• Home
  • امراض
  • پائی پولر ڈس آرڈر پل میں تولہ پل میں ماشہ

پائی پولر ڈس آرڈر پل میں تولہ پل میں ماشہ

340

زندگی میں اتار چڑھاو¿آتے رہتے ہیں جونارمل زندگی کالازمی حصہ ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے بائی پولرڈس آرڈر(جنون افسردگی)ایسا ذہنی عارضہ ہے جس میں اتار چڑھاﺅ غیر معمولی ہوجاتے ہیں۔اس ذہنی اختلال میں شدید جوش و جذبے کے بعدمریض پر انتہائی افسردگی چھا جاتی ہے ۔اس بیماری کی مثال جھولے کی طرح ہے جو کبھی بہت اوپر تو کبھی بالکل نیچے ہوتا ہے۔یعنی اس کے جذبات دو انتہاﺅں پر رہتے ہیں۔فریحہ فضل کی ایک معلوماتی تحریر


اس دن شاپنگ مال سے نکلتے ہوئے‘پاس سے گزرتی عورت کو دیکھ کرمجھے اپنی کلاس فیلو شمائلہ کا گمان ہوا۔جب تک میرا گمان یقین میں بدلتا یا میں اسے وہم سمجھ کر جھٹکتی‘وہ اند رجا چکی تھی۔میں فوراً اس کے پیچھے گئی اوراسے اس کے نام سے پکارا۔اپنا نام سنتے ہی وہ ٹھِٹک کر رکی اور پلٹ کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی۔”ارے ، میں تمہاری کالج فیلو!“ میںنے اس کی حیرت بھانپتے ہوئے کہا۔ اچانک اس کی آنکھوں میں شناسائی کے آثار ابھرے اور وہ میرے گلے لگ گئی:
”کیسی ہو تم‘کب آئی پاکستان؟ اس نے ایک ہی سانس میںکئی سوال کر ڈالے۔“میں بے اختیار ہنس پڑی:”حوصلہ!اتنی جلدی کس بات کی ہے؟آﺅ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں، اگر تمہارے پاس کچھ وقت ہو تو…۔“اس نے گھڑی پر نظر ڈالی اور کہا:” چلو،ابھی ایک گھنٹہ ہے میرے پاس۔کہیں چل کر بیٹھتے ہیں۔ “
ہم قریبی فوڈ کیفے میں جا کر بیٹھ گئے اور بات چیت شروع ہوگئی۔مجھ سے کچھ ہی ماہ قبل شمائلہ کی شادی ایک بڑے کھاتے پیتے اور تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی تھی۔اتنے سالوں میں خدوخال میں تبدیلی آنا قدرتی بات ہے مگر اتنی تبدیلی…گلاب کا سرخ پھول‘ گویا سرسوں کے زرد پھول میں بدل گیاہو۔ہر دم بولنے والی بلبل کی گویا بولتی ہی بند ہوگئی تھی۔

