اپنے پیاروں کو کھو دینے کے بعد تکلیف یا غم محسوس ہونے نارمل ہے مگر یہ بڑھتا ہی چلا جائے، روزمرہ زندگی کو متاثر کرے اور طویل عرصے تک قائم رہے تو اسے Complicated grief کہتے ہیں۔ اس کیفیت میں وقت گزرنے کے باوجود انسان کے لیے نقصان کو قبول کرنا اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آنا مشکل ہو سکتا ہے۔
علامات
اس کی علامات یہ ہیں:
٭ اپنے عزیز کی جدائی پر شدید غم اور درد محسوس کرنا
٭ ہر وقت اسی بات کو یا ان سے جڑی یادوں کو سوچتے رہنا
٭ ان سے جدائی کو قبول نہ کر پانا
٭ زندگی کو بے مقصد سمجھنا یا دوسروں پر اعتماد نہ کر پانا
٭ کسی بھی چیز میں دل نہ لگنا
٭ روزمرہ کام نہ کر پانا
٭ خود کو قصوروار سمجھنا
وجوہات
اس کیفیت کی کوئی واضح وجہ معلوم نہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس میں ماحول، شخصیت اور موروثی عوامل کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خطرے کے عوامل
٭ خواتین میں بالخصوص بڑھتی عمر کے ساتھ اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ عوامل اس کے امکانات بڑھا سکتے ہیں
٭ کسی اپنے کی اچانک موت
٭ تنہائی
٭ ڈپریشن یا پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی ہسڑی
٭ بچپن میں کسی صدمے سے گزرنا
٭ شدید مالی مشکلات
پیچیدگیاں
علاج نہ ہونے پر مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، مثلاً:
٭ ڈپریشن یا اینگزائٹئ
٭ نیند کے مسائل
٭ روزمرہ زندگی، تعلقات یا کام کی کارکردگی متاثر ہونا
٭ الکحل یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال
٭ خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات آنا
٭ ہائی بلڈ پریشر، کینسر یا دل کی بیماری کے امکانات میں اضافہ
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر کسی عزیز کی جدائی کے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے بعد بھی آپ نارمل روٹین میں نہ آئیں اور خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات آئیں تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔
تشخیص
اگر کسی عزیز کی وفات کے کئی ماہ بعد بھی شدید غم روزمرہ زندگی کو متاثر کرے تو مکمل طبی اور نفسیاتی جائزے کے ذریعے تشخیص کی جا سکتی ہے۔
علاج
اس مقصد کے لیے سائیکو تھیراپی کی جاسکتی ہے۔ اس میں غم کو سمجھنے اور اس سے نکلنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ادویات بھی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
غم سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے یہ اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں:
٭ اپنے جذبات کا اظہار کریں اور دوسروں سے رابطے میں رہیں
٭ ضرورت پڑنے پر مشاورت یا سپورٹ گروپس سے مدد لیں
٭ مناسب نیند لیں اور متوازن غذا کھائیں
٭ روزمرہ معمولات برقرار رکھنے کی کوشش کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا صدمے کے بعد طویل غم ڈپریشن جیسی بیماری ہے؟
یہ ڈپریشن سے مختلف ہے، اگرچہ بعض افراد میں دونوں کیفیات ایک ساتھ موجود ہو سکتی ہیں۔
کیا اس کا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں، تھیراپی اور ادویات وغیرہ اس میں بہتری آ سکتی ہے۔
کب پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنی چاہیے؟
اگر غم ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک شدید رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ ذہنی یا جذباتی مسائل کی صورت میں مستند طبی ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist