فلیپ سرجری کے ذریعے چھاتی کی دوبارہ تشکیل (Breast reconstruction with flap surgery) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں جسم کے کسی دوسرے حصے کے ٹشوز استعمال کرکے چھاتی کی شکل بحال کی جاتی ہے۔ یہ سرجری عموماً چھاتی کے کینسر کے علاج یا اس سے بچاؤ کے لیے ماسٹیکٹومی کے بعد کی جاتی ہے۔ ماسٹیکٹومی وہ سرجری ہے جس میں چھاتی کا تمام ٹشو نکال دیا جاتا ہے۔
فلیپ سرجری میں سرجن جسم کے کسی دوسرے حصے سے ٹشو لے کر نئی چھاتی بناتا ہے۔ ٹشو کے اس حصے کو فلیپ کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر پیٹ سے لیا جاتا ہے۔ یہ پیچیدہ عمل پلاسٹک سرجن انجام دیتا ہے۔
چھاتی کی دوبارہ تشکیل کا عمل عموماً ماسٹیکٹومی کے وقت ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر یہ ایک مرحلہ وار عمل ہوتا ہے جس میں مکمل نتائج کے لیے دو یا اس سے زیادہ آپریشن درکار ہو سکتے ہیں۔
اس سرجری کا مقصد چھاتی کے کینسر کے علاج کے بعد ممکنہ حد تک قدرتی شکل بحال کرنا ہے۔ بعض خواتین کے مطابق چھاتی کی دوبارہ تشکیل ان کے اعتماد اور جسمانی اطمینان میں اضافہ کرتی ہے۔ کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ نئی چھاتی انہیں زیادہ مکمل محسوس کرنے اور مثبت سوچ اپنانے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم یہ سرجری اصل چھاتی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ نئی چھاتی کی شکل اور احساس قدرتی چھاتی جیسا نہیں ہوتا۔
سرجری کیوں کی جاتی ہے
فلیپ سرجری ماسٹیکٹومی کے بعد چھاتی کی شکل بحال کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ بہت سی خواتین اسے بہتر احساس اور ظاہری شکل سے اطمینان کے لیے کرواتی ہیں۔
چھاتی کی دوبارہ تشکیل کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ ایک میں ٹشو فلیپ جبکہ دوسری میں بریسٹ امپلانٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ دونوں طریقوں کے فوائد اور نقصانات ہیں جن پر پلاسٹک سرجن تفصیل سے رہنمائی کرتا ہے۔
عام طور پر ٹشو فلیپ سے بنائی گئی چھاتی امپلانٹ کے مقابلے میں زیادہ قدرتی دکھائی دیتی اور محسوس ہوتی ہے۔ فلیپ کے ذریعے تشکیل مکمل ہونے کے بعد عموماً مزید سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے برعکس بریسٹ امپلانٹ کو مستقبل میں تبدیل یا نکالنے کے لیے مزید سرجری درکار ہو سکتی ہے۔ فلیپ سرجری نسبتاً زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ اس میں ہسپتال میں زیادہ وقت قیام اور طویل صحت یابی درکار ہوتی ہے۔
خطرات
فلیپ سرجری کے ذریعے چھاتی کی تشکیل میں پیچیدگیوں کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ یہ خطرات سرجری یا فلیپ ٹشو سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
سرجری کے خطرات
٭ جلد پر لگے کٹس کا آہستہ بھرنا
٭ انفیکشن
٭ خون بہنا
٭ جنرل اینستھیزیا سے متعلق خطرات، جن میں متلی، قے اور ذہنی الجھن شامل ہیں
فلیپ سرجری کے خطرات
٭ نئی چھاتی تک خون کی ناکافی فراہمی کے باعث ٹشو کا مر جانا
٭ جس جگہ سے فلیپ لیا گیا ہو وہاں احساس میں کمی یا ختم ہونا
٭ پیٹ کی دیوار میں کمزوری، جس سے ٹشو باہر ابھر سکتا ہے، اسے پیٹ کا ہرنیا کہا جاتا ہے
فلیپ سرجری کے بعد جلد اور سینے کی دیوار پر ریڈی ایشن تھراپی زخم بھرنے کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ میڈیکل ٹیم بعض صورتوں میں یہ مشورہ دیتی ہے کہ سرجری ریڈی ایشن تھراپی کے بعد کی جائے۔
