دانتوں اور مسوڑھوں میں پیپ

منہ میں جراثیم کی موجودگی دانتوں پر میل کی تہہ جم جانے یعنی پلاک کا سبب بنتی ہے۔ اس کے بعد دانتوں کو صاف نہ کیا جائے تو پلاک میں موجود بیکٹیریا دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً منہ، مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ انہی میں سے ایک بیماری دانتوں کا پھوڑا بھی ہے جس میں دانتوں اور مسوڑھوں میں پیپ پڑ جاتی ہے۔

سنٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن، امریکہ کے مطابق 5 سے 12 سال کی عمر کے 20 فی صد بچوں کا کم از کم ایک دانت ضرور خراب ہو چکا ہوتا یا خراب ہو رہا ہوتا ہے۔ بڑوں میں اس مسئلے کی شرح 13 فی صد ہے۔

دانتوں اور مسوڑھوں میں پیپ کی وجوہات

پھوڑا دراصل دانتوں میں انفیکشن کے بعد سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ دانتوں میں انفیکشن کے امکانات کو بڑھانے والے عوامل یہ ہیں:

٭باقاعدگی سے برش یا فلاس نہ کرنا۔

٭میٹھی یا سٹارچ کی حامل اشیاء زیادہ استعمال کرنا۔

٭دانتوں اور مسوڑھوں میں سرجری کے بعد کا زخم جو ٹھیک نہ ہوا ہو۔

٭مسوڑھوں کی بیماری۔

٭کمزور قوت مدافعت والے افراد میں انفیکشن کا بر وقت علاج نہ ہونا۔

٭مخصوص ادویات مثلاً کیموتھیراپی کے مضر اثرات یا بیماریوں کے باعث منہ کا خشک ہو جانا۔

پھوڑا کیسے بنتا ہے

اس کے بننے کے عمل کو سمجھنے کے لیے دانتوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں پہلا حصہ بالائی تہہ یعنی اینیمل، دوسرا اس کے نیچے ایک تہہ یعنی ڈینٹین جبکہ تیسرا اس کے نیچے ایک نس ہے۔

٭انفیکشن کی صورت میں سب سے قبل دانت کی بالائی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ نتیجتاً اس میں کیڑا لگتا اور سوراخ ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے میں درد نہیں ہوتا اور نہ کوئی اور علامت محسوس ہوتی ہے۔ دانت کی بھرائی سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

٭پہلے مرحلے کو نظر انداز کیا جائے تو بالائی تہہ سے کیڑا ڈینٹین تک منتقل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً دانت کی حساسیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، تھوڑا بہت درد ہوسکتا ہے اور اس میں ٹھنڈا گرم لگنے لگتا ہے۔ اس کا علاج بھی دانت کی بھرائی ہی ہوتا ہے۔

٭دوسرے مرحلے کے بعد علاج میں تاخیر ہو تو دانتوں کے اندر موجود رگ کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ اس کے اردگرد خون کی نالیاں ہوتی ہیں لہٰذا اس موقع پر متاثرہ شخص کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔ پھر یہی رگ آہستہ آہستہ مردہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مردہ رگ کو نکال کر نالی کی بھرائی کی جاتی ہے۔ اس عمل کو روٹ کنال کہتے ہیں۔

٭روٹ کنال نہ کی جائے تو انفیکشن رگ کے سرے پر پہنچتا ہے اور وہاں پھوڑا بننے لگتا ہے۔ اس نالی کے باہر ہڈیاں اور جلد ہوتی ہے۔ چونکہ پھوڑے کے اندر بھری پیپ کو خارج ہونا ہوتا ہے لہٰذا یہ ہڈی میں سوراخ کرتی ہوئی باہر نکل کر جلد کے نیچے جمع ہو جاتی ہے۔ پھر پھوڑا خود ہی پھٹ جاتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو مریض کو بخار ہو جاتا ہے اور پیپ نکالنے کے لیے ڈاکٹر اسے چیرا دیتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد بھی روٹ کنال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

علاج کے آپشنز کو مدنظررکھتے ہوئے مریض کو پروسیجر سے پہلے لوکل انستھیزیا دے کر متاثرہ حصے کو سن کر لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں اسے مکمل بے ہوش بھی کیا جاسکتا ہے۔

علامات کیا ہیں

اس صورت میں متاثرہ حصے کی سائیڈ پر موجود کان، ناک اور گردن میں درد ہوتا ہے۔ لیٹتے ہوئے زیادہ تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چہرے پر سوزش اور سوجن، دانت ہلنا یا نرم ہو جانا، مسوڑھوں میں سوزش اور سوجن، دانتوں میں ٹھنڈا گرم لگنا، منہ سے بدبو آنا اور منہ کا ذائقہ خراب ہونا بھی اسی کی علامات ہیں۔

صحت مند دانت اور مسوڑھے

دانتوں اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھ کر اس کیفیت سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدگی سے فلاس کریں یا دانتوں کے درمیان استعمال ہونے والا ٹوتھ برش دن میں ایک مرتبہ ضرور استعمال کریں۔ فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دن میں دو مرتبہ کم از کم دو منٹ کے لیے دانتوں کو برش کرنا بھی ضروری ہے۔ کھانوں کے درمیان وقفے یا سونے سے قبل نشاستہ داریا میٹھی اشیائے خورونوش کے استعمال سے بھی گریز کریں۔

دانتوں کا پھوڑا پھٹ جائے تو رفتہ رفتہ درد کی شدت کم ہوتی رہتی ہے مگر اس کے بعد بھی باقاعدہ علاج کی ضرورت رہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انفیکشن جبڑوں، سر اور گردن کے علاوہ پورے جسم میں پھیل سکتا ہے۔ لہٰذا پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بروقت علاج کو ترجیح دیں۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے دانتوں کا معائنہ کرواتے رہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Beat diabetes before it beats you

Read Next

MYTH: Pregnant women should avoid exercise

Leave a Reply

Most Popular