پل بھر کی غفلت‘ عمر بھر کا نقصان

377

گرمیوں کی چھٹیاں تھیں لہٰذابچوں کی پھوپھی اپنے بچوں کے ساتھ کچھ اچھا وقت گزارنے ہمارے ہاں آئی ہوئی تھیں۔ یوں گھر میں خوب رونق تھی اور سب بچے مل کر دن بھر اُودھم مچائے رکھتے ۔میرا دوسالہ بیٹا روحان بھی ان سرگرمیوں میں برابر شریک رہتا۔ایک رات 12بجے جب لائٹ چلی گئی تو سب بچے کھیلنے کے لئے چھت پر چلے گئے ۔ہم نے حفاظتی اقدام کے طور پر سیڑھیوں پر لکڑی کا ایک دروازہ لگا رکھاہے۔روحان وہیںسیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔

میں کچن میں کام کر رہی تھی کہ اچانک روحان کی دلدوز چیخ سن کر میرے اوپر کا سانس اوپراور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں بھاگ کر باہر پہنچی تو دیکھا کہ وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑاہے اور اس کا ہاتھ خون سے بھرا ہواہے ۔ میں نے جلدی سے اُسے گود میں اٹھایا اور کچن میںلا کر اس کے ہاتھ پر پانی ڈالا۔اس دوران جب میری نظر اس کے بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی پر پڑی تو میری چیخ نکل گئی ۔ انگلی کا گوشت مکمل طور پر اُڑچکاتھا اور نیچے سے ہڈی صاف نظر آرہی تھی۔دراصل دروازے کی کنڈی لگاتے وقت اس کی چھوٹی سی انگلی کنڈی میں پھنس گئی تھی۔ جب اس نے زور سے کھینچ کر اُسے باہر نکالا تو اُنگلی کی جلد اور گوشت کنڈی میں ہی پھنسا رہ گیا تھا۔ اُس کے تایا نے فوراً گاڑی نکالی اور اسے ہسپتال لے گئے۔

ڈاکٹر نے چوٹ کی گہرائی دیکھتے ہوئے بتایا کہ اس کی اُنگلی کی سرجری یعنی گرافٹنگ (grafting)کرناپڑے گی، اس لئے کہ اگر اسے ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تو انگلی کی نشوونما رُک سکتی ہے یا انگلی ٹیڑھی ہوسکتی ہے۔جب ڈاکٹرسے گرافٹنگ کا پوچھا تو یہ سن کر میرے ہاتھ پائوں پھول گئے کہ بچے کی ٹانگ سے جلد اُتار کر انگلی کی خالی جگہ بھری جائے گی ۔ میں نے تھوڑی دیرکے لئے اسے کسی کی نگرانی کے بغیر چھوڑاجس کی بھاری قیمت بچے کو اور ہمیں ادا کرنا پڑی۔

بچے معصوم ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے اردگرد موجود خطرات کا اندازہ نہیں ہوتا لہٰذا بلاسوچے سمجھے ہرچیز میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں اورہر جگہ جا گھستے ہیں۔ خصوصاًدوسے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو گھریلو حادثات کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ جب وہ رینگنا اورپھر چلنا شروع کرتے ہیں تو ادھر اُدھر گھوم پھر کر ماحول کا مشاہدہ کرتے ہیں اورہر چیز کوچھیڑتے ہیں۔اس لئے گھر کی تزئین و آرائش کرتے وقت اس ’’شریر‘‘ فرشتے کو ضرور ذہن میں رکھیں۔

احتیاطی تدابیر
ڈاکٹر بابر نوری‘ماہر امراض اطفال فیصل آبادکے مطابق درج ذیل ہدایات پر عمل کر کے بچوں کو بڑی حد تک گھریلو حادثات سے بچایا جا سکتا ہے :
٭اس بات کو یقینی بنائیں کہ بجلی کے تار ننگے نہ ہوں۔ ساکٹس کو بھی پلاسٹک ٹیپ وغیرہ سے کور کریں تاکہ بچے ان میں کوئی چیز نہ ڈال سکیں۔
٭اگر گھر میں سیڑھیاں ہوں تو ان پر دروازہ لگائیں اور اس کی کنڈی اتنی اونچی ہو کہ چھوٹے بچوں کا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکے ۔
٭تمام نوکیلی اشیاء (مثلاً چُھری‘چاقو‘ پین‘ پنسل وغیرہ)‘ ادویات‘ جراثیم کش محلول اور پائوڈر وغیرہ بچوں کی پہنچ سے دور یا ایسی الماری میں رکھیں جس پرتالا لگا ہو۔
٭نوکیلے کناروں والا فرنیچر نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔اس لئے اس کے کونے گول کروالیں ‘ورنہ کارنر پروٹیکٹرز استعمال کریں۔
٭کھڑکیوں کے پٹ‘ جالیوں اور شیشوں کو محفوظ بنائیں۔ اگر ایک سلاخ سے دوسری سلاخ کے درمیان 15 سینٹی میٹر کا فاصلہ ہو تو بچے اس میں سے باآسانی آرپار ہو جاتے ہیں ۔اس لئے یہ فاصلہ اس سے کم ہونا چاہئے ۔ گھر کی بالکونی‘ ٹیرس اور کھڑکیوں پر لوہے کی جالیاں ضرور لگوائیں۔
٭کھڑکیوںکے قریب کرسی‘ میز اور اسٹول وغیرہ نہ رکھیںکیونکہ بچے ان پر چڑھ کر باہرجھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭واش روم میں ٹب اور بالٹیوں میں پانی بھر کر نہ رکھیں، اس لئے کہ ننھے بچے ان میں ڈوب سکتے ہیں۔
٭ ٹیبل لیمپ ‘سجاوٹ والی چیزیں اور کتابیں ایسی جگہ نہ رکھیں جہاں بچے آسانی سے پہنچ جائیں۔وہ انہیں اپنے اوپر گرا سکتے ہیں۔
٭واش روم کے دروازے میں تالا ایسا لگائیں جو اندر سے بند ہونے کی صورت میں باہر سے بھی کھل سکے۔
٭جب چھوٹے بچے سائیکل چلارہے ہوں تو ان کے پاس رہیں۔
٭بچوں کا کچن میں داخلہ ممنوع قرار دے دیں‘ خصوصاً اس وقت جب وہاں کوئی بڑا موجود نہ ہو۔جتنی دیر تک آئل گرم کرنا ہو‘اتنی دیر تک کچن میں ہی رہیں اور بچوں کو اس سے دور رکھیں۔
٭گرم مشروبات یا کھانا کچن کائونٹر یا ٹیبل کے کنارے پر نہ رکھیں ‘ اس لئے کہ بچے آسانی سے اُن تک پہنچ کر خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔
٭ماچس اور لائٹر ہمیشہ اونچی جگہ پر رکھیں۔
٭سگریٹ نوشی ‘کم از کم چھوٹے بچوں کے سامنے بالکل نہ کریں کیونکہ وہ بڑوں کو دیکھ کر اُن کی نقل کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے میں ہوسکتا ہے کہ بچہ سگریٹ جلانے کی کوشش کرے اور خود کو نقصان پہنچالے۔
٭لوڈشیڈنگ کے باعث گھروں میںموم بتیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ موم بتی ہموار یا ایسے ہولڈر میں رکھیں جس میں اگر وہ گر بھی جائے تو آگ نہ پکڑسکے ۔اسے ہمیشہ اُونچی جگہ پر بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔ بچوں کو وقتاً فوقتاً یہ بتاتے رہیں کہ آگ سے کھیلنا اچھا نہیں ہے۔
٭ بچوں کے تحفظ کے لئے والدین اور گھریلو ملازموں کو تمام ضروری معلومات حاصل ہونی چاہئیں ۔انہیں فرسٹ ایڈ کورس لازماً کرنا چاہیے تاکہ وہ ہنگامی صورت حال سے نپٹ سکیں۔

