برڈ فلو (Bird flu) یا ایویئن انفلوئنزا (Avian influenza) ایک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر پرندوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ انفلوئنزا اے وائرس کی مختلف اقسام سے پیدا ہوتی ہے۔ بعض پرندوں میں اس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ بعض میں ہلکی یا شدید بیماری ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ وہ ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔
انسانوں میں برڈ فلو کے کیس بہت کم سامنے آتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کو خدشہ ہے کہ انفلوئنزا اے وائرس میں جینیاتی تبدیلی (میوٹیشن) آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وائرس انسانوں کو زیادہ آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ اگر یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے لگے تو تیزی سے دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے۔
علامات
برڈ فلو کی عام علامات میں شامل ہیں:
٭ بخار
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ آنکھ کی سوزش (کنجنکٹیوائٹس)
٭ معدے کی خرابی اور قے
٭ اسہال
برڈ فلو عام موسمی فلو کے مقابلے میں سانس کی شدید پیچیدگیاں زیادہ پیدا کر سکتا ہے۔ وبائی صورتِ حال میں بعض مریضوں کو سانس بحال رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ کا برڈ فلو سے متاثرہ پرندوں یا جانوروں سے رابطہ رہا ہو اور بیماری کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر آپ کے پیشے، سفر یا مشاغل کے دوران برڈ فلو سے متاثرہ ماحول میں رہنے کا امکان رہا ہو اور آپ میں علامات پیدا ہوں تو بھی فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔
وجوہات
٭ برڈ فلو انفلوئنزا اے وائرس سے ہوتا ہے، جو ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی اندرونی جھلی کے خلیوں کو متاثر کرتا ہے
٭ یہ وائرس سانس، تھوک، بلغم یا فضلے کے ذریعے پھیل سکتا ہے
٭ زیادہ تر افراد متاثرہ گھریلو پرندوں، خصوصاً پولٹری فارموں یا گھریلو باڑوں میں موجود مرغیوں، سے طویل اور قریبی رابطے کے باعث متاثر ہوتے ہیں
٭ بہت کم صورتوں میں یہ جنگلی پرندوں یا دیگر جانوروں سے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے
٭ اچھی طرح نہ پکے ہوئے انڈوں یا مرغی کے گوشت سے بھی وائرس لگنے کا امکان ہو سکتا ہے، اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے
خطرے کے عوامل
٭ انسانوں میں برڈ فلو ہونے کا مجموعی خطرہ کم ہے
٭ بیمار پرندوں یا ان کے ماحول سے رابطہ اس بیماری کا سب سے بڑا خطرے کا عامل ہے
٭ بعض محدود واقعات میں انسان سے انسان میں منتقلی بھی دیکھی گئی ہے
پیچیدگیاں
برڈ فلو پہلے سے موجود بیماریوں کو بگاڑ سکتا ہے یا نئی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، جن میں بعض جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
ان پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ دمہ یا سسٹک فائبروسس جیسی دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں کا بگڑ جانا
٭ کان یا سائی نس کا انفیکشن
٭ ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم
٭ گردوں کے مسائل
٭ دل کے مسائل
٭ پھیپھڑوں میں خون بہنا، پھیپھڑے کا سکڑ جانا یا بیکٹیریا سے ہونے والا نمونیا
٭ سیپسس
بچاؤ کی تدابیر
٭ اگر ایسے علاقے کا سفر کریں جہاں برڈ فلو پھیل رہا ہو تو حتیٰ الامکان پولٹری فارموں اور پرندوں کی منڈیوں سے دور رہیں
٭ خوراک کو اچھی طرح پکائیں اور جانوروں یا کچی خوراک کو ہاتھ لگانے کے بعد صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں
٭ ہر سال موسمی فلو کی ویکسین ضرور لگوائیں
٭ ضرورت پڑنے پر آنکھوں، ناک اور منہ کے لیے حفاظتی سامان استعمال کریں
٭ خوراک کے ذریعے برڈ فلو منتقل ہونے کے کیس انتہائی کم ہیں، پھر بھی محفوظ طریقے سے خوراک تیار کرنا ضروری ہے۔
تشخیص
برڈ فلو کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر ناک اور گلے سے رطوبت کا نمونہ لے کر لیبارٹری میں وائرس کی جانچ کراتے ہیں۔ اگر مریض کی آنکھ متاثر ہو تو آنکھ سے بھی رطوبت کا نمونہ لیا جا سکتا ہے۔
علاج
برڈ فلو کے علاج کے لیے اینٹی وائرل ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ادویات علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد شروع کی جائیں تو زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر بعض اوقات لیبارٹری رپورٹ آنے سے پہلے ہی علاج شروع کر دیتے ہیں۔
لیبارٹری رپورٹ آنے تک بھی دوسروں سے فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔ اگر برڈ فلو کی تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹر آپ کے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کے ٹیسٹ کرانے کی بھی سفارش کر سکتے ہیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا برڈ فلو کے تمام وائرس انسانوں کو متاثر کرتے ہیں؟
نہیں۔ برڈ فلو کے بیشتر وائرس صرف پرندوں کو متاثر کرتے ہیں۔ صرف چند اقسام ہی مخصوص حالات میں انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کیا موسمی فلو کی ویکسین برڈ فلو سے بھی بچاتی ہے؟
نہیں۔ موسمی فلو کی ویکسین برڈ فلو سے براہِ راست تحفظ فراہم نہیں کرتی، لیکن یہ عام انفلوئنزا سے بچانے میں مدد دیتی ہے اور دونوں وائرسوں کے ایک ساتھ انفیکشن کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔
اگر برڈ فلو کا شبہ ہو تو کیا لیبارٹری رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے؟
نہیں۔ اگر علامات موجود ہوں اور متاثرہ پرندوں یا ماحول سے رابطہ بھی رہا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر لیبارٹری رپورٹ آنے سے پہلے ہی اینٹی وائرل علاج شروع کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=infectious-diseases