انگلینڈ میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ ٹو ذیابیطس بڑھ رہی ہے۔ ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بروقت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی پر زور دیا۔
امپیریل کالج لندن کے محققین نے 2011 سے 2024 تک کے این ایچ ایس کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ نتائج کے مطابق 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس بڑھ رہی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق نوجوانوں میں بڑھتا موٹاپا اس رجحان کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ کووڈ وبا کے بعد یہ اضافہ مزید نمایاں ہوا۔ تاہم موٹاپے یا کووڈ کو اس کی براہِ راست وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق کم عمری میں ٹائپ ٹو ذیابیطس دل کی بیماری، فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ صحت مند غذا، وزن میں کمی اور بروقت علاج سے اس کے طویل مدتی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