کمر درد (Back pain) ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کی بنا پر بہت سے لوگ طبی مدد حاصل کرتے ہیں یا کام سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں معذوری کی بڑی وجوہات میں بھی شامل ہے۔
علامات
کمر درد پٹھوں کے ہلکے درد سے لے کر تیز، یا چبھنے جیسا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ ایک یا دونوں ٹانگوں تک پھیل جاتا ہے۔ جھکنے، جسم کو موڑنے، وزن اٹھانے، زیادہ دیر کھڑے رہنے یا چلنے سے درد بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
زیادہ تر افراد میں کمر درد گھریلو نگہداشت اور احتیاطی تدابیر سے چند ہفتوں میں بہتر ہو جاتا ہے۔ درج ذیل صورتوں میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں:
٭ درد چند ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے
٭ درد شدید ہو اور آرام کرنے سے بھی کم نہ ہو
٭ درد ایک یا دونوں ٹانگوں میں پھیل جائے، خاص طور پر اگر گھٹنے سے نیچے تک پہنچ جائے
٭ ایک یا دونوں ٹانگوں میں کمزوری، سن ہونے یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہو
٭ بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونے لگے
فوری طبی امداد
درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں:
٭ پاخانے یا پیشاب پر اچانک کنٹرول میں مسئلہ پیدا ہو
٭ کمر درد کے ساتھ بخار بھی ہو
٭ گرنے، کمر پر چوٹ لگنے یا کسی حادثے کے بعد درد شروع ہو
وجوہات
بعض اوقات کمر درد کی کوئی واضح وجہ ٹیسٹ یا سکین میں سامنے نہیں آتی۔ کمر درد سے منسلک عام وجوہات درج ذیل ہیں:
پٹھوں یا لیگامنٹس میں کھچاؤ: بار بار بھاری وزن اٹھانے یا اچانک غلط انداز میں حرکت کرنے سے کمر کے پٹھوں یا ریڑھ کی ہڈی کے لیگامنٹس میں کھچاؤ آ سکتا ہے۔
ڈسک کا ابھر جانا یا پھٹ جانا: ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیوں کے درمیان موجود ڈسک جھٹکوں سے حفاظت کرتی ہے۔ بعض اوقات ڈسک ابھر کر یا پھٹ کر اعصاب پر دباؤ ڈالتی ہے، تاہم ہر بار اس سے درد نہیں ہوتا
اوسٹیو آرتھرائٹس: یہ بیماری کمر کے نچلے حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔
اوسٹیو پوروسس: ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہونے سے ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں فریکچر ہو سکتے ہیں
اینکائلوزنگ اسپونڈیلائٹس: سوزش والی یہ بیماری ریڑھ کی ہڈی کی بعض ہڈیوں کو آپس میں جوڑ دیتی ہے، جس سے کمر کی لچک کم ہو جاتی ہے
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ بڑھتی عمر، خاص طور پر 30 یا 40 سال کے بعد
٭ ورزش کی کمی اور کمر یا پیٹ کے کمزور پٹھے
٭ زیادہ جسمانی وزن
٭ بعض بیماریاں، جیسے آرتھرائٹس اور کینسر
٭ غلط طریقے سے وزن اٹھانا
٭ ڈپریشن، بے چینی اور ذہنی دباؤ
٭ تمباکو نوشی
بچاؤ کی تدابیر
کمر کو مضبوط اور صحت مند رکھنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ باقاعدگی سے ہلکی ورزش کریں، جیسے پیدل چلنا، سائیکل چلانا یا تیراکی
٭ کمر اور پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط اور لچکدار بنانے والی ورزشیں کریں
٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں
٭ تمباکو نوشی ترک کریں
جسم کو درست انداز میں استعمال کرنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
٭ سیدھے کھڑے ہوں اور جھک کر کھڑے ہونے سے گریز کریں۔ اگر زیادہ دیر کھڑے رہنا ہو تو ایک پاؤں چھوٹے سٹول پر رکھیں اور وقفے وقفے سے پاؤں بدلتے رہیں
٭ ایسی کرسی استعمال کریں جو کمر کو مناسب سہارا دے۔ ہر آدھے گھنٹے بعد اپنی نشست تبدیل کریں
٭ وزن اٹھاتے وقت کمر کی بجائے ٹانگوں کی طاقت استعمال کریں۔ کمر سیدھی رکھیں، صرف گھٹنوں سے جھکیں، جسم کو نہ مروڑیں اور وزن جسم کے قریب رکھیں
مصنوعات اور گدے
کمر درد سے بچاؤ یا آرام کے دعوے کرنے والی بہت سی مصنوعات دستیاب ہیں، لیکن ان کے مؤثر ہونے کے واضح سائنسی شواہد موجود نہیں۔ اسی طرح کسی ایک خاص قسم کے گدے کو تمام مریضوں کے لیے بہترین نہیں کہا جا سکتا۔ بہتر انتخاب وہی ہے جو آپ کو سب سے زیادہ آرام دہ محسوس ہو۔
تشخیص
ڈاکٹر کمر کا معائنہ کرتے ہیں اور بیٹھنے، کھڑے ہونے، چلنے اور ٹانگ اٹھانے کی صلاحیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ درد کی شدت جاننے کے لیے صفر سے 10 تک کے پیمانے پر درد کی درجہ بندی بھی پوچھ سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ درد روزمرہ زندگی کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے۔
ضرورت کے مطابق درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
٭ ایکس رے، جس سے ہڈی ٹوٹنے یا گٹھیا کا پتا چل سکتا ہے
٭ ایم آر آئی یا سی ٹی سکین، جن سے ڈسک، اعصاب، پٹھوں، لیگامنٹس، ہڈیوں اور ٹشوز کے دیگر مسائل سامنے آ سکتے ہیں
٭ خون کے ٹیسٹ، جو انفیکشن یا دیگر بیماریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں
٭ اعصابی ٹیسٹ، جن میں الیکٹرو مایوگرافی (ای ایم جی) نمایاں ہے، اعصاب پر دباؤ کی تصدیق میں مدد دیتے ہیں
علاج
زیادہ تر افراد، خاص طور پر 60 سال سے کم عمر لوگوں میں، ایک ماہ کے اندر گھریلو علاج سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض مریضوں میں درد کئی ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔
درد کم کرنے والی ادویات، گرمائش اور معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنا اکثر کافی ہوتا ہے۔ مکمل بیڈ ریسٹ تجویز نہیں کیا جاتا۔ اگر چند ہفتوں بعد بھی افاقہ نہ ہو تو ڈاکٹر مزید ادویات یا دیگر علاج تجویز کر سکتے ہیں۔
ادویات
٭ درد کم کرنے والی ادویات
٭ پٹھوں کو ریلیکس کرنے والی ادویات
٭ جلد پر لگانے والی درد کم کرنے والی کریمیں، مرہم، جیل یا پیچ
٭ اوپیوئیڈز، جو محدود مدت کے لیے ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کیے جا سکتے ہیں
٭ بعض اینٹی ڈپریسنٹس، جو طویل مدتی کمر درد میں فائدہ دے سکتے ہیں
فزیوتھراپی
فزیوتھراپسٹ ایسی ورزشیں سکھاتے ہیں جو جسم کی لچک بڑھانے، کمر اور پیٹ کے پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی انداز بہتر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ وہ روزمرہ حرکات کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کے طریقے بھی بتاتے ہیں۔
سرجری اور دیگر طریقۂ علاج
٭ سرجری ان مریضوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے جن میں ٹانگ تک پھیلنے والا درد، یا ڈسک اور اعصاب سے متعلق سنگین مسائل موجود ہوں
٭ کورٹیسون انجیکشنز ٹانگ تک پھیلنے والے درد اور اعصاب کے گرد سوزش کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، اگرچہ ان کا اثر عموماً ایک سے دو ماہ تک رہتا ہے
٭ ریڈیو فریکوئنسی ایبلیشن میں درد پیدا کرنے والے اعصاب کو متاثر کیا جاتا ہے تاکہ درد کے سگنلز کم ہو جائیں
٭ جلد کے نیچے لگائے جانے والے آلات برقی سگنلز کے ذریعے درد کے سگنلز کو روکنے میں مدد دیتے ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہر کمر درد ڈسک کے مسئلے کی علامت ہوتا ہے؟
نہیں، زیادہ تر کمر درد پٹھوں یا لیگامنٹس میں کھچاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ڈسک کا مسئلہ کمر درد کی متعدد ممکنہ وجوہات میں سے صرف ایک ہے۔
کیا کمر درد میں روزمرہ کی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہییں؟
جی ہاں، جہاں تک ممکن ہو معمول کی ہلکی سرگرمیاں جاری رکھنی چاہییں۔ البتہ ایسی سرگرمیوں سے پرہیز کریں جو درد میں واضح اضافہ کریں۔
کیا تمباکو نوشی کمر درد کو بڑھا سکتی ہے؟
جی ہاں، تمباکو نوشی کمر درد کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی تک خون کی فراہمی کم کر سکتی ہے اور ہڈیوں کو بھی کمزور بنا سکتی ہے۔
کیا ہر کمر درد کے مریض کو سرجری کی ضرورت پڑتی ہے؟
نہیں، زیادہ تر مریض ادویات، فزیوتھراپی اور احتیاطی تدابیر سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ سرجری صرف مخصوص اور سنگین صورتوں میں تجویز کی جاتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic