کنٹیکٹ لینز،چند ضروری احتیاطیں

3

کنٹیکٹ لینز،چند ضروری احتیاطیں

آنکھ کے بیرونی پردے کو آکسیجن کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس کا کچھ حصہ آنسوؤں سے جبکہ کچھ ہوا سے لیتا ہے۔ کنٹیکٹ لینزاس راستے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان سے کورنیا کے سانس کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً اس کی ساخت اورکام دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں پہننے سےآنکھوں کے گرد جھریاں پڑجاتی ہیں اوربعض اوقات یہ کناروں سے تنگ بھی کرتے ہیں، تاہم کچھ بیماریوں میں لینزمفید بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ احتیاط کا ہے۔ جو افراد اس کی صفائی کا خیال نہیں رکھ سکتے ان کے لئے بہتر ہے کہ عینک استعمال کریں۔

کیا کریں، کیا نہیں

٭کوشش کریں کہ کنٹیکٹ لینزکم سے کم استعمال کریں۔

٭انہیں ہردوسے تین ماہ بعد تبدیل کریں۔

٭انہیں جس محلول میں محفوظ کیا جاتا ہے،اسے تبدیل کرتے رہیں۔

٭انہیں جراثیم سے پاک کرنے کے لئےنمک ملا پانی استعمال نہ کریں بلکہ اس کے لئے مخصوص محلول خریدیں جس میں جراثیم کش خصوصیات ہوں۔

٭پہلی دفعہ بند محلول کھولنے کے بعد ایک ماہ تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس سے زیادہ نہ کریں۔

٭سوئمنگ پولز، نہروں، دریاؤں یا سمند ر کے پانی میں ایک جرثومہ ہوتا ہے جو آنکھ میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا لینزپہن کریا اتارنے کے فوراً بعد تیراکی سے گریزکریں۔

٭سونے سے پہلے انہیں اتاردیں۔ دوسری صورت میں آکسیجن کی کمی اورآنکھ میں انفیکشن کےامکانات بڑھ جاتے ہیں۔

٭انہیں پہننے سے تکلیف ہوتوفوراتار دیں۔ یہ انفیکشن یا کسی اورمسئلے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔

٭انہیں محفوظ کرنے والے ڈبےکو ہفتے میں ایک بارتازہ محلول سے دھوئیں اورخشک ہونے دیں۔

٭آنکھوں کویوں بھی زور زورسے نہیں ملنا چاہئے مگرلینز پہنے ہوں توزیادہ احتیاط کریں ورنہ آنکھ کے بیرونی پردےاورنظر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

٭عام حالات میں بالعموم اورلینز پہننے کی صورت میں بالخصوص لوشن، کریم، صابن یا کسی بھی قسم کے سپرے سے آنکھوں کو محفوظ رکھیں۔

Contact lens precautions, things to do, things to avoid

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x