امریکا میں چہرے کی تصویر سے کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات جانچنے والا اے آئی سسٹم تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈاکٹروں کو مریض کی مجموعی صحت سمجھنے اور علاج کے فیصلوں میں مدد دے سکتا ہے۔
میساچوسٹس جنرل بریگھم کے محققین نے ’FAHR-Face‘ نامی سسٹم کو چار کروڑ سے زائد چہروں کی تصاویر پر تربیت دی۔ اس سے دو ٹول بنائے گئے۔ ایک جسم کی صحت کے لحاظ سے عمر کا تخمینہ لگاتا ہے۔ دوسرا کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات جانچتا ہے۔
بقا کا اندازہ لگانے والا ٹول 34 ہزار 363 مریضوں کی تصاویر سے تیار کیا گیا۔ اسے تین ہزار 820 مریضوں کے ڈیٹا پر جانچا گیا۔ نیدرلینڈز کے مزید چار ہزار 892 مریضوں کے ڈیٹا سے بھی نتائج کی توثیق کی گئی۔
سسٹم کے متعین کردہ گروپوں میں بقا کے امکانات کا واضح فرق دیکھا گیا۔ زیادہ خطرے والے گروپ میں شرحِ اموات، کم خطرے والے گروپ کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ تھی۔
محققین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی علاج کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ اسے ڈاکٹر کے طبی فیصلے میں معاون ذریعے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ تحقیق طبی جریدے ’دی لانسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئی۔