سرجری کی تیاری
اگر آپ فلیپ سرجری پر غور کر رہی ہیں تو اپنے تمام آپشنز کے بارے میں پلاسٹک سرجن سے مشورہ کریں۔ ایسے پلاسٹک سرجن کا انتخاب کریں جو متعلقہ بورڈ سے تصدیق شدہ ہو اور ماسٹیکٹومی کے بعد چھاتی کی تشکیل کا تجربہ رکھتا ہو۔
بہتر ہے کہ بریسٹ کینسر سرجن اور پلاسٹک سرجن مل کر کام کریں تاکہ مریضہ کے لیے بہترین سرجیکل علاج اور تشکیل نو کا منصوبہ بنایا جا سکے۔
پلاسٹک سرجن مختلف طریقوں کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کرتا ہے۔ بعض اوقات مریضہ کو مختلف سرجریوں کی تصاویر بھی دکھائی جاتی ہیں۔
مریضہ کی جسمانی ساخت، مجموعی صحت اور کینسر کا علاج اس بات کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ کون سا طریقہ بہترین نتائج دے سکتا ہے۔ سرجن سرجری کی جگہ، متوقع طریقۂ کار اور بعد میں درکار علاج یا سرجریوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔
کچھ خواتین دوسری چھاتی پر بھی سرجری کرواتی ہیں تاکہ دونوں چھاتیاں زیادہ متوازن اور مشابہ ہوں۔ اس بارے میں فوائد اور نقصانات پر پلاسٹک سرجن سے ضرور بات کرنی چاہیے۔
میڈیکل ٹیم مریضہ کو سرجری کی تیاری سے متعلق ہدایات دیتی ہے، جن میں بعض دواؤں کو بند کرنا یا تبدیل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ اگر مریضہ سگریٹ نوشی کرتی ہے تو اسے ترک کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے، کیونکہ سگریٹ نوشی صحت یابی کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔
طریقۂ کار
فلیپ سرجری کے ذریعے چھاتی کی دوبارہ تشکیل اکثر ماسٹیکٹومی کے فوراً بعد شروع کی جاتی ہے۔ تاہم بعض خواتین مکمل صحت یابی کے بعد یہ سرجری کروانا پسند کرتی ہیں۔
اس دوران پلاسٹک سرجن جسم کے ایک حصے سے جلد، عضلات، چربی اور خون کی نالیاں سینے تک منتقل کرتا ہے۔ اس حصے کو فلیپ کہا جاتا ہے۔ سرجن اسی فلیپ کی مدد سے نئی چھاتی تشکیل دیتا ہے۔ بعض خواتین کو مطلوبہ سائز حاصل کرنے کے لیے بریسٹ امپلانٹ کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
چھاتی کے لیے ٹشو زیادہ تر پیٹ سے لیا جاتا ہے، تاہم رانوں، کمر یا کولہوں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ سرجن مریضہ کی جسمانی ساخت اور میڈیل ہسٹری کی بنیاد پر مناسب طریقہ منتخب کرتا ہے۔
فلیپ سرجری کی اقسام
پیڈیکل فلیپ
اس طریقے میں ٹشو منتقل کیا جاتا ہے، تاہم زیادہ تر خون کی نالیاں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ سرجن کچھ نالیاں کاٹتا ہے جبکہ دیگر کو محفوظ رکھتا ہے۔ پھر ٹشو کو جلد کے نیچے سے سینے تک منتقل کرکے نئی چھاتی بنائی جاتی ہے۔
فری فلیپ
اس طریقے میں ٹشو اور خون کی نالیاں دونوں منتقل کی جاتی ہیں۔ سرجن ٹشو کو اس کی اصل خون کی فراہمی کےنظام سے الگ کرکے سینے کے قریب نئی خون کی نالیوں سے جوڑتا ہے۔ خون کی نالیوں کو دوبارہ جوڑنے کی ضرورت کے باعث یہ سرجری عموماً زیادہ وقت لیتی ہے۔
فلیپ کو زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے خون کی مناسب روانی ضروری ہوتی ہے۔ اگر مریضہ کو ذیابیطس، خون کی نالیوں کی بیماری یا ٹشوز سے متعلق بیماری ہو تو یہ سرجری موزوں نہیں ہو سکتی۔ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو سرجری سے 4 سے 6 ہفتے پہلے تمباکو نوشی ترک کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
ٹی آر اے ایم فلیپ
