• Home
  • بچے اور صحت
  • سکولوں میں جسمانی معائنہ، تعلیمی کارکردگی کیلئے بھی ناگزیر

سکولوں میں جسمانی معائنہ، تعلیمی کارکردگی کیلئے بھی ناگزیر

26

محمد اشتیاق

سکول میں بچوں کی بہتر کارکردگی کا تعلق تعلیم کے میدان میں ان کی محنت اور توجہ کے ساتھ ساتھ ان کی عمومی صحت پر بھی ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگرایک بچے کی نظر کمزور ہے اور اسے بلیک بورڈ یا وائٹ بورڈ پر لکھے الفاظ اچھی طرح سے نظر نہیں آتے تو وہ پڑھائی میں پیچھے رہ جائے گا۔اسی طرح اگر اس کی سماعت کمزور ہے تووہ سبق اچھی طرح سے نہ سن پائے گا۔ ایسے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تفصیلی جسمانی معائنے کا انتظام کریں۔سکول میں اس معائنے کا فائدہ یہ ہے کہ اساتذہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں کچھ ایسی رکاوٹوںکو سمجھ لیتے ہیں جس پر بچوں کا اختیار نہیں۔اس کے مطابق وہ ان کیلئے کچھ خصوصی بندوبست بھی کر سکتے ہیں ۔مثلاً اگر کسی بچے کی نظر کمزور ہو تو وہ اسے قریب بٹھا سکتے ہیں۔ والدین کو فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحت کو لاحق کچھ سنگین مسائل کو بروقت جان لیتے ہیں اوربعض صورتوں میںان پر قابو پانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ بچوں کو بھی اپنے جسمانی نقائص کا علم ہو جاتا ہے اور وہ جان جاتے ہیں کہ اس سلسلے میںانہیں کون سی احتیاطیں لازماًکرنی ہیں ۔

بچوں میں مختلف بیماریاں اور نقائص معلوم کرنے کیلئے مخصوص ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور طب کی زبان میں اس عمل کو سکریننگ کہا جاتا ہے ۔سکریننگ کوعموماًدو حصوں میںتقسیم کیا جاتا ہے ۔پہلے حصے میں خون اور پیشاب کے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کئے جاتے ہیںجبکہ دوسرے حصے میںبچے کے بیرونی اعضاء کا معائنہ ہوتا ہے ۔ہر دو اقسام میں بچے کی صحت کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔
خون اور پیشاب کا ٹیسٹ
خون کے ٹیسٹ میں بنیادی طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس میں ہیموگلوبن کی سطح کیا ہے۔ اس کی نارمل‘ بلند یا کم سطح سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کی غذائیت کی صورت حال کیا ہے ۔پیشاب کے ٹیسٹوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسم کے مختلف افعال میں کوئی غیرمعمولی پن تونہیں پایا جاتا۔مثال کے طور پراگرپیشاب میں پروٹین زیادہ آرہی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یا تو بچے کے گردوںمیں کوئی مسئلہ ہے یاپھر اس کا میٹابولزم متاثر ہے ۔
جلد کی رنگت اور خشکی
بچوں کے تفصیلی جسمانی معائنے کا آغاز جلد سے ہوتا ہے ۔ اس میں جلد کی بیرونی سطح کو دیکھا جاتا ہے ‘ اس کی رنگت کا جائزہ لیا جاتاہے اور یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کہیں اس پر کوئی کٹ‘ خراش یا زخم وغیرہ تو نہیں۔ جلد کے معائنے سے بچے کی غذائی کیفیت کابھی اندازہ ہوتا ہے ۔اگراس کی رنگت زرد ہو تو اس کا مطلب ہے کہ بچے کے خون میں ہیمو گلوبن کی سطح کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے غذائیت کے مسائل درپیش ہیں۔ جلد کی خشکی اس بات کی علامت ہے کہ اس میں پانی کی کمی ہے ۔اس کے بعد جلد کی دیگراقسام مثلاً بالوں اور ناخنوںکا بھی معائنہ کیا جاتا ہے ۔

