چائے تھکن اتارے ‘جوش دلائے

31

تقریباً اڑھائی ہزار سال قبل مسیح کی بات ہے کہ چین کا شہنشاہ شن ننگ (Shennong)ایک دن گرم پانی سے بھراپیالہ لئے ایک پودے کے پاس کھڑا تھا۔اچانک اس پودے کی چند پتیاں اڑتی ہوئی آئیں اور شہنشاہ کے پیالے میں گرگئیں۔پانی کی رنگت ہلکی سی تبدیل ہوگئی اور جب بادشاہ نے اسے پیا تو اسے بہت سکون محسوس ہوا۔یوں چائے کااولین استعمال شروع ہوا اور رفتہ رفتہ ہر گھر کی ضرورت بن گیا۔ چائے اصل میں چینی زبان کا لفظ ہے۔’چاء ‘اس پانی کو کہتے ہیں جس میں جڑی بوٹی ڈال کر ابالا گیا ہو۔’’ئے‘‘ پتی کا نام ہے جسے پھینک دیا جاتا ہے ۔آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ چائے کی ایک ہزار سے زائد اقسام ہیں۔چائے چین کے علاوہ تبت‘ نیپال‘سری لنکا‘انڈونیشیا‘ برازیل‘ ارجنٹائن‘ زمبابوے‘ آسام ‘بنگال اور کینیا میںبھی کاشت کی جاتی ہے۔
چائے کی پتی عموماً تین رنگوں میں دستیاب ہے جن میں سبز ‘ کالی اور سفید شامل ہیں۔سفید چائے کی خوشبو بہت تیز ہوتی ہے اور اس کی پتیاں غنچے کی طرح اَدھ کھلی ہوتی ہیں۔سبز چائے کو تھوڑا سا سکھا کر محفوظ کیا جاتا ہے جبکہ کالی چائے کی پتیاں زیادہ دیرتک خشک کی جاتی ہیںجس سے ان کا سبز رنگ سیاہی میں تبدیل ہوتا ہے۔اس وقت پوری دنیا میں سادہ پانی سب سے زیادہ پئے جانے والا مشروب ہے جس کے بعد چائے کا نمبر آتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی چائے رچ بس گئی ہے اور دفتروں‘ گھروں اور دکانوں سمیت ہر جگہ چائے پی اور پیش کی جاتی ہے۔ کشمیری چائے بھی منفرد لذت اورذائقہ کی وجہ سے دعوتوں اورشادی بیاہ کی تقریبات کا خاص جزو بن گئی ہے ۔

سبز چائے
چائے کا سبز رنگ برقرار رکھنے کے لئے اس کے پتوں کو گرم کرکے سکھایاجاتا ہے۔اس میں موجود حیاتیاتی اورکیمیائی مادوں کے مرکبات مختلف بیماریوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ خصوصاًپولی فینولز (Polyphenols)صحت کے لئے بہت مفید ہیں اور گلنے سڑنے کے عمل کو روکتے ہیں۔ سبز چائے ذہنی دبائو کو کم کرتی ہے۔
دل کی تکالیف میں اس چائے کابکثرت استعمال نقصان دہ ہے۔ ایسے مریض اگر کیفین سے پاک چائے استعمال کریں تو ان کی صحت کے لئے اچھی ہے ۔چائے میں فلورائیڈ بھی ہوتا ہے جو دانتوں کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔یہ مسوڑھوں کی بیماریوں سے تحفظ دیتا ہے ‘دانتوں کی بیرونی سطح پرچمک برقراررکھنے میںمدددیتا ہے اور جراثیم کو ختم کرتا ہے۔ سبز چائے ٹھنڈی ہو یا ہلکی گرم‘ اگراس کی ایک پیالی میںباربار روئی بھگو کراس سے چہرہ صاف کیاجائے تو جلد صاف‘ تروتازہ اور نرم و ملائم رہتی ہے۔

لیمن گراس چائے
لیمن گراس کی چائے بھی صحت کے لئے مفید ہے۔یہ پاکستان کے علاوہ سری لنکا‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اورہندوستان میں کاشت ہوتا ہے۔ پاکستان میںاسے بہاولپور میں کاشت کیا جاتا ہے ۔اس میں ایسے اجزاء موجود ہیں جو ہاضمے کی قوت کو بڑھاتے ہیں۔یہ معدے کی متعدد تکالیف‘خارش اور جلدی امراض میںکام آتا ہے۔
لیمن گراس کی چائے کئی طرح سے بنتی ہے۔آپ تھوڑی سی لیمن گراس چائے کی طرح پکا کر پیالی میں ڈالیں۔اس میںا یک چمچ شہد ڈالیںاور آدھے لیموں کا رس ملا کر پی جائیں۔آپ کوبھرپور توانائی کا احساس ہوگا۔اس میں چارچمچے کینو کا رس یا سیب کا جوس بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔چھوٹی الائچی کے ساتھ پکائی ہوئی چائے منفرد ذائقہ رکھتی ہے۔آپ پئیں گے تو یقیناًاسے پسند کریں گے ۔

