previous

پروسٹیٹ کا بڑھ جانا

Read Next

بارتھولن سسٹ: خواتین کی صحت کا ایک عام مسئلہ

Leave a Reply

Most Popular