مضر صحت اور حرام گوشت کس سے منصفی چاہیں۔۔۔

324

لاہور‘ فیصل آباد اور اسلام آباد میں بڑے بڑے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر چھاپوں ‘انہیں جرمانہ کئے جانے ‘حتیٰ کہ بندتک کرنے کے احکامات نے پنجاب بھر میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم اضطراب پیدا کردیا ہے۔ ان حالات میں سب سے بہتر یہ ہے کہ گھر میں اور صحت بخش طریقے سے کھانا پکایا جائے ۔ یہ نہ صرف سستا پڑے گابلکہ آپ کی اچھی صحت کا ضامن بھی ہوگا۔ اگر کبھی کبھار باہر کھانے کو دل چاہے تو اچھی طرح سے چھان پھٹک کر لیںکہ وہاں صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ماہرین کی آراءکی روشنی میں ثنا ظفر کی ایک معلوماتی تحریر


گوشت یہاں کے لوگوں کی مرغوب غذا ہے ۔گھروں میں جب دل یا سبزی پکے تو بہت سوں کے منہ بن جاتے ہیں۔ پولٹری فارمنگ کا بڑھتا ہوا کاروبار اورمٹن اور بیف کی دکانوں پر لگا ہجوم بھی گوشت کے ساتھ ہماری رغبت کی تصدیق کرتا ہے۔ جب لوگوںکو ذرا زیادہ چٹخارا چاہئے ہوتا ہے تو وہ ہوٹلوںاور ریستورانوں کا رخ کرتے ہیں۔ متمول اور اپنی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند افراد بڑے ریستورانوں کا انتخاب کرتے ہیں‘ اس لئے کہ ان کے خیال میں وہاں کا کھانا زیادہ صاف ستھرا اور صحت بخش ہوتا ہے۔ تاہم گزشتہ ماہ بڑے ناموں والے ہوٹلوں پر چھاپوں‘ انہیں جرمانہ کئے جانے‘ حتیٰ کہ بندتک کرنے کے احکامات نے پنجاب بھر میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم اضطراب پیدا کردیا ہے۔ میڈیا میں نشر اور شائع شدہ خبروں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں مضر صحت اور بعض جگہوں پر تو حرام گوشت بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں لوگ پریشان ہیں اور تذبذب کا شکار بھی کہ کس پر اعتبار کریں۔  لاہور سے تعلق رکھنے والے نعیم اکمل کہتے ہیں:
”ہم لوگ باہر کے کھانوں کے بہت شوقین ہیں۔ ہفتے میں دو یا تین دفعہ تو باہر سے ضرور کھانا کھاتے ہیں لیکن اب جو صورت حال چل رہی ہے‘ اس میں گھر میں ہی کھانا بن رہا ہے۔“
”بچے اکثر باہر کھانا کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں لیکن میں اس کے حق میں نہیں ہوں ۔جب سے ٹی وی پر ہوٹلوں میں صفائی کے ناقص معیار اور مضرصحت گوشت کے بارے میں سنا ہے‘ تب سے بچے بھی گھر میں ہی کھانا کھاتے ہیں۔ “یہ کہنا تھا مسز حیات کا جو لاہورہی کے ایک پوش علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔
لوگ صبح صبح جب قصاب کے پاس گوشت لینے جاتے ہیں‘ تب تک وہ جانور خریدکر‘ ذبح کر کے اپنی دکان پر لٹکاچکے ہوتے ہےں۔ ان پر کچھ مہریں لگی ہوتی ہیں جس سے تاثر یہ بنتا ہے کہ گوشت کسی اتھارٹی کی طرف سے تصدیق شدہ ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض قصابوں نے اپنے پاس مہریں رکھی ہوتی ہیں جنہیں وہ دھڑا دھڑ لگا رہے ہوتے ہیں۔ سیدہ زکیہ ایک شیف ہیں جو ہوٹل کنسلٹنٹ بھی ہیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائیریکٹر آپریشن عائشہ ممتاز کے ساتھ فوڈ ایکسپرٹ کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں۔ ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا :
” حکومت کی طرف سے ذبح خانے بنائے جاتے ہیں۔ وہاں موجود ڈاکٹراس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ذبح ہونے والے جانوروں کا گوشت ہر لحاظ سے ٹھیک ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی مہر لگا دیتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بھی لوگ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہے۔ ان جانوروں پر بھی مہریں لگ رہی ہیں جو ذبح ہوتے وقت مرنے کے قریب تھے۔ ایسے قصاب بھی پکڑے گئے ہیں جنہوں نے اپنے پاس مہریں بنا کر رکھی ہوئی تھیں۔لوگوں میں ایمانداری ختم ہو گئی ہے اوروہ دھوکہ دینے کا نئے سے نیا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
ان سے مضر صحت گوشت کی بابت سوال کیاگیا تو ان کا کہناتھا :
”اگر قریب المرگ بیمار جانور کوذبح کیا جائے تو اس کا گوشت مضر صحت ہوگا۔ اگرجانور تندرست ہو لیکن اس کا گوشت ٹھیک طرح سے ذخیرہ نہ کیا جائے تو بھی وہ صحت بخش نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ دکانوں پر گرم موسم میں اور کھلے عام لٹکایا گیا گوشت بھی کچھ وقت کے بعد کھانے کے قابل نہیں رہتا۔“
اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گرم موسم کی وجہ سے اسے وہ درجہ حرارت نہیں مل رہاہوتاجو اسے ذخیرہ کرنے کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاںگردوغبار اور مکھیوں وغیرہ سے بچاﺅ کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے بیکٹیریا تیزی سے بڑھنے لگتے ہےں جس سے یہ زہریلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کے بقول’ پکانے کے دوران بیکٹیریا تو ختم ہو جاتا ہے لیکن زہریلے مادوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘
کیا گوشت حلال ہے
ذبح خانوں میں گدھوں کے گوشت کی فروخت سے متعلق گردش کرتی خبروں کی وجہ سے آج کل لوگ گوشت خریدتے وقت اس بے یقینی کا شکار بھی ہوتے ہےں کہ وہ حلال بھی ہے یا نہیں ۔ سیدہ زکیہ سے پوچھا گیا کہ حرام اور حلال گوشت کی پہچان کیا ہے۔ جواب میں ان کا کہنا تھاکہ اس کی پہچان بہت آسان ہے :
”اگر گوشت مردہ جانور کا ہو تو اس کا رنگ گلابی اور سرخ کی بجائے ہلکی نیلاہٹ لیے ہوئے ہو گا۔گوشت خریدتے وقت اس کی ایک بوٹی اپنی ہتھیلی پر رکھیں۔ اگر وہ حلال جانور کی ہوگی تو کھڑی کھڑی سی اور غیر متحرک رہے گی۔اگر وہ گدھے یا کسی اورحرام جانور کی ہو گی تو ہتھیلی پر رکھنے سے ڈھلک سی جائے گی اور پھیلے گی ۔“لیکن گوشت کے حرام یا حلال ہونے کی یہ پہچان کتنی درست ہے اور اگر درست ہے بھی تو کتنے لوگ اس طرح سے گوشت کے صحیح ہونے کا تعین کرسکتے ہیں‘ایک سوالیہ نشان ہے۔
گوشت کی اپنی مخصوص مہک ہوتی ہے لیکن اگر وہ خراب یا پکانے کے قابل نہ ہو تو اس میں بد بو پیدا ہو جائے گی۔ اس لیے گوشت خریدتے وقت ان تمام باتوں کو مدِ نظر رکھیں۔“
بیمارجانورکا گوشت
سیدہ زکیہ کے بقول جو جانور خود بیمار ہو‘ اس کا گوشت کیسے صحت بخش ہو سکتا ہے۔ یہ بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتاہے۔ بیمار جانور کی پہچان بھی بہت واضح ہے۔ اس کے گوشت کا رنگ بہت گہرا ہو جاتا ہے۔
عموماً ہڈی کا رنگ باہر سے سفیداوراندر سے گلابی ہو تا ہے لیکن بیمار جانور کی ہڈیوں کا رنگ سفید نہیں رہتا بلکہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر چربی، گوشت اور ہڈی کے رنگ میں فرق ہو تو اسے مت خریدیں۔
فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمن بیمار اور مردہ جانور کے گوشت کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”یہ ڈائیریا ،ہیپاٹائیٹس، معدے اور جگر کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ جو لوگ پہلے ہی ان بیماریوں کا شکار ہوں‘ وہ ایسا گوشت کھانے سے خاص طور پراحتیاط کریں۔ بڑے گوشت میں بہت زیادہ کولیسٹرول ہوتاہے جس سے ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی زیادہ گوشت کھانا نقصان دہ ہے۔ اگر گوشت مضر صحت ہو تونقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ مزید براں بازار سے ملنے والا منجمد گوشت (frozen meat) نہ خریدیں بلکہ اس کی جگہ تازہ گوشت لیں اور اپنے سامنے اسے تیار کروائیں۔“
ملاوٹ ایک اورغلط رویہ ہے جو ہمارے ہاں جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ اب گوشت بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ اس کا وزن بڑھانے اور اسے تازہ ظاہر کرنے کے لیے انجیکشنز کے ذریعے پانی اس میںداخل کیا جاتا ہے۔
ان حالات میں سب سے بہتر یہ ہے کہ گھر میں اور صحت بخش طریقے سے کھانا پکائیں۔ یہ نہ صرف سستا پڑے گابلکہ آپ کی اچھی صحت کا ضامن بھی ہوگا۔ اگر کبھی کبھار باہر کھانے کو دل چاہے تو اچھی طرح سے چھان پھٹک کر لیںکہ وہاں صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے خلاف ہر ممکن طور آواز اٹھائیں،اس لیے کہ آپ اور آپ کے بچوں کی صحت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

دودھ میں ملاوٹ آج کل ہرجگہ موضوع بحث ہے اور یہ معاملہ عو

Khatmandu Khajoor تیاری کا وقت:10منٹ پکانے کا وقت:30منٹ کیلوریز:56

قربانی کا گوشت....کم کھائیں‘صحت پائیں

عید الاضحیٰ وہ تہوار ہے جس پر ہر خاص و عام کو کھانے کے لئ

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of