کمزورنظراور بھینگاپن
جلد کے بعد آنکھوں کا معائنہ کیا جاتا ہے ۔بچوں کی عمومی بینائی کا جائزہ لینے کیلئے چھوٹے اور بڑے سائز کے انگریزی حروف پر مشتمل چارٹ استعمال کئے جاتے ہیں جوعموماًآئی کلینکوں میںلگے نظر آتے ہیں ۔
نظر کے نارمل یا کم ہونے کی جانچ کے بعد اس کی بصارت کے کے میدان (Visual field) کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔اس میں یہ دیکھاجاتا ہے وہ آنکھوں کے اطراف میں کس حد تک دیکھ سکتا ہے ۔ اس مقصد کیلئے معائنہ کار اپنی انگلی بچے کی دائیں آنکھ کے کنارے کے سامنے لاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ وہ اس انگلی کو دیکھے۔ اس کے بعدوہ اسے حرکت دیتے ہوئے دوسری آنکھ کے کنارے تک لاتا ہے ۔ جہاں سے انگلی نظر آنا شروع ہوتی ہے اور جہاں ختم ہوتی ہے‘ وہ اس کا ’’وژیول فیلڈ ‘‘کہلاتا ہے ۔اگرکوئی بچہ بھینگے پن کا شکار ہو تو اس کا فیلڈ نارمل سے کم یااس سے زیادہ ہو گا۔
انگلی کی حرکت سے بچے کے اس اعصابی نظام کی فعالیت کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے جو آنکھوں کوکنٹرول کررہاہوتا ہے۔ اگربچے کے سامنے کھڑے ہو کر ہوا میں انگریزی حرف Hلکھا جائے اور وہ انگلی کی حرکت کو دیکھتے ہوئے اسے پہچان لے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے مطلوبہ اعصابی پٹھے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ بعض اوقات کچھ بچے اوپر کی طرف نہیںدیکھ سکتے۔ اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا نیورومسکولرسسٹم نارمل نہیں ہے ۔
پردئہ کان اور کان کی میل
سکریننگ کے عمل میں آنکھوں کے بعد سماعت کا معائنہ کیا جاتا ہے ۔اس میں سب سے پہلے بیرونی کان (پنے) کو دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کوئی کٹ یا سوراخ وغیرہ تو نہیں۔اس کے بعد آٹو سکوپ کی مدد سے کان کے اندر اس پردے کا معائنہ کیا جاتا ہے جس کے ارتعاش سے ہمیں آواز سنائی دیتی ہے ۔ اس معائنے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جھلی درست حالت میں موجود ہے یا نہیں‘ اس لئے کہ کچھ بچوں کے پردئہ کان میںسوراخ یا انفیکشن ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح کچھ بچوں کے کان کی نالی میں میل اس حد تک بھرا ہوتا ہے کہ آواز کی لہریں پردے تک جاہی نہیں پاتیں اور نتیجتاً بچے کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔ راقم نے معائنے کے دوران کچھ بچوں کے کانوں میں مردہ چیونٹی یامکھی کا بھی مشاہدہ کیا ہے ۔
سماعت کے حوالے سے ایک اور ٹیسٹ یہ جاننے کیلئے کیا جاتا ہے کہ کیابچے کو دونوں کانوں میں برابرسنائی دے رہا ہے یا نہیں۔اس کے لئے ڈاکٹریا معائنہ کار ٹیوننگ فورک (دو شاخوں والاایک دھاتی آلہ جسے پیڈ پر مارا جائے تو اس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور آواز سنائی دیتی ہے )کو پیڈ پر مار کربچے کی پیشانی کے سامنے بالکل درمیان میں رکھ کربچے سے پوچھتا ہے کہ کیا اسے دونوں طرف سے برابرآواز سنائی دے رہی ہے یا یہ ایک طرف سے کم اور دوسری طرف سے زیادہ ہے۔
جب ٹیوننگ فورک کے ارتعاش کی آواز ختم ہوجائے تو اس کی مدد سے کان کے پچھلی ہڈی کو چھوا جاتا ہے ۔ اس پر بچے کو دوبارہ ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔ اسے (Rinne test) کہا جاتا ہے ۔ اس ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آواز کی لہریںٹھیک طرح سے کان تک پہنچ بھی رہی ہیں یا نہیں۔
