سسٹو سکوپی (Cystoscopy) معائنے کا وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ڈاکٹڑ مثانے کی اندرونی جھلی اور پیشاب کی نالی کا معائنہ کرتا ہے۔ سسٹوسکوپ ایک باریک نالی نما آلہ ہوتا ہے، جو لچکدار یا سخت ہو سکتا ہے۔ اس کے سرے پر ایک عدسہ یا کیمرہ لگا ہوتا ہے۔ ڈاکٹراس آلے کو پیشاب کی نالی کے ذریعے آہستہ آہستہ مثانے تک لے جاتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
سسٹوسکوپی مثانے اور پیشاب کی نالی کو متاثر کرنے والی مختلف بیماریوں کی تشخیص اورعلاج کے لیے کی جاتی ہے۔
مردوں میں اس کے ذریعے پروسٹیٹ غدود کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ان صورتوں میں
سسٹوسکوپی تجویز کر سکتا ہے۔
علامات کی وجہ معلوم کرنے کے لیے:
ان علامات میں پیشاب میں خون آنا، پیشاب پر قابو نہ رہنا، اچانک بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہونا اور پیشاب کرتے وقت درد شامل ہیں۔ بار بار ہونے والے پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی وجہ معلوم کرنے میں بھی سسٹوسکوپی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر آپ کو اس وقت پیشاب کی نالی کا انفیکشن ہو تو عموماً سسٹوسکوپی نہیں کی جاتی
مثانے کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے:
اس کے ذریعے مثانے کے کینسر اور مثانے کی پتھری جیسی بیماریوں کی
تشخیص کی جا سکتی ہے
مثانے کی بعض بیماریوں کے علاج کے لیے:
معالج سسٹوسکوپ کے ذریعے خصوصی آلات مثانے تک پہنچا کر
بعض بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔
پروسٹیٹ غدود کے بڑھنے کی تشخیص کے لیے:
سسٹوسکوپی سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پروسٹیٹ غدود سے گزرنے والی پیشاب کی نالی تنگ تو نہیں ہو گئی۔ یہ تنگی پروسٹیٹ غدود کے معمول سے زیادہ بڑھ جانے کی علامت ہو سکتی ہے،
جسے بےضرر پروسٹیٹ بھی کہا جاتا ہے۔
علاج سے پہلے
سسٹوسکوپی سے پہلے ڈاکٹرآپ کو یہ ہدایات دے سکتا ہے:
٭ اگر آپ کو انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو تو ڈاکٹرسسٹوسکوپی سے پہلے اینٹی بایوٹکس تجویز کر سکتا ہے
٭ سسٹوسکوپی سے پہلے ڈاکٹر پیشاب کا ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ اس کے لئےوقت سے پہلے مثانہ خالی نہ کریں
٭ اگرآپ کو بازو کی رگ کے ذریعے سکون آور یا بے ہوشی کی دوا دی جائے تو کسی ذمہ دار فرد کو اپنے ساتھ رکھیں، تاکہ وہ آپ کو گھر لے جا سکے۔
دورانِ علاج
معائنے کے کمرے میں کی جانے والی سادہ سسٹوسکوپی عموماً 5 سے 15 منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ اسپتال میں
سکون آور یا بے ہوشی کی دوا کے ساتھ کی جائے تو اس میں عموماً 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں۔
سسٹوسکوپی کے دوران عموماً یہ مراحل ہوتے ہیں:
٭سب سے پہلے آپ سے مثانہ خالی کرنے کو کہا جائے گا۔ اس کے بعد آپ معائنے کی میز پر کمر کے بل لیٹیں گے۔
ضرورت پڑنے پر آپ کے گھٹنے موڑ کر پاؤں مخصوص سہاروں پر رکھے جا سکتے ہیں
٭ ضرورت کے مطابق آپ کو سکون آور یا عمومی بے ہوشی کی دوا دی جا سکتی ہے۔
سکون آور دوا سے آپ کو غنودگی اور سکون محسوس ہوگا، لیکن آپ ہوش میں رہیں گے۔
اگرعمومی بے ہوشی دی جائے تو آپ معائنہ کے دوران بے ہوش رہیں گے۔
٭ ڈاکٹر پہلے پیشاب کی نالی کے ابتدائی حصے کے ارد گرد جراثیم کش محلول لگاتا ہے، اس کے بعد پیشاب کی نالی
میں سن کرنے والی جیل لگائی جاتی ہے، تاکہ سسٹوسکوپ داخل کرتے وقت درد کم ہو۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر
باریک سسٹوسکوپ کو آہستہ آہستہ پیشاب کی نالی کے ذریعے مثانے تک لے جاتا ہے
٭ ڈاکٹرمثانے میں جراثیم سے پاک محلول بھر سکتا ہے، تاکہ مثانہ پھیل جائے اور اس کا اندرونی حصہ بہتر طور پر
دیکھا جا سکے۔ اس دوران آپ کو پیشاب کی حاجت محسوس ہو سکتی ہے۔معائنہ مکمل ہونے کے بعد آپ
مثانہ خالی کر سکتے ہیں
٭ سسٹوسکوپ کے سرے پر موجود عدسے کی مدد سے ڈاکٹر پیشاب کی نالی اور مثانے کی اندرونی سطح کا تفصیلی معائنہ کرتا ہے۔ بعض اوقات سسٹوسکوپ سے منسلک ویڈیو کیمرہ تصاویر اسکرین پر بھی دکھاتا ہے
٭ اگر ضرورت ہو تو ڈاکٹڑ لیبارٹری میں جانچ کے لیے بافتوں کا نمونہ لے سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نسبتاً بڑا سسٹوسکوپ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی دوران بعض دیگر طبی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں
علاج کے بعد
سسٹوسکوپی کے بعد عموماً آپ اپنی روزمرہ سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو سکون آور یا بے ہوشی کی دوا دی گئی ہو تو گھر جانے سے پہلے کچھ دیر تک آپ کو ریکوری روم میں رکھا جا سکتا ہے۔
سسٹوسکوپی کے بعد یہ عارضی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ پیشاب کی نالی سے معمولی خون آنا، جس کی وجہ سے پیشاب یا ٹشو پیپر پر ہلکا گلابی رنگ نظر آ سکتا ہے
٭ پیشاب کرتے وقت جلن محسوس ہونا
٭ ایک یا دو دن تک معمول سے زیادہ پیشاب آنا
تکلیف کم کرنے کے لیے یہ اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
٭ سسٹو سکوپی کے بعد ابتدائی دو گھنٹوں تک ہر گھنٹے تقریباً 473 ملی لیٹر پانی پئیں، تاکہ مثانہ اچھی طرح صاف ہو سکے
٭ ضرورت کے مطابق ایسی درد کم کرنے والی دوا استعمال کریں، جو ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر بھی دستیاب ہو
٭ پیشاب کی نالی کے ابتدائی حصے پر نیم گرم اور نم کپڑا رکھیں، تاکہ جلن اور تکلیف میں کمی آئے۔
ضرورت پڑنے پر یہ عمل دہرایا جا سکتا ہے
٭ اگر ڈاکٹر اجازت دے تو نیم گرم پانی سے غسل کریں
خطرے کے عوامل
سسٹوسکوپی کے بعد بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ سسٹوسکوپی کے دوران ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ جراثیم پیشاب کی نالی میں داخل ہوں،اور انفیکشن ہو جائے۔ بڑھاپا، تمباکو نوشی اور ناقص غذائیت اس خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں
٭ سسٹوسکوپی کے بعد پیشاب میں معمولی خون آ سکتا ہے، لیکن شدید خون بہنا بہت کم ہوتا ہے
٭ معائنے کے بعد پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا پیشاب کرتے وقت جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ علامات عموماً ہلکی ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتی ہیں
شدید پیچیدگیاں
اگر یہ شدید پیچیدگیاں ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹرسے رابطہ کریں یا قریبی ایمرجنسی شعبے سے رجوع کریں:
٭ سسٹوسکوپی کے بعد پیشاب نہ آنا
٭ پیشاب میں گہرے سرخ رنگ کا خون یا خون کے بڑے ٹکڑے آنا
٭ پیٹ میں درد اور معدے کی خرابی ہونا
٭ سردی لگ کر کپکپی آنا
٭ جسم کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہونا
٭ پیشاب کرتے وقت درد یا جلن کا دو دن سے زیادہ برقرار رہنا
نتائج
٭ سسٹوسکوپی کے نتائج بعض اوقات معائنہ مکمل ہونے کے فوراً بعد ہی بتا دیے جاتے ہیں
٭ اگر نتائج فوری دستیاب نہ ہوں تو آپ کو دوبارہ ملاقات کے لیے بلایا جا سکتا ہے، تاکہ نتائج سے آگاہ کیا جا سکے
٭ اگر سسٹوسکوپی کے دوران مثانے کے کینسر کی جانچ کے لیے بافتوں کا نمونہ لیا گیا ہو تو معالج لیبارٹری رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے نتائج سے آگاہ کرے گا
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا سسٹوسکوپی کے دوران مثانہ مکمل طور پر خالی ہونا ضروری ہے؟
ابتدا میں مثانہ خالی کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں ضرورت کے مطابق اس میں جراثیم سے پاک محلول بھرا جا سکتا ہے۔
کیا سسٹوسکوپی کے دوران بافتوں کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے؟
ہاں، ضرورت پڑنے پر لیبارٹری میں جانچ کے لیے بافتوں کا نمونہ لیا جا سکتا ہے۔
کیا سسٹوسکوپی کے دوران ہر مریض کو عمومی بے ہوشی دی جاتی ہے؟
نہیں، بعض مریضوں کے لیے صرف سکون آور دوا کافی ہوتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں عمومی بے ہوشی دی جاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/urology/islamabad