ڈینگی بخار مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے۔ ہلکے ڈینگی بخار میں تیز بخار اور فلو جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی شدید قسم زیادہ خون بہنے، اچانک بلڈ پریشر گرنے، حتیٰ کہ موت کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچرز ڈینگی بخار کے ویکسین پر کام کر رہے ہیں، تاہم اس وقت مچھروں سے بچنا، اور ان کی افزائش کم کرنا ہیں۔
علامات
کچھ لوگوں میں ڈینگی انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ جب وہ ظاہر ہوں تو بعض اوقات انہیں دیگر بیماریوں کی علامات کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے۔ یہ مچھر کے کاٹنے کے 4 سے 10 دن بعد شروع ہوتی ہیں۔ ڈینگی بخار درج ذیل علامات پیدا کر سکتا ہے:
٭ تیز بخار
٭ سر درد
٭ پٹھوں، ہڈیوں یا جوڑوں میں درد
٭ متلی
٭ قے
٭ آنکھوں کے پیچھے درد
٭ سوجے ہوئے غدود
٭ ریشز
شدید ڈینگی
زیادہ تر لوگ ایک ہفتے میں صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں علامات بگڑ کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسے شدید ڈینگی، ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سنڈروم کہا جاتا ہے۔
شدید ڈینگی میں خون کی نالیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ رسنے لگتی ہیں۔ بلڈ میں پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جس سے شاک، اندرونی خون بہنے، اعضا ناکارہ ہونے اور موت کی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
شدید ڈینگی کی علامات جلد ظاہر ہو سکتی ہیں، اور یہ جان لیوا ہنگامی حالت ہیں۔ یہ علامات بخار ختم ہونے کے پہلے ایک دو دن میں شروع ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ شدید پیٹ درد
٭ مسلسل قے
٭ مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا
٭ پیشاب، پاخانے یا قے میں خون آنا
٭ جلد کے نیچے خون بہنا، جو سوجن یا زخم لگ سکتا ہے
٭ سانس لینے میں دشواری یا تیزی
٭ تھکن
٭ چڑچڑاپن یا بے چینی
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
شدید ڈینگی بخار ایک جان لیوا ہنگامی حالت ہے۔ اگر آپ حال ہی میں ایسے علاقے میں گئے ہیں جہاں ڈینگی عام ہے تو محتاط رہیں۔ علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔ انتہائی علامات میں شدید پیٹ درد، قے، سانس لینے میں دشواری، یا ناک، مسوڑھے، قے یا پاخانہ میں خون شامل ہیں۔ اگر آپ حال ہی میں سفر کر کے واپس آئے ہیں اور بخار یا ہلکی علامات ظاہر ہوں، تو بھی فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
اسباب
ڈینگی بخار چار اقسام کے ڈینگی وائرس میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ متاثرہ شخص کے قریب رہنے سے نہیں، بلکہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔
دو قسم کے مچھر جو اکثر ڈینگی وائرس پھیلانے میں شامل ہیں، انسانی رہائش کے آس پاس عام ہیں۔ جب مچھر کسی متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے، تو وائرس مچھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر دوسرے شخص کو کاٹنے پر وائرس اس کے خون میں چلا جاتا ہے اور انفیکشن پیدا کرتا ہے۔ ڈینگی بخار سے صحتیاب ہونے کے بعد وائرس کی اس قسم کے لیے طویل مدتی مدافعت مل جاتی ہے۔ یہ مدافعت باقی تین وائرسز کی اقسام کے لیے نہیں۔
اگر آپ دوبارہ ڈینگی بخار سے متاثر ہوں، تو شدید ڈینگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
آپ کو ڈینگی یا اس کی شدید شکل ہونے کا زیادہ خطرہ ہے اگر:
٭ آپ گرم علاقوں میں رہتے ہیں یا سفر کرتے ہیں، جہاں وائرس عام ہے
٭ آپ پہلے ڈینگی بخار سے متاثر ہو چکے ہیں
پیچیدگیاں
٭ شدید ڈینگی بخار اندرونی خون بہنے اور اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے
٭ بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر سکتا ہے، جس سے شاک ہو سکتا ہے
٭ کچھ صورتوں میں شدید ڈینگی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے
٭ حاملہ خواتین میں ڈینگی وائرس بچے تک منتقل ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کی شرح کم ہے
ویکسین
٭ امریکہ کے بعض علاقوں میں 6 سے 60 سال کے افراد کے لیے ڈینگی بخار کی ویکسین دستیاب ہے۔
٭ ویکسین کی خوراک دو یا تین مرتبہ دی جاتی ہے۔
٭ یہ ان افراد کے لیے ہے جو پہلے ڈینگی بخار سے متاثر ہو چکے ہوں۔
٭ ایف ڈی اے نے ڈینگی ویکسین (Dengvaxia) کو 9 سے 16 سال کے ان بچوں کے لیے منظور کیا جو پہلے اس سے متاثر ہو چکے ہوں، اور ایسے علاقوں میں رہتے ہوں جہاں ڈینگی عام ہے۔
مچھر سے بچاؤ
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ویکسین اکیلی کافی نہیں۔ مچھر سے بچاؤ اور مچھروں کی افزائش کنٹرول کرنا بنیادی طریقے ہیں۔ اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے یا سفر کرتے ہیں جہاں ڈینگی عام ہے، تو درج ذیل احتیاطی اقدامات مددگار ہیں:
٭ ایئر کنڈیشنڈ والے مکان میں رہیں
٭ صبح اور شام کے اوقات میں کھڑکیاں اور دروزے بند رکھیں
٭ لمبے بازو والی شرٹ، لمبی پتلون، موزے اور جوتے پہنیں
٭ مچھر سے بچاؤ کیلئے ، کم از کم 10 فیصد ڈی ای ای ٹی والی کریم یا سپرے استعمال کریں
٭ پانی جمع ہونے والی چیزیں، جیسے ٹائر، برتن اور گلدان وغیرہ صاف کریں اور ڈھانپ کر رکھیں
تشخیص
٭ ڈینگی بخار کی تشخیص مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی علامات دیگر بیماریوں جیسے چکن گونیا، زیکا، ملیریا اور ٹائیفائیڈ سے مشابہت رکھتی ہیں
٭ ڈاکٹر آپ سے میڈیکل اور سفر کی ہسٹری پوچھیں گے
٭ مچھروں کے ساتھ رابطے کی معلومات لیں گے
٭ ڈاکٹر خون کا ٹیسٹ بھی کروا سکتے ہیں تاکہ ڈینگی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو سکے
علاج
ڈینگی بخار کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ صحتیاب ہونے کے دوران کافی مقدار میں پانی پئیں۔ اگر یہ علامات ظاہر ہوں، فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
٭ پیشاب کم ہونا
٭ آنسو نہ آنا
٭ منہ یا ہونٹ خشک ہونا
٭ تھکن یا الجھن
٭ سرد یا نم ہاتھ پاؤں
او ٹی سی ادویات اسپرین، بروفین اور نیپروکسن استعمال نہ کریں کیونکہ یہ خون بہنے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔
شدید ڈینگی کا ہسپتال میں ممکنہ علاج
٭ آئی وی فلوئیڈ اور الیکٹرولائٹ کی بحالی
٭ بلڈ پریشر کی نگرانی
٭ خون کی کمی کی صورت میں ٹرانسفیوژن
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