ناک کی ہڈی اور زخم
کان کے بعد ناک کا معائنہ کیا جاتا ہے ۔اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ناک کی ہڈی سیدھی ہے یا نہیں‘ یاپھر ناک کے اندرکہیں کوئی زخم تو نہیں۔اس معائنے کے دوران بعض اوقات ناک کے اندر کوئی ماس وغیرہ بھی نکل آتا ہے ۔
چہرہ ٹیڑھا تو نہیں
کان اور ناک کے معائنے کے بعد بحیثیت مجموعی چہرے کو دیکھا جاتا ہے ۔اس میں پہلی جانچ تو اس بات کی ہوتی ہے کہ چہرہ کہیں ٹیڑھا تو نہیں اور یہ کہ چہرے کے دونوں طرف کے اعضاء ایک جیسے ہیںیا نہیں۔ بعض اوقات یہ اعضاء ایک طرف کو زیادہ بڑھے یا جھکے ہوتے ہیں ۔اس کا تعلق محض چہرے کی خوبصورتی سے نہیں بلکہ مخصوص اعصاب سے بھی ہے جنہیںcranial nervesہا جاتا ہے ۔ ان اعصاب میں اگر کوئی مسئلہ ہو توبچے میں غیرارادی حرکات کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔مثلاً اگر گیند آنکھ کی طرف آ رہی ہو تووہ فوراً بند ہو جاتی ہے لیکن جن مریضوں میں یہ اعصاب متاثر ہوں‘ ان میں ایسا نہیں ہو گا۔ ایسے میں بچے کو نیورو فزیشن کے پاس بھیجا جاتا ہے ۔
چہرے پر موجود اعصاب کی جانچ کیلئے بچے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے منہ کو زور سے دبائے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے چہرے کے اعصاب ٹھیک طرح سے کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ مریض سے کہاجاتا ہے کہ وہ اپنے منہ میں ہوا بھرے ۔اس سے دوسری کرینیل نروز کابھی اندازہ لگایا جا تاہے ۔
دانت اور زبان
منہ کے اندر سب سے پہلے دانتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کہیں ان پر میل تو نہیں جما ہوا یا ان میں کیڑا تو نہیں لگا ہوا۔ اس کے علاوہ زبان کی حرکت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے ۔کچھ بچوںکی زبان نچلے جبڑے کے ساتھ ایک ٹشو کی مدد سے جڑی ہوتی ہے جسے frenulumکہا جاتا ہے ۔ یہ ٹشو زبان کی آزادانہ حرکت کو روکتا ہے جس کی وجہ سے بولنے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور جن بچوں میں یہ حصہ لمبا ہو‘ وہ توتلا بولتے ہیں ۔
گلے کی پھانس کا ٹیسٹ
منہ کے بعد گلے کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔گلے کے اندر ایک نرم حصہ ہوتا ہے جسے اگرکسی سخت چیز سے چھوا جائے تو الٹی محسوس ہوتی ہے۔ یہ جسم کاایک قدرتی نظام ہے جس کی وجہ سے صرف وہی چیزیں گلے میں داخل ہو پاتی ہیں جو خوراک کا حصہ ہوں ۔جن لوگوں میں یہ نظام متاثر ہو‘ ان کے گلے میں چیزیں پھنسنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔اس کی جانچ کیلئے tounge depresserکو گلے میں لے جایا جاتا ہے جس سے بچوں کو قے محسوس ہوتی ہے ۔ اعصابی نظام کے اس ٹیسٹ میں اس نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ جن بچوں میں یہ نظام متاثر ہو‘ انہیں بروقت خبردار کر دیا جاتا ہے کہ وہ کھانے کے دوران اپنی اس کمزوری کو مدنظر رکھیں اور محتاط رہیں ۔
گردن کی الائنمنٹ
