Vinkmag ad

یووائٹس: آنکھ کی سوزش

Close-up image of an eye showing symptoms of uveitis including redness, irritation, and possible inflammation of the eye’s middle layer.

یووائٹس (Uveitis) آنکھ کی سوزش ہے جو آنکھ کی درمیانی تہہ، یعنی یوویا (Uvea)، کو متاثر کرتی ہے۔ یہ سرخی، درد، دھندلا نظر آنا اور تیرتے دھبے پیدا کر سکتی ہے۔

اس بیماری کی علامات اکثر اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور تیزی سے شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ ایک یا دونوں آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہے اور ہر عمر کے افراد، حتیٰ کہ بچوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔

یووائٹس کی ممکنہ وجوہات میں انفیکشن، چوٹ یا آٹو امیون اور سوزشی بیماریاں شامل ہیں۔ تاہم، کئی کیسز میں اس کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو پاتی۔ یہ بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے اور مستقل بینائی کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور فوری علاج انتہائی ضروری ہے۔

علامات

یووائٹس کی عام علامات درج ذیل ہیں:

٭ آنکھ کا سرخ ہونا

٭ آنکھ میں درد

٭ روشنی سے حساسیت

٭ دھندلا نظر آنا

٭ نظر میں سیاہ تیرتے دھبے (فلوٹرز)

٭ بینائی میں کمی

علامات عموماً اچانک شروع ہو کر تیزی سے بڑھتی ہیں، تاہم بعض کیسز میں یہ آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ ایک یا دونوں آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بعض اوقات کوئی واضح علامت موجود نہیں ہوتی اور بیماری کا پتہ معمول کے معائنے کے دوران چلتا ہے۔

یوویا آنکھ کی دیوار کی درمیانی تہہ ہے، جس میں آئرس (Iris)، سلیری باڈی (Ciliary Body) اور کوروئیڈ (Choroid) شامل ہوتے ہیں۔ آئینے میں دیکھنے پر آنکھ کا سفید حصہ سکلیرا (Sclera) جبکہ رنگین حصہ آئرس (Iris) نظر آتا ہے۔

آئرس آنکھ کے اگلے حصے میں ہوتا ہے، جبکہ سلیری باڈی اس کے پیچھے موجود ہوتی ہے۔ کوروئیڈ خون کی نالیوں کی تہہ ہے جو ریٹینا (Retina) اور سکلیرا (Sclera) کے درمیان واقع ہوتی ہے۔ ریٹینا آنکھ کے پچھلے حصے کی اندرونی سطح پر ہوتا ہے، جبکہ اس کے اندر جیلی نما مادہ وٹریئس (Vitreous) موجود ہوتا ہے۔

یووائٹس کی اقسام متاثرہ حصے کے مطابق مختلف ہوتی ہیں:

اینٹیریئر یووائٹس: آنکھ کے اگلے حصے کو متاثر کرتا ہے اور سب سے عام قسم ہے

انٹرمیڈیٹ یووائٹس: ریٹینا، لینس کے پیچھے خون کی نالیوں اور وٹریئس کو متاثر کرتا ہے

پوسٹیریئر یووائٹس: آنکھ کے پچھلے حصے، یعنی ریٹینا یا کوروئیڈ کو متاثر کرتا ہے

پینو یووائٹس: یوویا کی تمام تہوں کو متاثر کرتا ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر یووائٹس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں۔ آپ کو آنکھوں کے ماہر (آپتھلمولوجسٹ) کے پاس بھیجا جا سکتا ہے۔ شدید درد یا اچانک بینائی کے مسائل کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

وجوہات

تقریباً نصف کیسز میں یووائٹس کی واضح وجہ سامنے نہیں آتی اور اسے آٹو امیون بیماری سمجھا جاتا ہے۔ دیگر ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:

٭ آٹو امیون یا سوزشی بیماریاں، جیسے سارکوئیڈوسس، لیوپس یا کرون بیماری

٭ اینکائلوزنگ اسپونڈائلائٹس، جو ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہے اور یووائٹس اس کی عام پیچیدگی ہے