مجھے شدید تاسف نے گھیر لیااور میں نے اس کا اظہار بھی کردیا۔ اس بات پر وہ افسردگی سے کہنے لگی کہ ’کیابتاﺅں تمہیں،قسمت نے میرے ساتھ کیا کھیل کھیلا۔بظاہر انتہائی آئیڈیل فیملی‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ شوہر ‘ بہترین ملازمت… مگر اس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے اور وہ ہے میرے شوہر کا عجیب و غریب مزاج ۔وہ نک چڑھے ‘موڈی اور غصیلے ہیں۔ جب ان کا مزاج ناقابل برداشت ہونے لگا تو میں نے ایک دن اپنی ساس سے پوچھا کہ آپ کے باقی بچے تو ایسے نہیں‘ پھر ثاقب ایسے کیوں ہیں؟ انہوں نے افسردگی سے مجھے بتایا کہ وہ ایک نفسیاتی مرض جنون افسردگی (bipolar disorder)میںمبتلا ہیں۔میں اس بَلا کا نام تک نہ جانتی تھی مگر یہ ضرور جانتی تھی کہ یہ مرض ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی کھائے جارہا ہے۔“ شمائلہ نے افسردہ لہجے میں کہا۔
”تو کیا ان کا علاج بھی ہورہا ہے؟“میںنے تشویش بھرے لہجے میں استفسار کیا۔”شروع کے کئی سال تک تو نہیں ہوا، اس لئے کہ وہ اس پر تیار ہی نہیں تھے۔ پچھلے ایک برس سے ان کا علاج ہو رہا ہے۔ وہ کبھی بہتر ہوجاتے ہیں تو کبھی پھر پرانی حالت میں لوٹ جاتے ہیں۔ مجھے تو یہ نفسیاتی ڈاکٹر بھی نشے کی طرح لگتے ہیں۔ایک دفعہ جان کو لگ جائیں توپھر جان ہی نہیں چھوڑتے۔ شمائلہ نے بے چارگی کے عالم میں کہا۔
”شمائلہ! یہ بالکل غلط تصور ہے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ اکثر نفسیاتی مریض معالج کے ساتھ تعاون نہیں کرتے لہٰذا تسلسل سے ان کا علاج نہیں ہوپاتا۔ اب تو علاج میں بہت پیش رفت سے ہو گئی ہے اور بہت اچھے اچھے سائیکاٹرسٹ اور سائیکالوجسٹ موجودہیں۔ایک ماہرنفسیات خوش بخت میری جاننے والی ہیں۔ تم اُن کے پاس چلی جاﺅ۔مجھے تو لگتا ہے کہ میاں کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی تھیراپی کی ضرورت ہے۔“
”اچھا ٹھیک ہے، ان کا ایڈریس دو۔میں ان سے ملنے ضرور جاﺅں گی۔“ شمائلہ نے جواب دیا اورپھرایک دن وہ ڈاکٹر سے وقت لے کر ان کے پاس پہنچ گئی۔اس نے اس بیماری کی بابت سوال کیا کہ یہ آخر کیاہے‘اس کی علامات اور وجوہات کیاہیں؟
ڈاکٹر خوش بخت کہنے لگیں کہ ہم سب کی زندگیوں میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں ۔یہ نارمل زندگی کا حصہ ہیں لیکن بدقسمتی سے بائی پولرڈس آرڈر(جنون افسردگی)ایسا ذہنی عارضہ ہے جس میں یہ اتار چڑھاﺅ غیر معمولی ہوجاتے ہیں۔اس میں شدید جوش و جذبے کے بعدمریض پر انتہائی افسردگی چھا جاتی ہے ۔اس بیماری کی مثال جھولے کی طرح ہے جو کبھی بہت اوپر تو کبھی بالکل نیچے ہوتا ہے۔یعنی اس کے جذبات دو انتہاﺅں پر رہتے ہیں ۔یہ بیماری 18سے 24 سال کی عمر کے دوران زیادہ عام ہے۔
وہ کہنے لگیں کہ اس مرض کے دو حصے ہیں۔ پہلے دورمیں بہت زیادہ خوشی‘ ہیجان انگیزی اور بے انتہاتوانائی ہوتی ہے ۔ اسے ہائیپومانیا (hypomania) یا مینک ایپی سوڈ(manic episode) کہتے ہیں۔ اس میں لوگ عموماً نتیجے کی پروا کئے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔اس کے برعکس دوسرے دور(depressive episode) میں مریض شدید تھکن‘ بے بسی‘ نڈھال ہونے اور خودترسی کی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے۔دونوں دوروں کے درمیانی وقفے میں مریض عموماً نارمل رہتا ہے۔کچھ ایسی کیفیات بھی ہوتی ہیں جن میں دونوں دوروں کی ملی جلی کیفیات پائی جاتی ہیں۔

