چھاتی کا از خود معائنہ (Breast Self-Examination) وہ طریقہ ہے جس میں فرد اپنی چھاتیوں کا خود جائزہ لیتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چھاتیوں کی عام حالت سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ اس عمل میں ہاتھوں کی مدد سے چھاتیوں کی شکل، ساخت اور محسوس ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کیا جاتا ہے۔
اگر چھاتیوں میں کوئی نئی یا غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر معالج سے مشورہ کریں۔ زیادہ تر تبدیلیاں خطرناک نہیں ہوتیں، تاہم بعض صورتوں میں یہ چھاتی کے کینسر یا دیگر سنگین مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین اسے عام طور پر چھاتی کے کینسر کی باقاعدہ سکریننگ کے متبادل کے طور پر تجویز نہیں کرتے۔ اس کے باوجود اسے اہم سمجھا جاتا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو بروقت رپورٹ کیا جا سکے۔ چھوٹی تبدیلیوں کی جلد نشاندہی بعض اوقات بیماری کی ابتدائی تشخیص میں مدد دیتی ہے، جس سے علاج نسبتاً آسان اور کم پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
چھاتی کا خود معائنہ فرد کو اپنی چھاتیوں کی نارمل ساخت اور احساس کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر دونوں چھاتیوں میں واضح فرق محسوس ہو یا کوئی غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو اسے فوری طور پر رپورٹ کیا جانا چاہیے۔
چھاتیوں میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں چھاتی کا کینسر بھی شامل ہے۔ اس لیے کسی بھی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
اگر حال ہی میں میموگرام ہوا ہو یا آئندہ طے ہو، تب بھی نئی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔ بعض اوقات میموگرام چھوٹے یا مشکل جگہ پر موجود کینسر کو ظاہر نہیں کر پاتا، اس لیے ڈاکٹر اضافی ٹیسٹ جیسے الٹراساؤنڈ یا تشخیصی میموگرام تجویز کر سکتا ہے۔
خود معائنہ مکمل طور پر قابل اعتماد تشخیصی طریقہ نہیں، خاص طور پر ان افراد میں جن کی چھاتیوں کی ساخت گلٹی دار ہو۔ تاہم بہت سے کیسز میں ابتدائی علامت وہی گلٹی ہوتی ہے جو فرد خود محسوس کرتا ہے، اسی لیے باقاعدہ آگاہی اہم سمجھی جاتی ہے۔
خامیاں
چھاتی کا خود معائنہ ایک محفوظ عمل ہے، تاہم اس کی کچھ لمیٹیشنز اور ممکنہ اثرات موجود ہیں۔
ذہنی پریشانی کا امکان
زیادہ تر گلٹیاں یا تبدیلیاں غیر سرطانی ہوتی ہیں، تاہم کسی مشتبہ علامت کا احساس ذہنی دباؤ اور بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض اوقات تشخیص تک یہ پریشانی برقرار رہتی ہے۔
اضافی ٹیسٹ کی ضرورت
مشکوک علامت کی صورت میں مزید طبی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے الٹراساؤنڈ، میموگرام یا بعض صورتوں میں بائیوپسی۔ اگر نتیجہ نارمل آئے تو بعض افراد کو یہ عمل غیر ضروری اور ذہنی طور پر بوجھل محسوس ہو سکتا ہے۔
فائدے کا غلط اندازہ
خود معائنہ نہ تو کلینیکل معائنے کا متبادل ہے اور نہ ہی سکریننگ میموگرام کا۔ اسے صرف آگاہی کے ایک اضافی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
تیاری کیسے کریں
خود معائنہ شروع کرنے سے پہلے کسی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے درست طریقہ کار سیکھنا بہتر ہے تاکہ معائنہ مؤثر ہو سکے۔
اگر ماہواری ہوتی ہے تو معائنہ اس کے ختم ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد کریں، کیونکہ اس وقت چھاتیوں کی سوجن اور حساسیت کم ہو جاتی ہے اور ساخت زیادہ واضح محسوس ہوتی ہے۔
معائنے کا طریقہ کار
چھاتیوں کا جائزہ لینے کے لیے پہلے آنکھ سے معائنہ کیا جاتا ہے، پھر ہاتھوں سے مکمل جانچ کی جاتی ہے۔
پہلا مرحلہ: آنکھ سے معائنہ
آئینے کے سامنے بغیر قمیض یا برا کے سیدھی کھڑے ہو کر چھاتیوں کا جائزہ لیں۔ بازو جسم کے ساتھ رکھیں اور درج ذیل تبدیلیاں نوٹ کریں:
٭ چھاتیوں کی شکل، سائز یا توازن میں فرق
٭ جلد پر سلوٹ، گڑھے یا کھنچاؤ
٭ نپلز کا اندر کی طرف مڑ جانا
٭ بازو اوپر اٹھا کر اور ہاتھ کولہوں پر رکھ کر دوبارہ چھاتیوں کا مشاہدہ کریں
٭ چھاتیوں کو ہلکا سا اٹھا کر نیچے والے حصے میں دونوں طرف کی برابری اور شکل کا مشاہدہ کریں
اگر نظر کی کمزوری ہو تو کسی قابل اعتماد فرد کی مدد لی جا سکتی ہے
دوسرا مرحلہ: ہاتھوں سے معائنہ
یہ معائنہ لیٹ کر یا شاور لیتے وقت کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس حالت میں چھاتیوں کا ٹشو زیادہ پھیل جاتا ہے اور تبدیلیاں آسانی سے محسوس کی جا سکتی ہیں
٭ انگلیوں کے نرم حصے استعمال کریں، خاص طور پر تین درمیانی انگلیاں
٭ ہلکا، درمیانہ اور سخت دباؤ استعمال کر کے مختلف تہوں کو محسوس کریں
٭ ہر حصے کو منظم انداز میں چیک کریں، جلد بازی نہ کریں
٭ گھڑی وار انداز یا دائرے کی شکل میں پورے حصے کا منظم جائزہ لیں
اگر کسی حصے کو محسوس کرنا مشکل ہو تو پہلے کسی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے متبادل طریقہ سیکھا جا سکتا ہے
نتائج اور عام صورتحال
چھاتیوں میں کسی تبدیلی کا مطلب لازماً خطرناک بیماری نہیں ہوتا۔ ماہواری کے دوران یا عمر بڑھنے کے ساتھ چھاتیوں کی ساخت میں تبدیلی عام ہے۔ مختلف حصوں میں نرمی یا سختی کا فرق بھی نارمل سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں
اگر درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ بغل کے قریب سخت یا مستقل گلٹی
٭ نپل کا اچانک اندر کی طرف مڑ جانا
٭ نپل سے خون یا غیر معمولی رطوبت کا اخراج
٭ جلد کی رنگت، درجہ حرارت یا درد میں واضح تبدیلی
٭ چھاتی کے کسی حصے کا غیر معمولی طور پر موٹا یا سخت ہونا
٭ جلد پر گڑھے، سلوٹ یا ابھار
٭ مسلسل خارش، زخم یا جلدی دانے
ڈاکٹر صورتحال کے مطابق مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے، جن میں کلینیکل معائنہ، میموگرام یا الٹراساؤنڈ شامل ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist