برونکائٹس (Bronchitis) میں برونکائیل نالیاں جو ہوا کو پھیپھڑوں تک لے جاتی اور واپس لاتی ہیں، ان کی اندرونی جھلی میں سوزش ہو جاتی ہے۔ برونکائٹس اچانک شروع ہو سکتا ہے
اور قلیل مدت کی بیماری ہو سکتی ہے یا آہستہ آہستہ شروع ہو کر طویل مدت کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
برونکائٹس کی اقسام:
برونکائٹس دو قسم کا ہوتا ہے شدید برونکائٹس جو عموماً نزلہ، زکام یا سانس کی نالی کے وائرل انفیکشن
کے بعد اچانک شروع ہوتی ہے۔
جبکہ دوسری قسم دائمی برونکائٹس ہے جس میں برونکائیل نالیوں کی اندرونی جھلی میں مسلسل سوزش یا
جلن رہتی ہے۔
اس کی سب سے عام وجہ تمباکو نوشی ہے، تاہم فضائی آلودگی اور مضر دھوئیں کا طویل عرصے تک
سامنا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے
علامات
برونکائٹس ہونے کی صورت میں یہ علامات ظاہر ہو تی ہیں۔
شدید برونکائٹس کی علامات
٭مسلسل کھانسی
بلغم آنا، جس کا رنگ شفاف، سفید، زرد، زرد مائل سرمئی یا سبز ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات بلغم میں خون کی معمولی آمیزش بھی ہو سکتی ہے
٭ گلے میں خراش یا درد
٭ہلکا سر درد اور جسم میں درد
٭ہلکا بخار اور کپکپی
٭تھکن یا کمزوری محسوس ہونا
٭سینے میں بھاری پن یا تکلیف
٭سانس پھولنا یا سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز آنا
دائمی برونکائٹس کی علامات
دائمی برونکائٹس میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
٭ مسلسل یا بار بار کھانسی کا آنا
٭بلغم کا اخراج
٭تھکن یا کمزوری محسوس ہونا
٭سینے میں بھاری پن یا تکلیف
٭سانس پھولنا یا سانس لینے میں دشواری
وجوہات
شدید برونکائٹس کی وجوہات
شدید برونکائٹس زیادہ تر وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عام طور پر وہی وائرس اس بیماری کا سبب بنتے ہیں جو نزلہ، زکام اور انفلوئنزا (فلو) کا باعث بنتے ہیں۔
وائرس ایک سے دوسرے کو کھانسنے، چھینکنے، سانسے کے ذریعے اور آلودہ اشیا چھونے سے منتقل ہوتے ہیں
دائمی برونکائٹس کی وجوہات
٭سگریٹ نوشی
٭ فضائی آلودگی
٭ گرد و غبار
٭ نقصان دہ دھواں اور زہریلی گیسیں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ کو کھانسی کے ساتھ درج ذیل میں سے کوئی بھی علامت ہو تو انھیں نظرانداز نہ کریں بلکہ فوراً اپنے ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رابطہ کریں
بخار 38° سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو ٭
٭کھانسی کے ساتھ خون آئے
سانس لینے میں شدید دشواری ہو یا سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز ٭
دیگر سنگین علامات ظاہر ہوں، جیسے
ہ٭ چہرہ غیر معمولی طور پر زرد یا بے جان نظر آئے
٭ چہرہ یا ناخن نیلے پڑنے لگیں
٭ سوچنے، توجہ دینے یا بات سمجھنے میں دشواری ہو
٭کھانسی تین ہفتوں سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل برونکائٹس ہونے کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں
٭ سگریٹ نوشی یا وہ لوگ مسلسل سگریٹ کے دھوئیں کے سامنے رہنا
٭ کمزور مدافعتی نظام
٭ ا کام کی جگہ پر گردو غبار، کیمیائی گیسوں یا زہریلی گیسوں سے مسلسل رابطہ
٭ معدے میں تیزابیت
پیچیدگیاں
عام طور پر شدید برونکائٹس ابتدائی طور پر ہی باعثِ تشویش نہیں ہوتا، تاہم بعض افراد میں یہ نمونیا کا سبب بن سکتا ہے۔