اس کے بعدگردن کی الائنمنٹ دیکھی جاتی ہے ۔بعض بچوں کی گردن ایک طرف کو جھکی ہوتی ہے جس کی وجہ تھائی رائیڈ گلینڈیا ریڑھ کی ہڈی میں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے ۔اگر بچے کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اسے تھوک نگلنے کو کہا جائے تویہ نقص محسوس ہو جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ سے بچوںمیں آئیوڈین کی کمی کوبھی بروقت تشخیص کیا جاسکتا ہے۔
پھیپھڑوں اور دِل کا ٹیسٹ
گردن کے بعد چھاتی کا معائنہ کیا جاتا ہے ۔ اس میں سب سے پہلے پھیپھڑوں کاجائزہ لیا جاتا ہے کہ وہ ٹھیک طرح سے کام کر رہے ہیں یا نہیں اور ان میں ہوا صحیح طور پر جا رہی ہے یا نہیں۔اس کام کیلئے سٹیتھو سکوپ کی مدد سے مختلف حصوں کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ایک طرف کے پھیپھڑے کا دوسری طرف کے پھیپھڑے کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے ۔ اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ اس کے عضلات دونوں طرف ایک جیسے حرکت کر ہے ہیں یا نہیں۔
دِل کے اندرہلکی سی آوازیں آتی ہیں جنہیں سننے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بچے کے دل میں سوراخ یا اس کے والو میں کوئی مسئلہ تو نہیں۔بچوںمیں دل کے مسائل کم ہوتے ہیں لیکن بعدکی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے ایک دفعہ اس کا ٹیسٹ ضروری ہے۔
جگراور گردوں کی جانچ
اس کے بعد پیٹ کامعائنہ کیا جاتا ہے جس میں گردوں اور جگر کا خاص طور پر جائزہ لیا جاتا ہے ۔جگر اپنے نارمل سائز سے بڑا ہو توبچے کو جگر کی سوزش یا کوئی اور مسئلہ ہو سکتا ہے۔جگر کا سائز ماپنے کیلئے چھاتی کے درمیان دائیں طرف سے ماپنا شروع کرتے ہیں اور جہاں دل کی آواز آنا شروع ہو‘وہاںنشان لگا دیتے ہیں ۔اسی طرح پیٹ کودرمیان سے اوپر کی طرف ماپنا شروع کرتے ہیں اور جہاں سے سختی محسوس ہو‘ وہاں نشان لگا دیتے ہیں۔ دونوںنشانوں کو پیمائشی فیتے کی مدد سے ماپ کر جگر کے سائز کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔
گردوں کابھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔جس جگہ چھاتی مہرے سے مل رہی ہو‘ وہاں پشت پر ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی جاتی ہے اور بچے کے چہرے پر نظر رکھی جاتی ہے ۔اگر اس پر دردکے تاثرات ہوں تو یہ گردوں میں کسی مسئلے یا پتھری وغیرہ کی علامت ہوتی ہے۔
پیشاب اور جنسی اعضاء
پیشاب اور جنس سے متعلق اعضاء کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ کچھ بچوں کے خصئے(Testicles) مخصوص تھیلی سے باہر ہوتے ہیں جنہیںسرجری کے ذریعے اپنی جگہ پر ڈال دیا جاتا ہے ۔
چال ڈھال اور گرفت
بچوں کو پائوں آگے پیچھے رکھ کر ایک لائن پر چلایا جاتاہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کاتوازن ٹھیک ہے یا نہیںیا پھرریڑھ کی ہڈی توٹیڑھی نہیں۔ راقم نے اپنے سکول میں جب بچوں کا معائنہ کیا تو اس میں اس طرح کے دو کیسز سامنے آئے۔
بچوں کے بازوئوں اورٹانگوں کی گرفت بھی چیک کی جاتی ہے۔ ہاتھوں کی گرفت چیک کرنے کیلئے معائنہ کار اپنی انگلیاں بچے کی انگلیوں میں ڈال کر اسے زور سے کھینچنے کو کہتا ہے ۔اسی طرح بچے کے پائوں کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے زور سے دبانے کو کہا جاتا ہے۔اس سے ٹانگوں کی قوت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے ۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x