فائزر نے تصدیق کی ہے کہ ہیموفیلیا ٹرائل کے دوران ایک مریض انتقال کر گیا ہے۔ مریض ہیموفیلیا کی دوا ہِمپاوزی (Hympavzi) استعمال کر رہا تھا۔ یورپی ہیموفیلیا کنسورشیم کے مطابق مریض 14 دسمبر کو فالج کا شکار ہوا۔ بعد ازاں دماغ میں خون بہنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔
متوفی مریض ہیموفیلیا اے یا بی کی ایک تحقیقی سٹڈی میں شامل تھا۔ اس ہیموفیلیا ٹرائل میں دوا کو رکاوٹوں کے ساتھ یا بغیر جانچا جا رہا تھا۔ فائزر کے مطابق موت کی وجوہات پیچیدہ اور کئی طبی عوامل سے جڑی ہو سکتی ہیں۔ محققین اور آزاد ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی واقعے کا جائزہ لے رہی ہے۔
ہِمپاوزی ہفتے میں ایک بار انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہے۔ یہ دوا 12 سال یا اس سے زائد عمر کے مریضوں کے لیے منظور شدہ ہے۔ اس کا مقصد ہیموفیلیا مریضوں میں خون بہنے کے واقعات کم کرنا ہے۔ فائزر کے مطابق دستیاب کلینیکل ڈیٹا میں مجموعی حفاظتی خدشات سامنے نہیں آئے۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں فائزر نے جین تھراپی بیکویز کی کمرشلائزیشن روک دی تھی۔ یہ ایک بار دی جانے والی تھیراپی ہے۔ بیکویز شدید ہیموفیلیا بی کے بالغ مریضوں کے لیے امریکہ میں منظور شدہ ہے۔