Vinkmag ad

اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار نہ کریں، ماہرین

ADHD diagnosis, social media, ADHD symptoms, mental health, professional diagnosis, expert warning, and child health

سوشل میڈیا پر اے ڈی ایچ ڈی کی علامات سے متعلق مختصر ویڈیوز نوجوانوں اور والدین کو متاثر کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آگہی بڑھانے میں فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔ تاہم اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کے لیے کلینیکل سائیکالوجسٹ سے باقاعدہ طبی جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق بھولنے یا توجہ بٹنے جیسی عام کیفیات کو اے ڈی ایچ ڈی سمجھ لینا درست نہیں۔

اے پی پی کے مطابق ماہر نفسیات ڈاکٹر ثمینہ یاسر نے کہا کہ مختصر ویڈیوز سے تشخیص نہیں ہوسکتی۔ علامات کی فہرست بھی اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص کے لیے کافی نہیں۔ نوجوان بعض اوقات بھولنے یا توجہ کی کمی کو فوراً اے ڈی ایچ ڈی سمجھ لیتے ہیں۔ درست تشخیص کے لیے میڈیکل ہسٹری اور علامات کے روزمرہ زندگی پر اثرات کا جائزہ ضروری ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر جبار بھٹو کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی والے 50 سے 60 فیصد افراد میں دوسری کیفیات بھی ہوسکتی ہیں۔ ان میں سیکھنے سے متعلق عوارض اور دیگر ذہنی مسائل شامل ہیں۔ شعبہ اطفال کے ڈاکٹر نوید اشرف نے کہا کہ کبھی کبھار بھولنا یا توجہ بٹنا اے ڈی ایچ ڈی کی علامت نہیں۔ علامات کا جائزہ بچے کی عمر، نشوونما اور روزمرہ کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

ماہرین نے والدین کو مرض کی تشخیص کے لیے سوشل میڈیا ویڈیوز پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

Vinkmag ad

Read Previous

فضائی آلودگی ذہنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ، تحقیق

Read Next

ٹمپریچر میں کمی سے کارڈیک اریسٹ کا خطرہ زیادہ، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular