چھاتی کے سرطان کے ممکنہ خطرے کا جائزہ (Breast cancer risk assessment) ایسا عمل ہے جس میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی شخص کو مستقبل میں بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات کتنے ہیں۔ جائزہ یقین سے نہیں بتا سکتا کہ چھاتی کا کینسر ہوگا یا نہیں۔ تاہم یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ آپ کا خطرہ عام افراد کے برابر ہے یا اس سے زیادہ۔
جائزہ کیوں لیا جاتا ہے
٭ بیماری ہونے کے امکانات معلوم کرنا
٭ دیکھ بھال سے متعلق بہتر فیصلے کرنا
٭ ضرورت پڑنے پر خطرہ کم کرنے کے لیے علاج پر غور کرنا
خطرات
٭ جائزے کے ساتھ بذات خود کوئی خطرہ یا مضر اثرات وابستہ نہیں
٭ جائزے کے بعد مزید ٹیسٹ یا پروسیجرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ خطرات وابستہ ہو سکتے ہیں۔ مثلاً جینیاتی ٹیسٹنگ، سکریننگ یا تشخیصی پروسیجرز کے اپنے ممکنہ خطرات ہوتے ہیں۔ خطرہ کم کرنے کے لیے سرجری کے بھی اپنے خطرات ہوتے ہیں
طریقہ کار
چھاتی کے کینسر کے خطرے کے جائزے میں درج ذیل امور شامل ہو سکتے ہیں:
٭ آپ کی عمومی صحت، تولیدی صحت، فیملی میں بریسٹ کینسر کی ہسٹری، اور طرز زندگی سے متعلق عوامل کا جائزہ
٭ کمپیوٹرائزڈ ٹول کی مدد سے چھاتی کے کینسر کے خطرے کا اندازہ لگانا
٭ نتائج اور آئندہ کے اقدامات پر گفتگو
نتائج
٭ آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آئندہ پانچ سال، 10 سال یا پوری زندگی کے دوران آپ کو چھاتی کا کینسر ہونے کا امکان کتنا ہے۔ تاہم، یہ نتائج یقین سے نہیں بتا سکتے کہ آپ کو یہ بیماری ضرور ہوگی یا نہیں ہوگی۔
اگر خطرہ عام افراد سے زیادہ ہو تو درج ذیل اقدامات کی ہدایت کی جا سکتی ہے:
٭ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، جیسے صحت مند وزن برقرار رکھنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور الکوحل کا استعمال ترک یا محدود کرنا
٭ میموگرام، ایم آر آئی اور دیگر ٹیسٹوں کے ذریعے چھاتی کے کینسر کی سکریننگ
٭ جینیٹک کاؤنسلر سے رجوع کرنا تاکہ ڈی این اے میں متعلقہ تبدیلیوں کی جانچ کی جا سکے
٭ خطرہ کم کرنے کے لیے ادویات کا استعمال
٭ چھاتیاں یا بیضہ دانی نکالنے کی سرجری۔ بعض خواتین میں بیضہ دانی نکالنے سے جسم میں ایسٹروجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس سے چھاتی کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=breast-surgeon