حالیہ عرصے میں ہارمونز سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاص طور پر کورٹیسول کو صحت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کئی انفلوئنسرز ہائی کورٹیسول کی علامات رات کو جاگنے سے جوڑتے ہیں۔ وہ چہرے کی سوجن اور پیٹ کی چربی کو بھی اسی ہارمون سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ مختلف غذائی اور ورزشی طریقے بھی تجویز کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورٹیسول جسم کے لیے ایک ضروری ہارمون ہے۔ یہ ایڈرینل غدود سے خارج ہوتا ہے اور جسمانی توازن قائم رکھتا ہے۔ کورٹیسول مدافعتی نظام، میٹابولزم اور بلڈ پریشر کو منظم کرتا ہے۔ یہ ہارمون دن کے مختلف اوقات میں قدرتی طور پر کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔
ان کے مطابق کورٹیسول سے متعلق طبی مسائل عمومی طور پر بہت ہی کم ہیں۔ اس لیے، اس پر بہت زیادہ تشویش غیر ضروری ہے۔ ڈاکٹرز بغیر مشورے کے لیب ٹیسٹ کرانے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ غیر مصدقہ سپلیمنٹس کے استعمال سے بھی خبردار کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