کولیسٹرول اور چکنائی وقت کے ساتھ شریانوں میں جمع ہو کر پلاک بناتے ہیں۔ یہ پلاک خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے اور ایتھروسکلروسس کا سبب بنتا ہے۔ لپڈ پروفائل (Lipid profile) خون کا ٹیسٹ ہے جس سے خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ اسے لپڈ پینل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ شریانوں کے تنگ یا بند ہونے کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول ٹیسٹ دل اور خون کی شریانوں کی صحت جانچنے کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ زیادہ کولیسٹرول دل کی بیماری، دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
ٹیسٹ کی ضرورت کیوں
زیادہ کولیسٹرول عام طور پر علامات ظاہر نہیں کرتا، اس لیے اس کی تشخیص صرف خون کے ٹیسٹ سے ممکن ہوتی ہے۔ یہ ٹیسٹ دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کے مجموعی خطرے کا اندازہ بھی دیتا ہے۔
یہ ٹیسٹ خون میں چار اہم اقسام کی چکنائی کی مقدار معلوم کرتا ہے۔
٭ ٹوٹل کولیسٹرول خون میں موجود تمام کولیسٹرول کی مجموعی مقدار ہوتی ہے
٭ ایل ڈی ایل کولیسٹرول (خراب کولیسٹرول) شریانوں میں پلاک بناتا ہے جو خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور دل کے دورے یا سٹروک کا سبب بن سکتا ہے
٭ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول (اچھا کولیسٹرول) اضافی کولیسٹرول کو جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، اور شریانوں کو صاف رکھتا ہے
٭ ٹرائی گلیسرائیڈز جسم میں اضافی کیلوریز کو چکنائی کی صورت میں ذخیرہ کرتے ہیں۔ موٹاپے، غیر صحت بخش غذا، کم جسمانی سرگرمی، ذیابیطس اور الکحل سے ان کی مقدار بڑھ سکتی ہے
کس کو ٹیسٹ کروانا چاہیے
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بچوں میں 9 سے 11 سال کی عمر کے درمیان کولیسٹرول سکریننگ کی جانی چاہیے، خاص طور پر اگر فیملی ہسٹری میں دل کی بیماری یا ہائی کولیسٹرول موجود ہو یا بچہ موٹاپے یا ذیابیطس کا شکار ہو۔
اگلی سکریننگ 17 سے 21 سال کی عمر میں کی جاتی ہے۔ اس کے بعد زیادہ تر بالغ افراد ہر 4 سے 6 سال بعد یہ ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا فیملی میں دل کی بیماری والے افراد کو زیادہ بار ٹیسٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
کچھ افراد کو زیادہ بار ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر اگر ابتدائی نتائج غیر معمولی ہوں، دل کی بیماری موجود ہو یا کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات استعمال ہو رہی ہوں۔
زیادہ خطرے والے افراد میں وہ لوگ شامل ہیں جو موٹاپے، سگریٹ نوشی، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، جسمانی سرگرمی کی کمی یا غیر صحت بخش غذا کے عادی ہوں۔
خطرات
کولیسٹرول ٹیسٹ محفوظ ہے اور اس میں خطرات نہایت کم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات خون لینے کی جگہ پر ہلکا سا درد، سوجن یا حساسیت ہو سکتی ہے، اور بہت کم صورتوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔
تیاری
ٹیسٹ سے 9 سے 12 گھنٹے پہلے کھانا پینا بند کیا جاتا ہے۔ صرف پانی پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ اسے فاسٹنگ کہا جاتا ہے۔ بعض ٹیسٹوں میں فاسٹنگ ضروری نہیں ہوتی، اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل ضروری ہے۔
ٹیسٹ کا طریقہ کار
کولیسٹرول ٹیسٹ میں بازو کی رگ سے خون لیا جاتا ہے۔ خون لینے سے پہلے جگہ کو جراثیم کش محلول سے صاف کیا جاتا ہے اور بازو پر ربڑ بینڈ باندھا جاتا ہے تاکہ رگ نمایاں ہو جائے۔ سوئی لگانے پر ہلکا سا درد محسوس ہو سکتا ہے۔
تھوڑی مقدار میں خون ٹیوب میں جمع کیا جاتا ہے، پھر ربڑ بینڈ ہٹا دیا جاتا ہے اور خون کا بہاؤ معمول پر آ جاتا ہے۔ سوئی نکال کر جگہ پر پٹی لگا دی جاتی ہے۔ یہ عمل چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے بعد عام طور پر کسی خاص احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی اور مریض اپنی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔ اگر فاسٹنگ کی گئی ہو تو ٹیسٹ کے بعد کھانا کھایا جا سکتا ہے۔
نتائج کی وضاحت
کولیسٹرول کی پیمائش مختلف ممالک میں مختلف اکائیوں میں کی جاتی ہے، امریکہ میں ملی گرام فی ڈیسی لیٹر mg/dL)) جبکہ یورپ اور کینیڈا میں mmol/L استعمال ہوتا ہے۔
ٹوٹل کولیسٹرول کے نتائج
٭ 200 سے کم: مناسب سطح
٭ 200 سے 239: حد سے زیادہ
٭ 240 یا اس سے زیادہ: بلند سطح
ایل ڈی ایل کولیسٹرول کے نتائج
٭ 70 سے کم: دل کے مریضوں کے لیے بہترین
٭ 100 سے کم: صحت مند افراد کے لیے بہترین
٭ 100 سے 129: قریب بہتر
٭ 130 سے 159: حد سے زیادہ
٭ 160 سے 189: زیادہ
٭ 190 یا اس سے زیادہ: بہت زیادہ
ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کے نتائج
٭ مردوں میں 40 سے کم اور خواتین میں 50 سے کم: کم سطح
٭ 40 سے 59 (مرد) اور 50 سے 59 (خواتین): بہتر
٭ 60 یا اس سے زیادہ: بہترین
ٹرائی گلیسرائیڈز کے نتائج
٭ 150 سے کم: مناسب
٭ 150 سے 199: حد سے زیادہ
٭ 200 سے 499: زیادہ
٭ 500 یا اس سے زیادہ: بہت زیادہ
علاج
اگر کولیسٹرول کی سطح غیر معمولی ہو تو طرز زندگی میں تبدیلی بنیادی علاج ہے، جس میں صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور سگریٹ نوشی سے پرہیز شامل ہے۔
٭ کم چکنائی اور متوازن غذا اپنانا
٭ سبزیاں، دالیں اور فائبر سے بھرپور خوراک کا استعمال بڑھانا
٭ روزانہ جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنا
٭ سگریٹ نوشی ترک کرنا
اگر طرز زندگی میں بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر ادویات تجویز کر سکتا ہے۔ دل کی بیماری یا زیادہ خطرے کی صورت میں دوا ضروری ہو سکتی ہے۔ علاج کا فیصلہ مریض کی حالت کے مطابق ڈاکٹر کرتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