ان کے بقول یہ علامات کچھ ہفتے بھی رہ سکتی ہیں‘کچھ ماہ بھی اور بعض اوقات کئی سال بھی چلتی ہیں۔وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں وراثتی اور ماحولیاتی، دونوں عوامل کا اثر ہوسکتا ہے۔ اس کی تشخیص ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اس کی بہت سی علامات دوسری ذہنی بیماریوں کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔
ڈاکٹرنے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ایسے افراد کے لوگوں سے تعلقات کچھ زیادہ پائیدار نہیں ہوتے اور ان میں بالعموم پیشہ وارانہ صلاحیتیں بھی کم ہوتی ہیں۔ ان میں پچھتاوے (guilt)کا عنصر بھی بہت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں کم مائیگی کا احساس بھی گھیرے رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کا زندگی کے بارے میں تصورمنفی ہوتا ہے لہٰذا ان میں خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔
’ کیا اس کے مریض کبھی نارمل زندگی نہیں گزارسکتے؟‘ شمائلہ نے مایوسی سے پوچھا۔’کیوں نہیں!‘خوش بخت نے جواب دیا: ’مناسب علاج‘ طرز زندگی میں مثبت تبدیلیوں ورزش اور باقاعدہ تھیراپی کے ذریعے اس بیماری کی علامات کو کافی حد تک نارمل کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیشنل سوسائٹی آف بائی پولر ڈس آرڈرکے مطابق دنیا کی آبادی کا24فی صد حصہ اس ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ڈاکٹر تہمینہ اکبر ایک ماہر نفسیات ہیں جو آج کل امریکہ میں پریکٹس کررہی ہیں۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ذہنی امراض کو ایک معاشرتی دھبے کے طور پر لیاجاتا ہے۔اس وجہ سے ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت ایسی بیماریوں کو چھپاتی ہے جوبہت بڑا معاشرتی المیہ ہے۔
خواتین میں جنون افسردگی کی بابت گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے والدین اپنی بچیوں کا علاج کروانے کی بجائے ان کی شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اس بیماری کا سب سے آسان حل ہے‘حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے:
” والدین کو سمجھنا چاہئے کہ ان کا یہ فیصلہ بعد میںبچیوں کے لئے شدیدمسائل کاسبب بن سکتا ہے ۔ دوران حمل یہ حالت شدید اور وضع حمل کے بعد شدید ترین صورت اختیار کر جاتی ہے۔“
دوران حمل اور اس کے بعد ماہرامور زچہ بچہ اور ماہر نفسیات کے مشوروں سے مریضہ کی ذمہ داریاں بانٹ کر اس مرض کی شدت کو کافی حد تک نارمل کیاجاسکتا ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ وضع حمل سے قبل اس بیماری کا علاج ہوجائے ۔
ڈاکٹر خوش بخت کا کہناہے کہ ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم منفی خیالات کیوں رکھتے ہیں‘ ہمارے اندر ٹھہراﺅ کیوں نہیں ہے اور ہم مطمئن اور پرسکون کیوں نہیں ہیں؟ہم اس کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر رویے میں منفی تبدیلیاں نمایاں ہونے لگیں‘بے زاری اور چڑچڑاپن مستقلاً شخصیت کا حصہ بننے لگے تو اسے ہلکا مت جانیں اوراگر ضرورت محسوس ہو تونفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانے سے مت جھجکیں۔عموماً ایسے مریضوں کے موڈ کو ٹھیک کرنے کیلئے ادویات دی جاتی ہیں۔مریض کی جلد صحت یابی میں قریبی عزیزوں اوررشتہ داروں کا رویہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ۔

”لیکن ڈاکٹر صاحبہ! ذہنی مریض کے ساتھ رہنا یا زندگی گزارنا تو بہت ہی مشکل کام ہے۔“ شمائلہ نے بے چارگی سے کہا۔جواب میں ڈاکٹرصاحبہ نے اسے کہا کہ” آپ بالکل درست کہہ رہی ہیں لیکن اگر آپ انہیں مریض سمجھیں گی تو پھر یہ کام آپ کواتنا دشوار نہ لگے گا۔ ہمددری کا جذبہ انسان کے اندر ہو توزندگی سہل ہوجاتی ہے۔ ویسے‘ علاج سے ایسے افراد بہت حد تک نارمل زندگی گزارسکتے ہیں۔“
دنیا میں بہت بڑی بڑی مشہورشخصیات ایسی ہےں جو اس عارضے کا شکار ہونے کے باوجود اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بخوبی استعمال کرتی رہی ہیں اوران کایہ رویہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔ابراہم لنکن‘نیوٹن‘ فلورنس نائٹنگیل ‘باکسر مائیک ٹائی سن‘ ادکار میل گبسن ‘مارلن منرو‘ کیتھرین زیٹا جو نز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔لہٰذا ایسے افراد کو ناکارہ مت سمجھیں اور ان کو زندگی سے الگ مت کریں۔ان کے ساتھ تعاون کریں۔صبر اور حوصلے کا دامن مت چھوڑیں۔
ڈاکٹرکے پاس سے اٹھنے تک‘ شمائلہ ایک نئی پرعزم اور روشن خیال شخصیت میں ڈھل چکی تھی ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of