Vinkmag ad

پروسٹیٹ کا بڑھ جانا

A urologist explaining enlarged prostate (Benign Prostatic Hyperplasia - BPH) to a male patient during a medical consultation

پروسٹیٹ کا بڑھ جانا (Enlarged prostate) عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والا ایک عام طبی مسئلہ ہے۔ اس کیفیت کو بی پی ایچ (Benign Prostatic Hyperplasia – BPH) یا پروسٹیٹ کا غیر سرطانی طور پر بڑھنا کہا جاتا ہے۔

جب پروسٹیٹ بڑا ہو جاتا ہے تو یہ پیشاب کی نالی پر دباؤ ڈالنے لگتا ہے، جس سے پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیشاب کرنے میں دشواری، مثانے کے مسائل اور بعض صورتوں میں پیشاب کی نالی یا گردوں سے متعلق پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

پروسٹیٹ کا سائز ہمیشہ علامات کی شدت کی عکاسی نہیں کرتا۔ بعض افراد میں معمولی بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کے باوجود شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں پروسٹیٹ کافی بڑا ہونے کے باوجود علامات معمولی ہوتی ہیں۔ بعض افراد کو کوئی علامت محسوس ہی نہیں ہوتی۔

علامات

پروسٹیٹ کا بڑھ جانا درج ذیل علامات کا سبب بن سکتا ہے:

٭ بار بار یا اچانک پیشاب کی حاجت محسوس ہونا

٭ رات کے وقت بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا

٭ پیشاب شروع کرنے میں دشواری ہونا

٭ پیشاب کی دھار کا کمزور یا رک رک کر آنا

٭ پیشاب مکمل ہونے پر چند قطرے ٹپکنا

٭ مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس ہونا

کم عام علامات

کم عام علامات میں شامل ہیں:

٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن

٭ پیشاب بند ہو جانا

٭ پیشاب میں خون آنا

یہ علامات عموماً وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، لیکن بعض افراد میں ایک جیسی رہتی ہیں یا علاج کے بغیر بھی کسی حد تک بہتر ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ کو مذکورہ علامات میں سے کوئی بھی علامت محسوس ہو تو معالج سے ضرور مشورہ کریں، چاہے وہ زیادہ پریشان کن نہ ہو۔ بروقت معائنہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ علامات کی کوئی اور قابلِ علاج وجہ تو موجود نہیں۔ علاج میں تاخیر کرنے سے پیشاب کی نالی مکمل بند ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر آپ بالکل پیشاب نہ کر سکیں تو فوراً ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔

وجوہات

مثانے سے پیشاب کو عضو تناسل کے ذریعے جسم سے خارج کرنے والی نالی کو پیشاب کی نالی کہا جاتا ہے۔ یہ نالی پروسٹیٹ کے درمیان سے گزرتی ہے۔ جب پروسٹیٹ کا سائز بڑھ جاتا ہے تو یہ پیشاب کی نالی پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے پیشاب کا بہاؤ متاثر ہونے لگتا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پروسٹیٹ کیوں بڑھتا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جنسی ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں اس کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل پروسٹیٹ بڑھنے کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں:

عمر بڑھنا: 40 سال کی عمر سے پہلے اس بیماری کی علامات کم ہی ظاہر ہوتی ہیں، لیکن اس کے بعد خطرہ بتدریج بڑھنے لگتا ہے

فیملی ہسٹری: اگر خاندان کے کسی فرد کو پروسٹیٹ کا مسئلہ رہا ہو تو اس بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے

ذیابیطس اور دل کی بیماری: بعض تحقیقات کے مطابق ذیابیطس اور دل کی بعض بیماریاں بی پی ایچ کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں

طرزِ زندگی۔ موٹاپا اس بیماری کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جبکہ باقاعدہ ورزش خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے

پیچیدگیاں

علاج نہ ہونے کی صورت میں پروسٹیٹ کا بڑھ جانا مختلف پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ پیشاب مکمل بند ہو جانا

٭ پیشاب کی نالی کا بار بار انفیکشن

٭ مثانے کی پتھری

٭ مثانے کو نقصان

٭ گردوں کو نقصان

غیر سرطانی پروسٹیٹ کا بڑھ جانا پروسٹیٹ کینسر کے خطرے میں اضافہ نہیں کرتا۔

تشخیص

معالج سب سے پہلے آپ کی علامات، میڈیکل ہسٹری اور مجموعی صحت کے بارے میں سوالات کرے گا۔ اس کے بعد جسمانی معائنہ کیا جائے گا، جس میں درج ذیل ٹیسٹ شامل ہو سکتے ہیں:

٭ مقعد کے ذریعے انگلی سے پروسٹیٹ کا معائنہ، تاکہ اس کے سائز کا اندازہ لگایا جا سکے

٭ پیشاب کا ٹیسٹ، جس سے انفیکشن یا دیگر بیماریوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے

٭ خون کا ٹیسٹ، جس سے گردوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے

تصدیق کے لیے ٹیسٹ

ابتدائی معائنے کے بعد بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کی تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ پی ایس اے بلڈ ٹیسٹ

٭ پیشاب کے بہاؤ کا ٹیسٹ، جس سے پیشاب کی رفتار اور مقدار معلوم کی جاتی ہے

٭ پیشاب کرنے کے بعد مثانے میں باقی رہ جانے والے پیشاب کی مقدار کا ٹیسٹ، جو الٹراساؤنڈ یا کیتھیٹر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے

٭ 24 گھنٹے کی پیشاب کی ڈائری

پیچیدہ علامات کی صورت میں ٹیسٹ

اگر علامات پیچیدہ ہوں یا مزید جانچ کی ضرورت ہو تو معالج درج ذیل ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے:

٭ مقعد کے ذریعے پروسٹیٹ کا الٹراساؤنڈ

٭ پروسٹیٹ بائیوپسی

٭ مثانے کے دباؤ اور پیشاب کے بہاؤ کے خصوصی ٹیسٹ

٭ سسٹوسکوپی، جس میں باریک کیمرے کی مدد سے پیشاب کی نالی اور مثانے کا اندرونی معائنہ کیا جاتا ہے

علاج

اگر علامات معمولی ہوں اور روزمرہ زندگی کو زیادہ متاثر نہ کر رہی ہوں تو معالج فوری علاج کے بجائے کچھ عرصہ نگرانی کا مشورہ دے سکتا ہے۔ اس دوران علامات پر نظر رکھی جاتی ہے تاکہ ان میں بہتری یا خرابی کا بروقت اندازہ ہو سکے۔ بعض افراد میں علامات علاج کے بغیر بھی کسی حد تک بہتر ہو جاتی ہیں۔

ادویات

ہلکی یا درمیانی شدت کی علامات کے علاج میں ادویات سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں:

٭ الفا بلاکرز، جو پروسٹیٹ کے پٹھوں کو ڈھیلا کرتی ہیں، جس سے پیشاب کا بہاؤ بہتر ہو جاتا ہے

٭ فائیو الفا ریڈکٹیز انہیبیٹرز، یہ ادویات ہارمونز میں ہونے والی ان تبدیلیوں کو کم کرتی ہیں جو پروسٹیٹ کے بڑھنے کا باعث بنتی ہیں

٭ اگر ایک دوا سے مطلوبہ فائدہ نہ ہو تو معالج الفا بلاکر اور فائیو الفا ریڈکٹیز انہیبیٹرز ایک ساتھ تجویز کر سکتا ہے

٭ مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا پروسٹیٹ کی علامات میں بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے

سرجری اور دیگر جدید طریقۂ علاج

سرجری کب مفید؟

اگر ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں یا علامات شدید ہوں تو سرجری یا دیگر جدید پروسیجرز تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ سرجری درج ذیل صورتوں میں مفید ثابت ہو سکتی ہے:

٭ ادویات سے مناسب فائدہ نہ ہو

٭ مریض ادویات استعمال نہ کرنا چاہے

٭ پیشاب مکمل بند ہو جائے

٭ گردوں کے مسائل پیدا ہو جائیں

٭ مثانے میں بار بار پتھری، پیشاب میں خون یا پیشاب کی نالی کا انفیکشن ہو

سرجری کب مفید نہیں؟

بعض حالات میں سرجری مناسب نہیں ہوتی، مثلاً:

٭ پیشاب کی نالی کا غیر علاج شدہ انفیکشن

٭ پیشاب کی نالی کا شدید تنگ ہونا

٭ پروسٹیٹ پر پہلے شعاعی علاج یا پیشاب کی نالی کی سرجری ہو چکی ہو

٭ اعصابی بیماریاں، جیسے پارکنسن کی بیماری یا ملٹی پل اسکلروسس

ہر قسم کی سرجری یا پروسیجر کے بعد کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں:

٭ انزال کے دوران منی کا عضو تناسل کے بجائے مثانے میں چلا جانا

٭ پیشاب پر قابو نہ رہنا

٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن

٭ خون بہنا

٭ عضوِ تناسل کی سختی برقرار رکھنے میں دشواری

سرجری کی اقسام

غیر سرطانی پروسٹیٹ کے علاج کے لیے مختلف جراحی اور جدید طبی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:

پیشاب کی نالی کے ذریعے پروسٹیٹ کا جزوی اخراج (TURP): اس طریقے میں دوربین نما آلہ پیشاب کی نالی کے ذریعے داخل کر کے اضافی پروسٹیٹ ٹشو نکال دیا جاتا ہے

پیشاب کی نالی کے ذریعے پروسٹیٹ میں چیرا (TUIP): اس میں پروسٹیٹ میں ایک یا دو چھوٹے چیروں کے ذریعے پیشاب کی نالی پر دباؤ کم کیا جاتا ہے

مائیکروویو تھرمو تھراپی (TUMT): اس طریقے میں ایک خاص کیتھیٹر کے ذریعے مائیکروویو انرجی استعمال کر کے اضافی پروسٹیٹ ٹشو کو ختم کیا جاتا ہے

لیزر تھراپی: طاقتور لیزر کی مدد سے اضافی پروسٹیٹ ٹشو کو ختم یا نکالا جاتا ہے۔ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں یہ طریقہ نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے

پروسٹیٹ لفٹ: اس طریقے میں خصوصی امپلانٹس کے ذریعے پروسٹیٹ کے دونوں حصوں کو الگ رکھا جاتا ہے تاکہ پیشاب کی نالی کھل جائے۔ اس سے جنسی مضر اثرات کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے

بھاپ سے علاج: اس طریقے میں بھاپ کی حرارت سے اضافی پروسٹیٹ ٹشو کو سکیڑا جاتا ہے

روبوٹک واٹر جیٹ علاج: اس میں روبوٹک نظام کے ذریعے تیز رفتار پانی کے باریک دھاروں سے اضافی پروسٹیٹ ٹشو نکالا جاتا ہے

اوپن یا روبوٹک پروسٹیٹ سرجری: اگر پروسٹیٹ بہت زیادہ بڑا ہو تو پیٹ کے نچلے حصے میں چیرا لگا کر اضافی ٹشو نکالا جاتا ہے

پروسٹیٹ آرٹری ایمبولائزیشن (PAE): اس طریقے میں پروسٹیٹ کو خون پہنچانے والی مخصوص شریانوں کو بند کیا جاتا ہے، جس سے پروسٹیٹ کا سائز کم ہونے لگتا ہے اور علامات میں بہتری آ سکتی ہے

طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطیں

طرزِ زندگی میں چند آسان تبدیلیاں علامات کو کم کرنے اور روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں:

٭ سونے سے ایک یا دو گھنٹے پہلے پانی اور دیگر مشروبات پینا کم کر دیں

٭ کیفین اور الکوحل والے مشروبات سے پرہیز کریں

٭ زیادہ مصالحے دار غذاؤں کا استعمال محدود رکھیں

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

باتھ روم سے متعلق درج ذیل عادات بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں:

٭ پیشاب کی حاجت محسوس ہوتے ہی بیت الخلا جائیں

٭ دن کے دوران مقررہ وقفوں سے پیشاب کرنے کی عادت اپنائیں

٭ ایک بار پیشاب کرنے کے چند لمحوں بعد دوبارہ پیشاب کی کوشش کریں تاکہ مثانہ زیادہ بہتر انداز میں خالی ہو سکے

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا پروسٹیٹ کا بڑھ جانا کینسر ہے؟

نہیں۔ اس میں پروسٹیٹ غدود کا سائز بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ جسم کے دوسرے حصوں میں نہیں پھیلتا اور نہ ہی خود بخود پروسٹیٹ کینسر میں تبدیل ہوتا ہے۔

کیا ہر مریض کو سرجری کرانا ضروری ہوتی ہے؟

نہیں۔ سرجری صرف ان صورتوں میں تجویز کی جاتی ہے جب علامات شدید ہوں، ادویات سے فائدہ نہ ہو یا پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں۔

کیا پروسٹیٹ کا بڑھ جانا عمر بڑھنے کے ساتھ عام ہوتا ہے؟

جی ہاں۔ یہ عمر سے وابستہ ایک عام طبی مسئلہ ہے۔ 40 سال کے بعد اس کا خطرہ بڑھنے لگتا ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ اس کے امکانات مزید زیادہ ہو جاتے ہیں۔

کیا غیر سرطانی پروسٹیٹ کا بڑھ جانا گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟

اگر بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے اور پیشاب کی شدید رکاوٹ پیدا ہو جائے تو مثانے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو بعد میں گردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے علامات ظاہر ہونے پر جلد معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist

Vinkmag ad

Read Previous

نوزائیدہ بچوں میں یرقان

Read Next

ایوسینوفیلیا: خون میں ایوسینوفلز کی زیادتی

Leave a Reply

Most Popular