شرمیلا ہونا باعث شرم نہیں

0

فریحہ فضل
چھے سالہ فروااپنے گھر میں اوراپنوں کے ساتھ ایسی چلبلی اور پرجوش ہوتی ہے جیسے اس کے جسم میں بجلیاں بھری ہوں۔ لیکن جونہی باہر کے لوگوں سے ملنے جلنے کی نوبت آتی ہے توایسے لگتا جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو یا کسی نے اچانک اس کا سوئچ آف کر دیا ہو۔اس کی ماماسبین بتاتی ہیں کہ جب اُن کی کوئی سہیلی فرواسے بات کرناچاہتی ہے تو وہ ان (اپنی ماما) کے پیچھے چھپ جاتی ہے اورکسی بھی سلام دعا یا سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ سبین کیلئے یہ صورت حال خاصی خفت آمیز ہوتی۔اسے یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک بچی جو ویسے تو بہت باتونی ہے لیکن لوگوں کے سامنے آتے ہی اسے جانے کیا ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے حد سے زیادہ شرمیلے پن پر بہت فکرمندہے۔

بچوں میں شرمیلا پن صرف فروا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے بچے اس کا شکار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سائیکالوجسٹ ڈاکٹر صدیقہ عامر اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں:
’’شرمیلا پن کسی خاص صورت حال میں خود کو بے آرام (uncomfortable)محسوس کرنے کا نام ہے ۔ ایسی صورت حال اگر بار بار پیش آتی رہے تو یہ بچے کی لطف اندوز ہونے‘ کسی بھی معاملے میں اچھی کارکردگی دکھانے اورمطلوبہ معیار حاصل کرنے کی صلاحیت پرمنفی اثر ڈالتی ہے۔ ‘‘

امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق شرمیلاپن ایسارجحان ہے جس میں ایک شخص سماجی میل ملاپ ‘ خصوصاً اجنبیوں سے ملتے ہوئے خود کو ناموزوں‘ پریشان یا ذہنی تنائو میںمحسوس کرتا ہے۔ ایسی صورت حال میںشدید شرمیلے بچوں کے چہروں کا سرخ ہوجانا‘ان کے پسینے چھوٹنا‘ دل کی دھڑکن تیز ہوجانا‘ معدہ خراب ہوجانا‘ دوسروںکے بارے میں منفی احساسات پیدا ہونااور یہ پریشانی ہونا کہ دوسرے انہیں کیسے دیکھتے ہیں، عام پایا جاتا ہے۔
بہت سے بچے کبھی کبھار شرمیلے پن کا شکار ہوہی جاتے ہیں لیکن کچھ میں تو یہ مسئلہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ وہ بوقت ضرورت بھی لوگوں سے نہیں مل پاتے۔ شرمیلا ہونے اور درون بیں (introvert) ہونے میں بڑا فرق ہے۔ ڈاکٹر صدیقہ کے الفاظ میں :

’’درون بین لوگ خود پرانحصارکرنے والے اور زیادہ غوروفکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنہائی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف شرمیلے لوگ ضروری نہیں کہ تنہا رہنا چاہتے ہوں۔ وہ لوگوں سے ملنا جلنا چاہتے ہیں لیکن اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔‘‘
اس فرق کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک درون بین بچہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر کتاب پڑھناچاہتا ہے اور وہ ایسا کر رہا ہے۔ اس کے برعکس ایک شرمیلا بچہ باہر جا کر دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے لیکن وہ ان میں شامل ہونے سے خوفزدہ ہے لہٰذا اپنی سیٹ پر بیٹھا رہتا ہے۔ درون بینی شخصیت کاایک پہلو ہے جس کے لئے شرمیلے پن کے برعکس کسی تھیراپی کی ضرورت نہیں۔

بچوں میں شرمیلے پن کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔کسی حد تک اس معاملے کا تعلق جینیات سے بھی بتایا جاتاہے‘ اس لئے کہ بعض شرمیلے والدین کے بچے بھی شرمیلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہات میں مخصوص شخصیت‘ خاندانی تعلقات ‘ سماجی میل ملاپ کی کمی‘ شخصیت یا ذہانت پر شدید تنقید‘ دوستوں یا بہن بھائیوں کی طرف سے مذاق اڑایا جانااور ناکامی کا خوف شامل ہیں۔
بچوں میں شرمیلا پن ایسا مسئلہ نہیں جس سے نمٹا نہ جا سکے۔ والدین کی تعمیری کوششوں کی مدد سے بچوں کو ان کے خول سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صدیقہ اس کے لئے کچھ تجاویز دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کیلئے ابتدائی طور پر گھر میں فیملی اور فرینڈز کی دعوتیں اورمل کر باہرگھومنے پھرنے کے پروگرام بنائیں۔ اس طرح بچے اپنے ارد گرد لوگوں کے درمیان اطمینان محسوس کریں گے۔ اس بات پر بچے کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ مہمانوں کو ویلکم اور انہیں سلام کریں۔آپ انہیں لوگوں کے ساتھ ملنے کے جتنے زیادہ مواقع فراہم کریں گے‘ وہ اتنا ہی کھلتے جائیں گے۔بچے کو لوگوں سے ملنے اورانہیں سماجی مہارتیں آزمانے کا پورا موقع دیں۔

ڈاکٹر صدیقہ کہتی ہیں کہ شرمیلے بچے کی ضروریات پر سرگرمی سے توجہ دیں۔ لوگوں کے سامنے اس کی اصلاح کی کوشش مت کریں۔جب وہ آپ سے بات کرے تو اس کی بات پوری توجہ سے سنیں۔ اگر آپ اسے نظرانداز کریں گے تو اسے فوراً محسوس ہو جائے گا اور وہ صرف یہی نہیں سوچے گا کہ اس کی بات کونظرانداز کیاگیا ہے بلکہ یہ بھی سوچے گا کہ اسے نظرانداز کیا گیا ہے۔ یہ چیز اسے کم بولنے اور پھر بتدریج سماجی تنہائی کی طرف دھکیل دے گی۔ بعض اوقات مشترک خاندانوں میں کوئی بچہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اورتنہائی پسند ہو جاتاہے۔ اس کے برعکس بعض مائیں اپنے بچے پربہت زیادہ توجہ دیتی ہیں اور ان کا ضرورت سے زیادہ تحفظ کرتی ہیں۔اس سے بچہ ابتدا میں محتاط اور پھر بتدریج شرمیلا ہوجاتا ہے۔اس لئے ایسا مت کریں۔

ان کے بقول بچے پرشرمیلا ہونے کالیبل نہ لگائیں اور اس کے سامنے اس کے شرمیلے پن پربات نہ کریں‘ اس لئے کہ وہ اس کا منفی اثر لے سکتا ہے۔ اسے اجنبیوں سے بات چیت پر مجبور نہ کریں۔ اس میں اعتماد ضرور پیدا کریں لیکن اس کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھائیں۔ اس بات کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے خوف اور اضطراب پر بات کرے۔آپ سکول ٹیچرسے ملیں اور اس سے درخواست کریں کہ وہ آپ کے بچے کووقتاً فوقتاًکلاس میں کھڑا کرے‘ اس سے ریڈنگ کروائے‘ کوئی نظم سنے یاپھر تقریر وغیرہ کروائے۔ اس سے اس کا خوف دور ہو گا۔ مزید براں ظاہری خدو خال‘ خوبصورتی‘ رنگت‘ذہانت اور سرگرمیوں کااس کے بہن بھائیوں یا دوستوں کے ساتھ موازنہ مت کریں‘ اس لئے کہ بچے کے لئے اس سے زیادہ خوفناک چیز کوئی نہیں ہوتی۔ جو ہیں‘ جیسے ہیں کی بنیاد پر ان کی شخصیت کا احترام کریں اور ان کی کوششوں اور کامیابیوں کی تعریف کریں۔
ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک اورماہر نفسیات خوش بخت کا کہناہے کہ شرمیلے پن کے ساتھ کمزوری کا تاثر وابستہ ہے حالانکہ یہ محض حساسیت کی ایک علامت اور شخصیت کا ایک پہلوہے۔ اگر بہترحکمت عملی اختیار کی جائے تو بہت سے بچے اس سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں:

’’شرمیلے بچوں کو اطمینان محسوس کرنے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پہلی یہ کہ تعامل یا میل ملاپ کے لئے کوئی خاص وجہ ہونی چاہئے۔اور دوسری یہ احساس کہ تعامل کر کے وہ بہترمحسوس کریں گے۔ ‘‘
شرمیلا ہونا باعث شرم ہرگز نہیںتاہم بہت زیادہ شرمیلا پن بعد کی زندگی میں ایک قسم کے فوبیا یا خوف میں تبدیل ہو سکتا ہے جو ایک سنجیدہ طبی صورت حال ہے۔ اس مرحلے پر ذہنی تنائو دور کرنے ‘فرد کو ریلیکس کرنے اور سماجی میل جول بڑھانے کیلئے ماہرنفسیات کی پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔
پرورش ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا نہیں ، صبروتحمل سے معاملات نمٹانے کا نا م ہے۔ اس کا کوئی طے شدہ فارمولا نہیں۔ ہر صورت حال نئی ہوتی ہے اورہر روز ایک نیا امتحان درپیش ہوتا ہے۔ دنیا کا سامنا کرنے کے قابل بنانے کے لئے ہمیں بچوں کو اقدار،ا طوار اور سماجی مہارتیں سکھانے کی ضرورت ہے۔

ایک شرمیلے بچے کواچانک ایک تیز طرار بچے میں تو نہیں بدلا جا سکتا لیکن صبر‘ تدبر اورتدبیر سے اسے ایک ایسی خوشگوار شخصیت میں ضرور ڈھالا جا سکتا ہے جو لوگوں سے خوفزدہ نہ ہو۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of