بون سکین (Bone scan) ایک تشخیصی ٹیسٹ ہے جو نیوکلیئر امیجنگ کے ذریعے ہڈیوں کی مختلف بیماریوں کی تشخیص اور مانیٹرنگ میں مدد دیتا ہے۔ اس عمل میں کم مقدار میں ریڈیو ایکٹو مادے استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں ٹریسرز کہا جاتا ہے۔ ایک خصوصی کیمرہ ان شعاعی اثرات کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح کمپیوٹر کی مدد سے جسم کے اندر ہڈیوں کی ساخت واضح کی جاتی ہے۔
ٹریسر ان ٹشوز میں زیادہ جمع ہوتا ہے جہاں خلیاتی سرگرمی غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہو۔ اسی بنیاد پر یہ ٹیسٹ ہڈی کے ایسے درد کی وجہ معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے جس کی واضح تشخیص ممکن نہ ہو۔ یہ درد کسی انفیکشن یا ایسی چوٹ کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو عام ایکسرے میں نظر نہ آئے۔
یہ سکین اس کینسر کی نشاندہی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جو اپنی اصل جگہ سے ہڈیوں تک پھیل چکا ہو، جیسے چھاتی یا پروسٹیٹ کا کینسر وغیرہ۔
کیوں کیا جاتا ہے
بون سکین ہڈی کے ایسے درد کی وجہ معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے جس کی وضاحت ممکن نہ ہو۔ یہ ٹیسٹ ہڈی کے میٹابولک عمل میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے جنہیں ریڈیو ایکٹو ٹریسر نمایاں کرتا ہے۔ پورے جسم کی ہڈیوں کا جائزہ لے کر مختلف بیماریوں کی تشخیص کی جا سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ ہڈیوں کے فریکچر
٭ گنٹھیا
٭ پیجٹ بیماری (Paget’s disease of bone)
٭ ہڈی میں شروع ہونے والا کینسر
٭ کسی اور حصے سے ہڈی میں پھیلنے والا کینسر
٭ ہڈیوں، جوڑوں یا جوائنٹ ریپلیسمنٹ میں انفیکشن
خطرات
اگرچہ اس ٹیسٹ میں ریڈیو ایکٹو ٹریسر استعمال ہوتا ہے، لیکن شعاعی اثر کی مقدار نہایت کم ہوتی ہے۔ یہ سی ٹی سکین کے مقابلے میں کم خطرناک ہوتا ہے۔
تیاری کیسے کریں
عام طور پر بون سکین سے پہلے کسی خاص پرہیز یا سرگرمی کی پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے بسمتھ (bismuth) پر مشتمل دوا استعمال کی ہو، یا پچھلے چار دن میں بیریم کانٹراسٹ والا ایکسرے کروایا ہو تو اپنے معالج کو ضرور آگاہ کریں، کیونکہ یہ نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔
سکین کے دن ڈھیلے کپڑے پہنیں اور زیورات گھر پر چھوڑ دیں۔ بعض اوقات آپ کو ہسپتال کا گاون پہننے کے لیے دیا جاتا ہے۔
یہ ٹیسٹ عام طور پر حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین میں نہیں کیا جاتا، کیونکہ شعاعی اثر بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ حاملہ ہیں یا اس کا امکان ہے، یا دودھ پلا رہی ہیں تو اپنے معالج کو ضرور بتائیں۔
بون سکین کا طریقہ کار
بون سکین میں دو بنیادی مراحل شامل ہوتے ہیں: انجیکشن اور سکین۔
انجیکشن
بازو یا ہاتھ کی رگ میں انتہائی کم مقدار میں ریڈیوایکٹو ٹریسر داخل کیا جاتا ہے۔ انجیکشن اور سکین کے درمیان وقفہ ٹیسٹ کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں ابتدائی تصاویر فوراً لی جاتی ہیں۔ اہم تصاویر عام طور پر 2 سے 4 گھنٹے بعد لی جاتی ہیں تاکہ ٹریسر ہڈیوں میں جذب ہو سکے۔ اس دوران مریض کو زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
سکین سے پہلے مثانہ خالی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ جسم میں موجود غیر ضروری ٹریسر خارج ہو جائے۔
سکین
مریض کو ایک میز پر ساکن حالت میں لٹایا جاتا ہے۔ ایک کیمرہ نما آلہ جسم کے اوپر حرکت کرتا ہے اور تصاویر حاصل کرتا ہے۔ یہ عمل تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔
بعض صورتوں میں تین مرحلوں پر مشتمل سکین کیا جاتا ہے۔ اس میں انجیکشن کے وقت، اس کے فوراً بعد اور 3 سے 5 گھنٹے بعد تصاویر لی جاتی ہیں۔
مزید تفصیلی معائنہ کے لیے SPECT سکین بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کیمرہ جسم کے گرد گھوم کر مختلف زاویوں سے تصاویر لیتا ہے۔ یہ خاص طور پر گہرے یا مشکل حصوں کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔
ٹیسٹ کے بعد
سکین کے بعد عام طور پر کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے اور اضافی نگہداشت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مریض کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ اگلے ایک سے دو دن زیادہ پانی پیے تاکہ ٹریسر جسم سے خارج ہو جائے۔ یہ شعاعی مادہ عموماً دو دن کے اندر مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
نتائج
امیجز کا تجزیہ ریڈیالوجسٹ کرتا ہے جو ہڈی کے میٹابولزم میں غیر معمولی تبدیلیوں کو تلاش کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں تصاویر میں گہرے "ہاٹ سپاٹس” یا ہلکے "کولڈ سپاٹس” کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ ٹریسر کہاں زیادہ یا کم جمع ہوا ہے۔ ہاٹ سپاٹس وہ جگہیں ہیں جہاں بون سکین میں ٹریسر زیادہ جمع ہو جاتا ہے، یعنی وہاں ہڈی میں سرگرمی یا تبدیلی زیادہ ہوتی ہے۔ کولڈ سپاٹس وہ حصے ہیں جہاں ٹریسر کم جمع ہوتا ہے، یا جمع نہیں ہوتا۔ یعنی وہاں خون کی فراہمی یا ہڈی کی سرگرمی کم ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ سکین ہڈی کے میٹابولک عمل کو بہت حساس انداز میں ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ ان تبدیلیوں کی اصل وجہ واضح نہیں کرتا۔ اگر سکین میں غیر معمولی ہاٹ سپاٹس نظر آئیں تو مزید ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=radiologist