حادثات میںفوراً کرنے کے کام
ڈاکٹر بابرنوری کے مطابق مختلف حادثات کی صورت میں فوری طور پر کرنے کے کام درج ذیل ہیں :
٭جلنے کی صورت میں سب سے پہلے اس چیز کو بچے سے الگ کریں جو اس جلنے کا سبب بنی تھی۔اگر بچے کے کپڑوں نے آگ پکڑ لی ہو تو کوئی بھاری چیز مثلاً رضائی یا کمبل اس پر ڈاال دیں ۔اس طرح آگ بجھ جائے گی۔
٭اگر بچے کی سانس نارمل ہو تومتاثرہ حصے کو ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھیں۔اگر جلے ہوئے کپڑے کا کوئی ٹکڑا جلد کے ساتھ چپک گیا ہو تو اسے خود ہٹانے کی بجائے ڈاکٹر سے مدد لیں‘ورنہ زخم بگڑ سکتا ہے۔
٭ہمارے ہاں جلی ہوئی جگہ پر برف‘شہد گلیسرین یا ٹوتھ پیسٹ لگانے کو کہاجاتا ہے۔ اس سے گریز کریں اور جلد از جلد معالج سے رجوع کریں۔
٭بچہ اگر کوئی چیز نگل لے تو اس کے حلق میں اُنگلی ڈال کرقے کروائیں۔گلے میں پھنسی چیز نکالنے کے لئے خاص تکنیک استعمال ہوتی ہے۔ اگر وہ نہ آتی ہو توبچے کو فوراً معالج کے پاس لے جائیں ۔
٭چھوٹا کٹ یا زخم آنے کی صورت میں اسے جراثیم کش محلول سے صاف کرکے پٹی باندھ دیں۔
٭اگر کوئی زہریلا کیڑا (مثلاًشہد کی مکھی وغیرہ)کاٹ لے تو اس جگہ کو فوراً دبائیں ۔پانی نکل جانے کی صورت میں اس کاڈنک نظرآنے لگے گا۔ اسے چمٹی کی مدد سے نکال لیں ۔سانپ یابچھو کے کاٹے کی صورت میں کوئی ٹوٹکا کرنے کی بجائے اسے فوراً ہسپتال لے جائیں ۔
٭بچے کی آنکھ کے اندر کچھ چلاجائے تو اسے آنکھیں مت ملنے دیں ورنہ وہ چیز آنکھ کے مزید اندر چلی جائے گی۔اس کی بجائے کسی چوڑے منہ کے برتن میں صاف پانی لے کراس کی آنکھیں اس کے اندر بند کروائیں اورکھلوائیں۔ اگر افاقہ نہ ہو توڈاکٹر کو دکھائیں۔
دیکھا گیا ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو ٹالتے رہتے ہیں اور جب اچانک کوئی نقصان ہو جاتا ہے تو افسوس کرتے ہیں کہ ذرا سی احتیاط کرلی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی ۔اس لئے حفاظتی اقدام کے تناظر میں کسی چیز کو معمولی مت خیال کریں۔ مزید براں بچوں کو خطرات سے آگاہ کریں اوراس حوالے سے بھی بچوں کی تربیت کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھریلوملازمین اوربچوں کی ذمہ داری
آج کی زندگی بہت تیزرفتار ہے لہٰذا ہر کوئی وقت کی کمی کی شکایت کرتا نظر آتا ہے ۔ والدین بھی اپنی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو ماسیوں(گھریلو خادمائوں) کے سپرد کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر بابرنوری‘ ماہرامراض اطفال فیصل آباد اس پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ گھر میں‘گھر کی چاردیواری سے باہر‘پارکوں میں اور سڑک پربچوں کی نگرانی اورنگہداشت کی ذمہ داری بالعموم ماسیوں کی ہوتی ہے۔ بچے شوق سے پارک میں جا کر سائیکل چلاتے اور کھیلتے ہیں اور یہاں ان کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔گھریلوملازمین جتنے بھی اچھے کیوں نہ ہوں‘ ماں باپ جتنے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔دیکھا گیاہے کہ اس وقت وہ ا پنے دوستوں سے گفتگو میں مشغول رہتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بچوں کو چوٹ لگ جاتی ہے یا وہ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ اس لئے بچوںکی ذمہ داری والدین کو خود اٹھانی چاہئے۔‘‘

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of