تحرک اور اٹھنے بیٹھنے کا صحیح انداز

2

تحرک اور اٹھنے بیٹھنے کا صحیح انداز

عدم تحرک اور اٹھنے بیٹھنے کے غلط انداز کے منفی اثرات کافوری اندازہ نہیں ہوتا،تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صورت حال بہت سے اعصابی امراض کاسبب بن سکتی ہے۔

کام کا دبائو خواہ کتنا ہی کیوں نہ ہو، کچھ دیر بعد انہیں اپنی نشست اور کیفیت کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسم اور اس کے مختلف عضلات کوحرکت دینے سے ایک طرح کی ورزش ہوجاتی ہے اور وہ کسی دبائو یاذہنی تنائو کاشکار نہیں ہوتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دورحاضر میں صحت کی بہت سی پیچیدگیوں اور الجھنوں کاایک سبب ایسا طرز زندگی ہے جس میں روزمرہ معمولات کچھ اس طرح سے ترتیب پارہے ہیں کہ جسم وجان کی لازمی ضروریات پوری نہیں ہو رہی۔ صورت حال یہ ہے کہ بچے بھی‘ جو فطری طورپر بھاگ دوڑ اورکھیل کود میں دلچسپی رکھتے ہیں‘ اپنا بہت سا وقت ٹی وی،کمپیوٹر اورموبائل فون پرگزار دیتے ہیں۔

اگرغیر متحرک زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی غذائی عادات بھی ’جنک فوڈ‘ پرمبنی ہوں تو نوعمری سے ہی ان کی اٹھان غیرمتوازن ہوجاتی ہے۔جن لوگوں کو اس حوالے سے بروقت راہنمائی مل جائے وہ اپنی خوراک ، راتوں کی بھرپور نیند اور فطری ماحول میں جسمانی ورزش کاخصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ ا ور اگر مصروفیات اور کام کے دباؤ کی بناء پرکسی وقت یہ ممکن نہ ہو تو وہ کاموں کے دوران ہی کسی نہ کسی طرح اس کا اہتمام کرلیتے ہیں۔

یہ بات فطری ہے کہ زندگی کے تجربات ومشاہدات جوں جوں آگے بڑھتے ہیں‘ ان مسائل کے بارے میں آگہی زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔  اگرمتحرک طرز زندگی کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ صحت عامہ کی مجموعی صورت حال کو بہت زیادہ بہتر بنایاجاسکے۔

body posture, issues, active lifestyle, solution

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x