امریکا کی پین سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق دماغی خلیوں کے اندر موجود ایک پروٹینی جال نما ساخت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ ساخت الزائمر سے منسلک نقصان دہ پروٹین کی پیداوار محدود رکھتی ہے۔ نتائج طبی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سامنے آئے۔
محققین نے لیبارٹری میں تیار کیے گئے اعصابی خلیوں پر میمبرین ایسوسی ایٹڈ پیریاوڈک سکیلیٹن کا جائزہ لیا۔ یہ ساخت خلیے کی جھلی کو برقرار رکھنے کے ساتھ اس پر موجود پروٹینز کی حرکت بھی منظم کرتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس ساخت کے کمزور ہونے پر ایملوئیڈ پریکرسر پروٹین (اے پی پی) کی خلیے کے اندر منتقلی بڑھ گئی۔ نتیجتاً ایملوئیڈ بیٹا 42 نامی پروٹین زیادہ مقدار میں بننے لگی، جو الزائمر کی بیماری سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔
اس ساخت کو محفوظ رکھنا مستقبل کی نئی حکمتِ عملی بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر رووبو ژو کے مطابق اس میں کامیابی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے الزائمر سمیت اعصابی بیماریوں کے نئے علاج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم مزید تحقیق درکار ہے۔