لیمن گراس کی چائے ذہنی دبائو کو دورکرتی ہے۔جن لوگوں کو پسینہ زیادہ آتا ہو یابغلوں میں بدبو رہتی ہو‘ انہیں چاہئے کہ لیمن گراس کے پتے پانی میںخوب پکا کراسے چھان لیں اور اس کے پانی سے بغلوں کو دھوئیں۔اس کا تیل بھی ملتا ہے اور اسے صابن‘کریم‘ شیمپو وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
لیمن گراس کی چائے میں ایک خاص خوشبو ہوتی ہے۔اگر اس کی چائے بنا کراسے سونگھا جائے تو سکون ملتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چائے کچھ نفسیاتی مسائل میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے ۔ ایسے افراد جو انجانے خوف میںمبتلا رہتے ہوں اور ان میں اعتماد کی کمی ہو‘ انہیں چاہئے کہ لیمن گراس کی چائے استعمال کریں اور اس کے تیل کے دو چار قطرے ٹشوپیپر پر لگا کر سونگھا کریں۔ اس سے تازگی کا احساس ہو گا‘ حوصلہ اور قوت بڑھے گی اورخوف دور ہوگا۔

کلونجی کی چائے
کلونجی کی چائے بھی بنتی ہے جوموٹاپے کو دورکرتی ہے۔اگر اعصاب کمزورہوں‘مستقل نزلہ رہتا ہو اور اس کی وجہ سے کانوں میںشورمحسوس ہوتا ہو‘ معدے میںگیس بنتی ہو‘ ہاضمہ خراب ہو یاگلے میں بلغم محسوس ہوتو کلونجی کی چائے پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔

یہ چائے بنانے کے لئے کلونجی کو پسواکر رکھ لیں۔جب چائے بناناہو‘ آدھا چھوٹا چمچ کلونجی کا سفوف لیں۔آدھا چمچ بھی بھرا ہوا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے انگلی سے ہموار کر لیں۔اب ایک کپ پانی لیں اوراس میںیہ سفوف ڈال کر پکائیں۔جب ابال آجائے تو اسے چھان کرتھوڑی سی چینی ڈال کر پی لیں۔ کچھ لوگ اس کی ایک پیالی میں گرین ٹی بیگ ڈال کر ایک منٹ بعد نکال لیتے ہیںتاکہ کلونجی کی چائے کا ذائقہ بہتر لگے۔عموماً یہ چائے صبح اور شام ڈھلے پی جاتی ہے ۔
جوشاندہ ‘ ہربل ٹی
جوشاندہ یا ہربل ٹی میں بنفشہ‘گائوزبان کے پتے‘ملٹھی‘ خطمی اور عناب وغیرہ پانی میںابال کر پیاجاتا ہے۔نزلہ‘بخار‘ گلے کی خراش اور گلے کے درد میںاس جوشاندے کو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ گرم کر کے پیا جاتا ہے ۔اب تو تیارشدہ(انسٹنٹ) جوشاندے کے پیک دستیاب ہیں اور لوگ اسے گرم پانی میں ڈال کر قہوہ بناتے اور اسے پی کر گلے کی سوزش سے نجات پاتے ہیں۔

شہد کی چائے
شہد کی چائے بھی بنتی ہے۔وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لئے یہ نہایت کار آمد ہے۔ اسے بنانے کے لئے ایک بڑاچمچ شہد گرم پانی میںڈالیں اوراس میں آدھے لیموں کا رس شامل کرلیں۔ اسے صبح نہار منہ پینا شروع کریں‘ آپ کا وزن آہستہ آہستہ کم ہوجائے گا۔بدہضمی ٹھیک ہوگی اورچہرے کے دانے بھی ختم ہوجائیں گے۔ نہارمنہ شہد کی چائے میں چٹکی بھر پسی ہوئی دارچینی ڈال کر پینے سے تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اگرنزلہ زکام ہو تو گرم پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر پینے سے آرام آتا ہے۔
ادرک کی چائے

مزیدار ادرک کی چائے بنانے کے لئے آٹے کا چھان یا بھوسی دو بڑے چمچے لے کر دوکپ پانی میں پکائیں اوراس میںایک چھوٹا ٹکڑا ادرک کا شامل کردیں۔جب یہ اچھی طرح پک جائے تو چھان کر اس میںگرین ٹی کا ساشے(تیارچھوٹا پیکٹ) ڈال دیں۔ اس چائے میں شہد یا چینی ملا کر رات کو سوتے وقت پی لیں۔ سردی کے موسم میںیہ بہت مفید ہے۔نیز کھانسی اوربلغم میں بھی فائدہ دیتی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ چائے آپ گرم گرم پئیں یا اسے بالکل ٹھنڈی کرکے‘ دونوں کا فائدہ یکساں ہے۔
مشہور مقولہ ہے کہ زیادتی کسی بھی چیز کی ہو‘ نقصان دہ ہے۔ اسی طرح چائے بھی زیادہ مقدار میں پینے سے کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے نیند اڑ جاتی ہے ۔یاد رکھیں کہ چائے کو زیادہ دیرتک نہیںپکانا چاہیے۔آج بھی کچھ گھرانوں میں چائے کو کیتلی میں دم دے کر پیاجاتا ہے جو فائدہ مند چیز ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x