٭ انفیکشن، جیسے کیٹ سکریچ بیماری، شنگلز، سفلس، ٹوکسوپلاسموسس یا ٹی بی

٭ ادویات کے مضر اثرات

٭ آنکھ کی چوٹ یا سرجری

٭ نایاب صورتوں میں آنکھ کا کینسر، جیسے لِمفوما

خطرے کے عوامل

کچھ جینیاتی تبدیلیاں یووائٹس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ سگریٹ نوشی اس بیماری کو قابو میں رکھنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔

پیچیدگیاں

بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یووائٹس درج ذیل مسائل پیدا کر سکتی ہے:

٭ ریٹینا کی سوجن (میکیولر ایڈیما)

٭ ریٹینا پر داغ بننا

٭ گلوکوما

٭ موتیا بند

٭ آپٹک نرو کو نقصان

٭ ریٹینا کا الگ ہونا

٭ مستقل بینائی کا نقصان

تشخیص

آنکھوں کا ماہر مکمل معائنہ اور طبی تاریخ حاصل کرتا ہے۔ عام طور پر درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

٭ بینائی اور روشنی پر آنکھ کے ردعمل کی جانچ

٭ ٹونومیٹری، جس سے آنکھ کے اندر دباؤ ناپا جاتا ہے

٭ سلٹ لیمپ معائنہ، جس میں آنکھ کے اگلے حصے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے

٭ آپتھلموسکوپی، جس میں آنکھ کے پچھلے حصے کا معائنہ کیا جاتا ہے

مزید تشخیص کے لیے اضافی ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:

٭ آنکھ کے اندرونی حصے کی رنگین تصاویر

٭ او سی ٹی ٹیسٹ، جو ریٹینا اور کوروئیڈ کی سوجن ظاہر کرتا ہے

٭ اینجیوگرافی، جس سے خون کی نالیوں کی تصاویر لی جاتی ہیں

٭ آنکھ کے مائع کا تجزیہ

٭ خون کے ٹیسٹ

٭ سی ٹی یا ایم آر آئی سکین

اگر کسی بنیادی بیماری کا شبہ ہو تو مزید طبی معائنہ کروایا جاتا ہے۔ بعض اوقات وجہ معلوم نہ ہونے کے باوجود بھی مؤثر علاج ممکن ہوتا ہے۔

علاج

اگر یووائٹس کسی بنیادی بیماری کی وجہ سے ہو تو علاج اسی بیماری پر مرکوز کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر علاج کا مقصد سوجن کم کرنا اور بینائی کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں علاج کئی ماہ یا سال تک جاری رہتا ہے۔

ادویات

٭ سوزش کم کرنے والی ادویات، جیسے کورٹیکوسٹیرائیڈ ڈراپس یا گولیاں

٭ پُتلی کو پھیلانے والی ادویات، جو درد اور کھچاؤ کم کرتی ہیں

٭ بیکٹیریا یا وائرس کے خلاف ادویات

٭ مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات، شدید یا مزاحم کیسز میں

ان ادویات کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں، اس لیے باقاعدہ طبی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

سرجری یا دیگر پروسیجرز

٭ وٹریکٹومی، جس میں آنکھ کے اندر سے کچھ وٹریئس نکالا جاتا ہے

٭ دوا خارج کرنے والا امپلانٹ، جو طویل عرصے تک دوا فراہم کرتا ہے

اس علاج کے نتیجے میں بعض مریضوں میں موتیا بند یا آنکھ کا دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

شفا یابی کی رفتار یووائٹس کی قسم اور شدت پر منحصر ہوتی ہے۔ آنکھ کے پچھلے حصے کی یووائٹس عموماً زیادہ وقت لیتی ہے، جبکہ اگلے حصے کی یووائٹس نسبتاً جلد بہتر ہو جاتی ہے۔

یووائٹس دوبارہ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر علامات دوبارہ ظاہر ہوں یا شدت اختیار کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

لپڈ پروفائل (کولیسٹرول ٹیسٹ)

Read Next

وٹلائيگو: پھلبہری کیا ہے؟

Leave a Reply

Most Popular