دمے کا دَم دار مقابلہ

2

دمے کا دَم دار مقابلہ

 دمہ کیا ہے

 اسے سانس کی نالیوں میں سوزش کہا جا سکتا ہے۔اس کے باعث کھانسی ، سانس لیتے ہوئے سیٹی کی آواز آنے اور سینے میں جکڑن جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ انتہائی صورت میں سانس لینے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔

مرض کی علامات

اس میں زیادہ تر مریضوں کو مستقل نوعیت کی کھانسی ہوتی ہے جو دوروں کی شکل میں آتی ہے۔ یہ شام اور رات کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے اور صبح کے وقت بھی دورہ پڑتا ہے۔ بعض اوقات معمولی چلنے پھرنے سے بھی سانس پھول جاتا ہے اور کبھی کبھار رات کے وقت سوتے میں کھانسی کی وجہ سے آنکھ کھل جاتی ہے۔یہ علامات سانس کی نالی میں سوزش کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں جس کے سبب سانس کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔

کھانسی کے ساتھ بلغم یا خون آنا، بخار ہونا اور وزن تیزی سے گرناٹی بی کی بنیادی علامات ہیں۔ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ دمے کی صورت میں کھانسی دوروں کی صورت میں اور کسی ایسی چیز کا سامنا کرنے پر آتی ہے جس سے اسے الرجی ہو۔جبکہ ٹی بی کا مریض مخصوص صورت حال کے بغیر بھی سارا دن کھانستا رہتا ہے۔

 دمے کا سبب بننے والے بنیادی عوامل

اس کی بنیادی وجوہات میں پولن، دھول مٹی، جانوروں کی لید، ہوا میں موجود بخارات یا دھواں،ٹھنڈی ہوا، پٹرولیم کی مصنوعات، موسمی تبدیلیاں، تازہ ہوا سے دوری اور پرندوں کی بیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان ماحولیاتی عوامل سے سانس کے نظام کی حساسیت موروثی بھی ہو سکتی ہے۔ دمے کی شکایت کسی خاص موسم میں بھی ہو سکتی ہے اورپورا سال بھی رہ سکتی ہے۔ جن مریضوں کو ناک یا جلد کی الرجی کا مسئلہ یا نزلہ زکام کی شکایت زیادہ رہتی ہو‘ ان میں اس تکلیف سے دوچار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔اس کا سبب بننے والے دیگر عوامل میں ورزش کی کمی، وزن کا بڑھنا اور جنک فوڈ کازیادہ استعمال شامل ہیں۔

 عمر کے ساتھ اس مرض کا تعلق

 دمے کے زیادہ تر مریض بچے یا نوجوان ہوتے ہیں۔40 سے 50 فی صد صورتوں میں بچوں میں پایا جانے والا دمہ ان کے بالغ ہونے پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بڑی عمر کے افراد میں یہ مرض دیر سے حملہ آور ہونے والا دمہ کہلاتا ہے۔

 بچاؤ کے لئے اقدامات

 جس شے سے الرجی ہو‘ اس سے دور رہا جائے۔ مثال کے طور پر اگر پولن الرجی کی وجہ سے دمہ ہو تو اس موسم میں کھڑکیاں وغیرہ بند رکھی جائیں۔ اگر دھول مٹی کی الرجی ہو تو قالین اور درو دیوار کو صاف رکھا جائے اور گھر سے باہر جاتے ہوئے ماسک لگایا جائے۔ کچھ بچوں کو سگریٹ کے دھوئیں کی وجہ سے کھانسی اور سانس لینے میں مسئلہ ہو تا ہے لہٰذا انہیں اس سے بچایا جائے۔ اگر اس طرح کی کچھ اور احتیاطیں اختیار کر لی جائیں تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

 مرض کی تشخیص

اس کے لئے کچھ ٹیسٹ بھی کروائے جاسکتے ہیں لیکن زیادہ ترڈاکٹر جب مریض کی ہسٹری لیتا اور اس کا معائنہ کرتا ہے تو  تشخیص ہو جاتی ہے۔ معائنے کے دوران جب سانس میں سیٹی کی آوازیں آتی ہیں تو ڈاکٹر مرض کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ اسی طرح زوردار کھانسی یا موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مریض کی حالت میں تبدیلی سے بھی اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو پھیپھڑوں کی کارکردگی کا ٹیسٹ  کیا جاتا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ مریض کی سانس کی نالیاں کس حد تک تنگ ہو چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور ٹیسٹ بھی  ہے جس میں مریض کوانہیلر دے کر پھیپھڑوں کی کارکردگی دوبارہ چیک کی جاتی ہے۔ اسی طرح آئی جی ای ٹیسٹ کے ذریعے بھی اس کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ اس سے خون میں مخصوص خلیات ایسینوفلز کی مقدار چیک کر کے مرض کی تشخیص کی جاتی ہے۔

اس کا علاج کیا ہے

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریض کو انہیلر دئیے جائیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک غلط تصور ہے کہ انہیلر کا استعمال غیرمحفوظ ہے۔ بہت سے مریض دوا تو لیتے رہتے ہیں مگراس ( انہیلر) کے متعلق یہ سوچتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ لگ گیا تو اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر کیسز میں اسے آخری انتخاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔  انہیلر ایک ایسا آلہ ہے جس سے دواسانس کے ذریعے براہ راست پھیپھڑوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ادویہ کی دوسری اقسام کی نسبت اس میں دوا کی مقدار کم یعنی مائیکروگراموں میں ہوتی ہے۔ اگرانہیلر ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار کے مطابق اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ کم سائیڈ افیکٹس کا حامل موثر طریقہ ہے۔ مریضوں کو چاہئے کہ جب کھانسی کا شدید دورہ نہ ہو ‘ تب بھی انہیلر اورباقی دوا کا استعمال جاری رکھیں تاکہ مرض کنٹرول میں رہے اور سوزش کی علامات ظاہر نہ ہوں۔

Asthma, symptoms, causes, treatment

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x