ٹرانسورس ریکٹس ایبڈومینس مسل فلیپ (ٹی آر اے ایم) سرجری میں پلاسٹک سرجن پیٹ سے عضلات سمیت ٹشو نکالتا ہے۔ یہ پیڈیکل یا فری فلیپ دونوں صورتوں میں کی جا سکتی ہے۔
پیڈیکل ٹی آر اے ایم میں پورا ریکٹس مسل استعمال کیا جاتا ہے، جو پیٹ کا اہم مسل ہے۔ مسل کو محفوظ رکھنے والے ٹی آر اے ایم میں مسل کا ایک حصہ لیا جاتا ہے۔ اس سے سرجری کے بعد پیٹ کی طاقت بہتر طور پر برقرار رہ سکتی ہے۔
ڈی آئی ای پی فلیپ
ڈیپ اِنفیریئر ایپی گیسٹرک پرفوریٹر فلیپ (ڈی آئی ای پی) میں پیٹ سے صرف جلد اور چربی لی جاتی ہے، جبکہ زیادہ تر عضلات محفوظ رہتے ہیں۔ اس سے پیٹ کی طاقت بہتر رہتی ہے۔
ایس آئی ای اے فلیپ
سرفیشل اِنفیریئر ایپی گیسٹرک آرٹری فلیپ (ایس آئی ای اے) میں پیٹ کے ٹشو استعمال ہوتے ہیں، لیکن خون کی نسبتاً سطحی نالیاں لی جاتی ہیں۔ یہ کم مداخلتی طریقہ ہے، تاہم ہر مریضہ میں یہ نالیاں موجود نہیں ہوتیں۔
ٹی یو جی فلیپ
ٹرانسورس اَپر گریسیلس فلیپ (ٹی یو جی) میں ران کے اندرونی حصے اور کولہوں کے نچلے حصے سے ٹشو لیا جاتا ہے۔
پی اے پی فلیپ
پروفنڈا آرٹری پرفوریٹر فلیپ (پی اے پی) میں ران کے اوپری پچھلے حصے سے جلد اور چربی لی جاتی ہے۔ اس کا اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی مسل نہیں نکالا جاتا۔
لیٹسیمس ڈورسی فلیپ
اس سرجری میں کمر سے جلد، چربی اور مسل لیا جاتا ہے اور سینے تک منتقل کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس طریقے میں ٹشو نسبتاً کم ہوتا ہے، اس لیے اکثر بریسٹ امپلانٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
گلوٹیئل فلیپ
گلوٹیئل فلیپ میں کولہوں سے ٹشو لے کر سینے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ اُن خواتین کے لیے مفید ہے جن کے پیٹ یا کمر میں اضافی ٹشو موجود نہیں ہوتا۔
سرجری کے بعد
سرجری کے بعد سوجن کم رکھنے اور چھاتی کو سہارا دینے کے لیے لچکدار پٹی یا سپورٹ برا استعمال کی جاتی ہے۔ خون یا رطوبت نکالنے کے لیے کچھ عرصے تک باریک نالی بھی لگی رہ سکتی ہے۔ درد کے لیے مناسب ادویات دی جاتی ہیں۔
کئی ہفتوں تک تھکن اور درد رہ سکتا ہے، اس لیے آرام ضروری ہے۔ کچھ سرگرمیوں پر پابندی ہو سکتی ہے، خصوصاً بھاری وزن اٹھانا یا جسم پر دباؤ ڈالنے والی سرگرمیاں۔
نپل کی دوبارہ تشکیل
اگر چاہیں تو نپل کی دوبارہ تشکیل بھی کی جا سکتی ہے، جو عموماً مکمل صحت یابی کے بعد کی جاتی ہے۔ بعد میں نپل اور ایریولا کو رنگ دینے کے لیے ٹیٹو بھی کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل میں سکریننگ
اگر صرف ایک چھاتی دوبارہ تشکیل دی گئی ہو تو دوسری چھاتی کی میموگرافی جاری رکھنی چاہیے۔ دوبارہ تشکیل شدہ چھاتی پر عموماً میموگرافی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دونوں چھاتیوں کا باقاعدہ خود معائنہ ضروری ہے۔
نتائج
نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوتے۔ مکمل صحت یابی میں وقت لگتا ہے اور سرجیکل ٹیم مسلسل رہنمائی کرتی ہے۔
یہ سرجری چھاتی کی قدرتی شکل کے قریب نتیجہ دے سکتی ہے، لیکن مکمل طور پر پہلے جیسی چھاتی واپس نہیں لائی جا سکتی۔
٭ چھاتی کو شکل دینا
٭ کپڑوں میں توازن بہتر بنانا
٭ مصنوعی چھاتی کی ضرورت کم کرنا
یہ سرجری ممکنہ طور پر خود اعتمادی بہتر بنا سکتی ہے اور کینسر کی یادوں کو کم کر سکتی ہے، لیکن یہ پہلے جیسی شکل یا احساس واپس نہیں لا سکتی۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=plastic-surgery