گر برونکائٹس بار بار ہو یا کھانسی اور بلغم کی شکایت طویل عرصے تک برقرار رہے، تو یہ دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماری سی او پی ڈی کی علامت ہو سکتی ہے
تشخیص
طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر اسٹیتھو اسکوپ کی مدد سے آپ کے پھیپھڑوں کی آوازیں سنتے ہیں تاکہ سانس کی نالیوں کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکے کی مدد سے آپ کے پھیپھڑوں کی آوازیں سنتے ہیں تاکہ سانس کی نالیوں کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر درج ذیل ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں:
سینے کا ایکسرے
سینے کے ایکسرے سے یہ پتہ چلت ہے کہ آیا آپ کونمونیا یا کوئی اور بیماری تو نہیں
بلغم کا ٹیسٹ
بلغم کا نمونہ لے کراس کا معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ بیماری بیکٹیریا کی وجہ سے ہے یا نہیں، اور آیا اینٹی بایوٹک دوا فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس ٹیسٹ سے بعض اوقات الرجی کی علامات کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔
پھیپھڑوں کی کارکتدگی کا ٹیسٹ
اس ٹیسٹ میں مریض اسپائرو میٹرنامی آلے میں سانس بھر کر اور خارج کر کے ٹیسٹ دیتا ہے۔ یہ ٹیسٹ معلوم کرتا ہے کہ:
٭ پھیپھڑےکتنی ہوا اپنے اندر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
٭ مریض کتنی تیزی سے ہوا باہر نکال سکتا ہے
علاج
شدید برونکائٹس کے زیادہ تر مریض کسی خا ص علج کے بغیر ہی دو سے تین ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ تاہم، علامات کی شدت یا مریض کی طبی حالت کے مطابق ڈاکٹر بعض ادویات تجویز کر سکتے ہیں جیسا کہ:
٭ کھانسی کم کرنے کی ادویات
٭ سانس کی ادویات
٭ اینٹٰی بائیوٹک ادویات چونکہ شدید برونکائٹس کی زیادہ تر وجوہات وائرل انفیکشن ہوتی ہیں، اس لیے اینٹی بایوٹکس عام طور پر مؤثر نہیں ہوتیں
احتیاطی تدابیر
برونکائٹس سے بچاؤ کے لئے یہ احتیاطی تدابیر اپنائیں:
٭ ہاتھوں کو صاف رکھیں
٭جو لوگ فلو یا کسی بھی سانس کی بیماری شکار ہیں ان سے دور رہیں
٭سگریٹ کے دھویں سے بچیں
٭ سی او پی ڈی کے مریض ماسک کا استعمال کریں
٭ فلو کی ویکسین لگوائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا برونکائٹس متعدی بیماری ہے؟
شدید برونکائٹس اگر وائرس کی وجہ سے ہو تو یہ کھانسنے، چھینکنے یا قریبی رابطے سے دوسروں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ تاہم دائمی برونکائٹس متعدی نہیں ہوتی اور عموماً تمباکو نوشی یا فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہے
کیا برونکائٹس میں ہر مریض کو اینٹی بایوٹک کی ضرورت ہوتی ہے؟
چونکہ شدید برونکائٹس کی زیادہ تر وجہ وائرس ہوتے ہیں، اس لیے اینٹی بایوٹکس عام طور پر فائدہ نہیں دیتیں۔اگر ڈاکٹر کو بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا شبہ ہو، تب ہی اینٹی بایوٹک تجویز کی جاتی ہے
برونکائٹس سے بچاؤ کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟
تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، سگریٹ کے دھوئیں، گردوغبار اور آلودہ ماحول سے بچیں، ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں، اور فلو یا نمونیا کے خطرے والے حفاظتی ویکسین لگوائیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/pulmonology/islamabad