سی سیکشن کی اے بی سی

سی سیکشن کی اے بی سی

نارمل ڈیلیوری کے برعکس سیزیرین یاسی سیکشن( بڑاآپریشن) میں بچہ دانی (یوٹرس) کے اوپر پیٹ پر کٹ لگا کر بچے کو پیدا کیا جاتا ہے۔اس میں متوقع ماں کو دردزہ کی تکلیف نہیں اٹھانا پڑتی ‘تاہم بعض اوقات یہ زچہ اور اس کے خاندان کے لئے ذہنی تناؤ کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

بڑا آپریشن بعض اوقات ماں کی طبی کیفیات کے سبب بھی ہوتاہے۔ لیکن زیادہ تراس کی وجہ بچے سے متعلق پیچیدگیاں ہی ہوتی ہیں۔ ماں کی وجوہات میں اس کے بلڈپریشریا شوگرلیول کا اچانک بلند ہو جانا نمایاں ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ درد زہ میں بے قاعدگی ہے۔  یعنی اگر درد  ہو لیکن یہ بہت زیادہ وقت لے  یا درد کے باوجود یوٹرس کا منہ نہ کھل رہا ہو توآپریشن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ماں کی طرف سے بچہ سست رفتاری سے باہر کی جانب دکھیلا جا رہاہوتا ہے لہٰذا سی سیکشن ضروری ہو جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں گولیاں رکھنے کے باوجود درد زہ کے مرحلے کا آغاز نہیں ہوپاتایا پانی کی تھیلیاں وقت سے پہلے پھٹ جاتی ہیں۔ ایسے میں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں بچہ دانی میں انفیکشن نہ ہو جائے۔

بچے کی طرف سے سی سیکشن کا سبب بننے والی وجوہات میں اس کا سر نیچے نہ آنااور دھڑکن کا اچاانک تیز ہو جانا شامل ہیں۔ اس مرحلے پر زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا ورنہ بچے کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بچے کا ماں کے پیٹ میں رفع حاجت کر دینا، اس کے گرد موجود پانی میں کمی آ جانا یا ضرورت سے زیادہ کمزور ہونا بھی دیگر وجوہات ہیں۔

آپریشن کی شرح میں اضافہ کیوں

خواتین کی بڑی تعداد پہلے گھروں پر ڈیلیوری کروا تی تھی لیکن اب وہ ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے۔ گھروں میں زچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے بہت سے بچے فوت ہوجاتے تھے۔ چونکہ ایسی خواتین اب ہسپتالوں میں زیادہ آتی ہیں لہٰذا سی سیکشن کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے لوگوں کے پاس وسائل زیادہ نہیں تھے لیکن اب صورت حال ذرا بہتر ہوئی ہے۔ اس لئے لوگ سرکاری ہسپتالوں میں ہی نہیں، اپنی مالی حیثیت کے مطابق پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی  جاتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹروں پرکام کا دبائو بھی بڑھ گیا ہے۔

ڈیلیوری کا عمل شروع ہونے کے بعد ڈاکٹروں کو بچے کی پیدائش کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ان کے پاس چونکہ وقت کم ہوتا ہے لہٰذا بعض صورتوں میں وہ سی سیکشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اگر زچگی میں پیچیدگی کا امکان ہو اور ڈاکٹر نارمل ڈیلوری کا خطرہ مول لے تو بعد میں کسی متوقع گڑبڑ  میں سارا ملبہ معالج پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس لئے بھی وہ نارمل ڈیلوری کا خطرہ مول لینے سے گریز کرتے ہیں۔

خوف کیوں

 بالعموم نارمل ڈلیوری کا پلڑا ہی بھاری ہوتاہے.تاہم مریضوں کی قابل ذکر تعداد ضرورت نہ ہونے کے باوجود سی سیکشن کے لئے اصرار کرتی نظرآتی ہے۔ ڈاکٹروں کے سمجھانے پر خواتین پہلے تو مان جاتی ہیں لیکن بعد میں آپریشن کے لئے منتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

 اکثر صورتوں میں متوقع ماں آپریشن پر تیار ہوتی ہے لیکن اہل خانہ نہیں مان رہے ہوتے۔ اس کی ایک وجہ آپریشن فوبیا ہےکیوںکہ زیادہ تر لوگوں نے اس کے بارے میں منفی باتیں ہی سن رکھی ہوتی ہیں۔اس کی ایک اور وجہ خواتین کا یہ تصور ہے کہ تین سیزیرین کے بعد چوتھا بچہ نہیں ہوسکتا۔ بدترین صورت حال تب ہوتی ہے جب حالات تشویش ناک رخ اختیار کر جائیں اور واحد راستہ سیزیرین ہو اور وہ یا اس کے اہل خانہ اس پر تیار نہ ہو رہے ہوں ۔ تاہم اب زیادہ تر مریض تعاون کرتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والوں کی تعدادکم ہوتی جا رہی ہے۔

دونوں پہلوؤں پر نظر ڈالنے کے بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ نارمل ڈلیوری یا سی سیکشن میں سے بہترکیا ہے؟ اس سلسلے میں طبی مشورہ یہی ہے کہ عام حالات میں نارمل ڈلیوری ہی بہتر ہے لیکن آپریشن ناگزیر ہو توپھر اس سے گریز نہیں کرناچاہئے۔

C section, fear, normal delivery, health issues 

LEAVE YOUR COMMENTS