ہڈیوں کا کینسر (Bone cancer) ایسے غیر معمولی خلیوں کی بڑھوتری ہے جو کسی ہڈی میں شروع ہوتی ہے۔ یہ کینسر جسم کی کسی بھی ہڈی میں ہو سکتا ہے، تاہم زیادہ تر ران کی ہڈی کو متاثر کرتا ہے۔ ہڈیوں کا کینسر اس کینسر سے مختلف ہے جو جسم کے کسی دوسرے حصے سے ہڈیوں تک پھیل جائے۔
علامات
٭ ہڈی میں مسلسل یا بڑھتا ہوا درد
٭ متاثرہ جگہ پر سوجن اور چھونے سے درد
٭ ہڈی کا کمزور ہو جانا، جس سے ہڈی ٹوٹ سکتی ہے
٭ غیر معمولی تھکن محسوس ہونا
٭ بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ہڈی کا درد، سوجن یا دیگر علامات مسلسل برقرار رہیں یا وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں، تو جلد از جلد ڈاکٹر یا مستند طبی ماہر سے معائنہ کروائیں۔
وجوہات
ہڈیوں کے زیادہ تر کینسرز کی اصل وجہ معلوم نہیں۔
یہ بیماری اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہڈی یا اس کے قریب موجود خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ڈی این اے خلیوں کی نشوونما، تقسیم اور مقررہ وقت پر ختم ہونے کا نظام کنٹرول کرتا ہے۔ جب ڈی این اے میں تبدیلی آتی ہے، تو خلیے غیر معمولی رفتار سے بڑھنے لگتے ہیں اور مقررہ وقت پر ختم نہیں ہوتے۔ نتیجتاً اضافی خلیے جمع ہو کر رسولی (ٹیومر) بنا دیتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ رسولی اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں کینسر کے خلیے جسم کے دوسرے حصوں تک بھی پھیل جاتے ہیں، جسے میٹاسٹیٹک کینسر کہا جاتا ہے۔
ہڈیوں کے کینسر کی اقسام
ہڈیوں میں مختلف قسم کے خلیے موجود ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ہڈیوں کے کینسر کی بھی مختلف اقسام ہیں۔
اوسٹیوسارکوما
یہ ہڈی بنانے والے خلیوں میں شروع ہوتا ہے اور ہڈیوں کے کینسر کی سب سے عام قسم ہے۔ یہ زیادہ تر ٹین ایجرز اور نوجوانوں میں پایا جاتا ہے، تاہم کم عمر بچوں اور بڑی عمر کے افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ عموماً ٹانگوں کی لمبی ہڈیوں میں ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات بازوؤں کی ہڈیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بہت کم صورتوں میں یہ ہڈی سے باہر نرم ٹشوز میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
کونڈروسارکوما
یہ عموماً ہڈیوں میں شروع ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات نرم ٹشوز میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ زیادہ تر کولہے، پیلوک ایریا اور کندھے کی ہڈیوں کو متاثر کرتا ہے، اور درمیانی یا بڑی عمر کے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
اِیونگ سارکوما
یہ ہڈیوں اور ان کے اردگرد موجود نرم ٹشوز میں شروع ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں ہوتا ہے، لیکن کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ یہ عموماً ٹانگوں اور پیلوک بونز میں شروع ہوتا ہے، تاہم جسم کی کسی بھی ہڈی کو متاثر کر سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل
٭ موروثی جینیاتی بیماریاں
٭ ہڈیوں کی بعض دیگر بیماریاں، جیسے پیجٹ بیماری اور فائبروس ڈسپلیزیا
٭ کینسر کے علاج کے دوران دی جانے والی ریڈی ایشن یا بعض کیموتھراپی ادویات
تشخیص
ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص کے لیے پہلے مختلف امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ متاثرہ ہڈی کی حالت، رسولی کی جگہ اور اس کے سائز کا اندازہ لگایا جا سکے۔ کینسر کی حتمی تصدیق کے لیے متاثرہ ٹشو کا ایک چھوٹا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے۔
امیجنگ ٹیسٹ
٭ ایکس رے
٭ ایم آر آئی
٭ سی ٹی سکین
٭ پی ای ٹی سکین
٭ بون سکین
بائیوپسی
بایوپسی میں متاثرہ ٹشو کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں اس کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ دو طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔
٭ جلد کے ذریعے باریک سوئی داخل کرکے ٹشو کا نمونہ لینا
٭ سرجری کے ذریعے رسولی کا ایک حصہ نکال کر جانچ کرنا
بیماری کے مراحل
کینسر کی تشخیص کے بعد یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ بیماری کتنی پھیل چکی ہے۔ اسے کینسر کا مرحلہ یا سٹیج کہا جاتا ہے۔ مرحلہ طے کرتے وقت درج ذیل عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
٭ کینسر کی جگہ
٭ رسولی کا سائز
٭ کینسر کے بڑھنے کی رفتار
٭ متاثرہ ہڈیوں کی تعداد
٭ لمف نوڈز یا جسم کے دوسرے حصوں تک بیماری کے پھیلنے کی صورت
ہڈیوں کے کینسر کے چار مراحل ہوتے ہیں۔
مرحلہ 1 میں رسولی عموماً چھوٹی اور آہستہ بڑھنے والی ہوتی ہے۔ جوں جوں رسولی کا سائز یا بڑھنے کی رفتار بڑھتی ہے، بیماری اگلے مراحل میں داخل ہو جاتی ہے۔ مرحلہ 4 اس وقت ہوتا ہے جب کینسر لمف نوڈز یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہو۔
علاج
ہڈیوں کے کینسر کے علاج میں سرجری، کیموتھراپی اور شعاعی علاج شامل ہیں۔ علاج کا انتخاب کینسر کی قسم، مقام، مرحلے، مریض کی مجموعی صحت اور اس کی ترجیحات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
سرجری
سرجری کا مقصد کینسر کو مکمل طور پر نکالنا ہوتا ہے۔ اس دوران سرجن کینسر کے ساتھ اردگرد کا کچھ صحت مند ٹشو بھی نکال سکتا ہے تاکہ بیماری دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو۔ بعد ازاں ہڈی کی مرمت جسم کے کسی دوسرے حصے سے لی گئی ہڈی یا دھات اور پلاسٹک کے مصنوعی حصوں کی مدد سے کی جاتی ہے۔
اگر کینسر بہت زیادہ پھیل جائے یا ایسی جگہ ہو جہاں مکمل طور پر نکالنا ممکن نہ ہو، تو بعض صورتوں میں متاثرہ بازو یا ٹانگ کا حصہ نکالنا پڑ سکتا ہے۔
کیموتھراپی
کیموتھراپی طاقتور ادویات کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کا علاج ہے۔ زیادہ تر ادویات رگ کے ذریعے دی جاتی ہیں، جبکہ بعض گولی کی صورت میں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ کچھ اقسام کے ہڈیوں کے کینسر میں سرجری کے بعد کیموتھراپی دی جاتی ہے تاکہ باقی رہ جانے والے کینسر کے خلیے ختم کیے جا سکیں۔ بعض مریضوں میں سرجری سے پہلے کیموتھراپی دی جاتی ہے تاکہ رسولی سکڑ جائے اور اسے نکالنا آسان ہو جائے۔
کیموتھراپی تمام اقسام کے ہڈیوں کے کینسر پر یکساں مؤثر نہیں ہوتی۔ یہ زیادہ تر اوسٹیوسارکوما اور ایونگ سارکوما میں استعمال کی جاتی ہے۔ کونڈروسارکوما میں اس کا استعمال محدود ہے۔
ریڈی ایشن تھراپی
اس تھراپی میں طاقتور شعاعوں کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ شعاعیں ایکس رے، پروٹون یا دیگر ذرائع سے پیدا کی جا سکتی ہیں۔ سرجری کے بعد باقی رہ جانے والے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کے لیے بھی شعاعی علاج کیا جا سکتا ہے۔ اگر سرجری ممکن نہ ہو، تو یہ علاج بیماری کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
شعاعی علاج ایونگ سارکوما میں نسبتاً زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اوسٹیوسارکوما اور کونڈروسارکوما میں اس کا استعمال کم کیا جاتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہر ہڈی کا درد ہڈیوں کے کینسر کی علامت ہوتا ہے؟
نہیں۔ زیادہ تر ہڈیوں کا درد چوٹ، گنٹھیا یا دیگر عام بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم اگر درد مسلسل رہے یا بڑھتا جائے، تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا ہڈیوں کا کینسر مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے اور بروقت مناسب علاج شروع کیا جائے، تو بہت سے مریضوں میں کامیاب علاج ممکن ہوتا ہے۔
کیا ہڈیوں کا کینسر بچوں میں بھی ہوتا ہے؟
جی ہاں۔ اوسٹیوسارکوما اور ایونگ سارکوما جیسی اقسام زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں دیکھی جاتی ہیں۔
کیا ہڈیوں کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے؟
چونکہ اس بیماری کی اصل وجہ اکثر معلوم نہیں ہوتی، اس لیے اس سے مکمل بچاؤ کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں۔ تاہم علامات ظاہر ہونے پر بروقت تشخیص اور علاج بہتر نتائج حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist