یہ ڈرامہ دکھلائے گا کیا سین… اخلاقیات کے بغیر ٹیکنالوجی

153

ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلسل ترقی ہورہی ہے۔میدان طب میں اس ترقی نے تیزرفتار اور مو¿ثر رابطوں کے ذریعے علاج معالجہ اورتعلیم وتحقیق کے لیے بہت سی آسانیاںاورنئے راستے پیدا کیے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جس قدر ترقی ٹیکنالوجی کے دائرے میں ہورہی ہے، اخلاقی دائرے میں اسی قدر پستی ہوتی چلی جارہی ہے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھتے ہوئے جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ کسی نئی صورت حال کاسامنا کرنے کے لےے قانون پر توجہ تو دی جاتی ہے لیکن لوگوں کی اخلاقی تعلیم اورتربیت پر توجہ کافقدان ہے۔’طبی اخلاقیات‘ کاذکر اگرچہ بہت ہوتاہے لیکن اس دائرے میں بھی صورت حال تسلی بخش نہیں ۔خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر


میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے امتحان کا اعلان ہوا تو ساتھ ہی امیدواروں کو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ وہ اس کے لیے آتے ہوئے ہلکے کپڑے پہن کر آئیں۔ اس دن کیلئے ڈریس کوڈ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ قمیص کی آستین آدھی ہو اوربٹن زیادہ بڑے نہ ہوں۔ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ کمرہ امتحان میں بندجوتوں کی بجائے کھلی چپل یعنی سلیپر پہن کرآئیں۔
اس ہدایت نامے کاپس منظریہ تھا کہ کچھ عرصہ قبل اسی طرح کے پری میڈیکل امتحان میں بدعنوانی اوربدانتظامی کی بہت سی شکایات سامنے آئیں۔ اس پر متاثرین میں سے بعض نے خودکشی کرلی، بہت سے مایوسی کا شکار ہوگئے جبکہ کچھ نے انصاف کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے شکایات کاجائزہ لیا اور سابقہ امتحانات کو کالعدم قراردے دیا۔ ازسرنو امتحان منعقدکرانے کے لیے عدالت نے جو خصوصی احکامات دیے ، لباس کے حوالے سے زیربحث پابندیوں کا مقصد امیدواروں کودوران امتحان ناجائز ذرائع کے استعمال سے دور رکھنا تھا۔ سپریم کورٹ کے فےصلے کے نتیجے میں مدھیہ پردیش (بھارت) کے چھے لاکھ طلبہ کو ازسرنو امتحان دیناپڑا۔
کالج میں داخلے کے لیے امتحانات توبرسوں سے منعقد ہوتے آئے ہیں لیکن پہلے کبھی ایسی ہدایات نہ دی گئی تھیں۔ کسی خاص لباس کی __جو بس ناگزیرحد تک ہی جسم کوڈھانپے__ اصولاً تو کوئی خاص اہمیت نہیں ہونی چاہےے ۔لیکن عدالت نے ایسے احکامات کیوں دیے؟ معلوم ہواکہ نقل کرنے والے طلبہ موبائل سمیں اوربلیوٹوتھ آلات اپنے کپڑوں میں چھپا کرلے آتے ہیںاور کمرہ امتحان میں ان کی مدد سے نقل کرتے ہیں۔ نقل کے یہ واقعات پڑوسی ملک (بھارت) کے ہیںاوروہاں کے اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ عرصے میں ائیرفون ےا قمیص کے بٹنوں میں کیمرہ اور مائیکروائیرپلگس کے ذریعہ نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے امیدواروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں خاص قلم کے ذریعہ سوالنامے کو سکین کرنے کے بعد بلیوٹوتھ کے ذریعہ تصویر باہربھیج دی گئی۔ یوںجب ایک بارسوالنامہ امتحان گاہ سے باہرکسی شخص کو مل جائے تو وہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یااس کے بغیر ہی جوابات تیارکرکے کمرہ امتحان میں پہنچادیتاہے۔ اس تناظرمیں ڈریس کوڈ کی پابندی کے ذریعہ دراصل ان آلات کو چھپانے والی لباس کی پوشیدہ جگہوں کوختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تو کیا ان احکامات کے نتیجے میں نقل کا سدباب ہوجائے گا؟ ہوسکتا ہے کہ منتظمین کووقتی طور پرکچھ کامیابی ہوجائے لیکن پھرکیاہوگا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جلد ہی ٹیکنالوجی اور آگے بڑھے گی او رلوگ دھوکہ دہی کے لیے کوئی اورنیا حربہ اختیارکرنے لگیں گے۔ یوں ان مسائل پرنئے قوانین اور قواعدوضوابط بنانے سے آگے بڑھ کرزیادہ گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی زندگی کے لیے ہر میدان میں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آسانی پیدا کرنے والی ہر ایجادکی طرح انسان اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی بہت جلد عادی ہوجاتا ہے۔ طب اورطبی تعلیم کے میدان میں تو اس کی اہمیت اوربھی زیادہ ہے۔ تاہم امتحان میں نقل کی طرح دھوکہ دہی، جعلسازی اور فراڈ کے لیے اس ٹیکنالوجی کا اس پیمانے پر غلط استعمال ایک بہت اہم حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس امر کی تحسین کی جانی چاہےے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلسل ترقی ہورہی ہے اورمیدان طب میں اس ترقی نے تیزرفتار اور مو¿ثر رابطوں کے ذریعے علاج معالجہ اورتعلیم وتحقیق کے لیے بہت سی آسانیاںاورنئے راستے پیدا کیے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جس قدر ترقی ٹیکنالوجی کے دائرے میں ہورہی ہے، اخلاقی دائرے میں اسی قدر پستی ہوتی چلی جارہی ہے۔ٹیکنالوجی کے ذریعہ بڑھتے ہوئے جرائم کا اصل سبب یہی ہے کہ کسی نئی صورت حال کاسامنا کرنے کے لےے قانون پر توجہ تو دی جاتی ہے لیکن لوگوں کی اخلاقی تعلیم اورتربیت پر توجہ کافقدان ہے۔’طبی اخلاقیات‘ کاذکر اگرچہ بہت ہوتاہے لیکن اس دائرے میں بھی صورت حال کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ۔
صورت حال کو اس پہلو سے بھی دیکھاجائے کہ اگر مستقبل میں ڈاکٹربننے والے نوجوان نوعمری میں ہی نقل ،دھوکہ دہی اور فریب کے عادی ہوں اور زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی کامیابی کی بنیاد یہ ہو تو یہ لوگ آئندہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں بھی دیانت وامانت کے اصولوں کاپاس نہیں کرسکیں گے۔ یوں یہ ایک تباہ کن چکر (vicious cycle)ہے جس سے نکلنے کے لیے ناگزیر ہے کہ تعلیم کے مقاصد کا اہم ترین حصہ محض سند اوراس کے نتیجے میں محض ملازمت کاحصول نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت زندگی گزارنے کی تربیت ہو۔میڈیکل کی تعلیم میں، جس کے سندیافتہ افرادنے انسانی جانوں کی حفاظت کرنا ہوتی ہے، اس کی اہمیت کسی بھی دوسرے میدان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of