آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خاص طرح کے نینوڈاٹس تیار کیے ہیں۔ یہ ذرات کینسر زدہ خلیوں کو مؤثر انداز میں ختم کرتے ہیں جبکہ صحت مند خلیوں کو بالکل محفوظ رکھتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ دریافت کینسر کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو رہی ہے۔
نینوڈاٹس مولبڈینم آکسائیڈ سے بنے ہیں اور ری ایکٹو آکسیجن مالیکیولز خارج کرتے ہیں۔ یہ مالیکیولز کینسرزدہ خلیوں میں پروگرام شدہ ازخود تباہی کا عمل شروع کرتے ہیں۔ ابتدائی تجربات میں انہوں نے سرویکل کینسر کے خلیوں کو صرف 24 گھنٹوں میں صحت مند خلیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ مؤثر طریقے سے ختم کیا۔
ماہرین کے مطابق کینسر زدہ خلیے پہلے ہی دباؤ میں ہوتے ہیں۔ نینوڈاٹس یہ دباؤ بڑھا کر انہیں ازخود تباہی پر مجبور کرتے ہیں۔ مزید براں یہ ذرات روشنی کی غیر موجودگی میں بھی مؤثر ہیں۔ تحقیق ابھی لیبارٹری مراحل میں ہے اور جانوروں یا انسانوں پر اس کی آزمائش باقی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق نینوڈاٹس مستقبل میں کینسر کے علاج میں ایک محفوظ اور مؤثر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