Vinkmag ad

نظام ہضم کے اوپری حصے کی اینڈوسکوپی

Gastroenterologists performing an upper endoscopy on a patient lying on their side during a digestive system examination procedure.

نظام ہضم کے اوپری حصے کی اینڈوسکوپی (Upper endoscopy)،جسے اپر گیسٹروانٹسٹائنل اینڈوسکوپی (upper gastrointestinal endoscopy)  بھی کہا جاتا ہے، نظامِ ہضم کے اوپری حصے کا معائنہ کرنے کا ایک میڈیکل پروسیجر ہے۔ اس میں ایک لمبی اور لچکدار نلکی کے سرے پر لگے چھوٹے کیمرے کی مدد سے اندرونی اعضا دیکھے جاتے ہیں۔ گیسٹروانٹرولوجسٹ  اس طریقے سے بیماریوں کی تشخیص اور بعض اوقات علاج بھی کرتے ہیں۔ اس کا طبی نام ایسوفیگوگیسٹوڈوڈینوسکوپی (esophagogastroduodenoscopy) ہے۔ یہ عمل کلینک، آؤٹ پیشنٹ سینٹر یا ہسپتال میں کیا جا سکتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

اوپری اینڈوسکوپی کا مقصد غذائی نالی، معدے اور چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج ہے۔ ڈاکٹر یہ پروسیجر ان علامات کی وضاحت اور اصل وجہ جاننے کے لیے تجویز کرتے ہیں:

٭ سینے کی جلن، متلی، قے، پیٹ درد، نگلنے میں مشکل اور معدے سے خون آنے جیسے مسائل کی وجہ معلوم کرنا

٭ خون کی کمی، سوزش، اسہال یا ممکنہ بیماریوں کی تشخیص کے لیے ٹشو کا نمونہ (بائیوپسی) لینا

٭ اوپری نظامِ انہضام کے بعض کینسر کی بروقت نشاندہی کرنا

٭ علاج کے لیے خون روکنا، غذائی نالی کو کشادہ کرنا، پولیپ ہٹانا یا غیر ملکی چیز نکالنا

کبھی کبھار اینڈوسکوپی کے ساتھ الٹراساؤنڈ بھی کیا جاتا ہے تاکہ غذائی نالی، معدے یا لبلبے جیسے اندرونی اعضاء کی واضح تصاویر حاصل کی جا سکیں۔ جدید اینڈوسکوپس بہتر ریزولوشن اور زیادہ واضح ویڈیوز فراہم کرتی ہیں۔ کچھ آلات میں نیرو بینڈ امیجنگ استعمال کی جاتی ہے جو قبل از کینسر حالتوں کو بہتر طور پر ظاہر کرتی ہے۔

خطرات

اینڈوسکوپی عمومی طور پر محفوظ طریقہ کار ہے، تاہم کچھ نایاب پیچیدگیاں ممکن ہیں:

٭ بائیوپسی یا علاج کی صورت میں خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، بعض اوقات خون کی منتقلی کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے

٭ انفیکشن کا امکان کم ہوتا ہے، لیکن اضافی پروسیجر کی صورت میں بڑھ سکتا ہے۔ عام طور پر اینٹی بائیوٹکس سے علاج ہو جاتا ہے

٭ غذائی نالی یا نظامِ انہضام سے متعلق اعضاء میں سوراخ ہونا انتہائی نایاب ہے۔ بعض صورتوں میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ بے ہوشی یا سکون آور دوا کا ری ایکشن ممکن ہے، تاہم خطرہ کم ہوتا ہے

ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل، خاص طور پر روزہ اور دواؤں کی بندش، خطرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ممکنہ پیچیدگی کی علامات

اینڈوسکوپی کے بعد درج ذیل علامات پر توجہ دیں

٭ بخار

٭ سینے میں درد

٭ سانس لینے میں مشکل

٭ کالا یا خون والا پاخانہ

٭ نگلنے میں مشکل

٭ شدید یا مسلسل پیٹ درد

٭ قے، خاص طور پر خون یا کافی جیسے مواد کے ساتھ

اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی جائیں۔

تیاری کیسے کریں

اینڈوسکوپی سے پہلے ڈاکٹر مخصوص ہدایات دیتے ہیں جن پر عمل ضروری ہوتا ہے:

٭ عام طور پر 8 گھنٹے ٹھوس غذا اور 4 گھنٹے مائع سے پرہیز کیا جاتا ہے تاکہ معدہ خالی رہے

٭ خون پتلا کرنے والی دوائیں عارضی طور پر بند کی جا سکتی ہیں تاکہ خون بہنے کا خطرہ کم ہو

٭ ذیابیطس، دل کی بیماری یا بلڈ پریشر کی صورت میں ڈاکٹر مخصوص ہدایات دیتے ہیں

تمام ادویات اور سپلیمنٹس کے بارے میں ڈاکٹر کو مکمل معلومات دینا ضروری ہے۔

زیادہ تر مریضوں کو سکون آور دوا دی جاتی ہے جس کے بعد آرام ضروری ہوتا ہے۔ اس دوران یادداشت، ردعمل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت وقتی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے کسی کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ 24 گھنٹے تک گاڑی چلانے اور اہم فیصلے کرنے سے گریز کیا جائے۔

پروسیجر کے دوران

مریض کو سیدھا یا کروٹ کے بل لٹایا جاتا ہے اور نگرانی کے آلات جسم سے منسلک کیے جاتے ہیں۔

٭ رگ کے ذریعے سکون آور دوا دی جاتی ہے تاکہ مریض آرام دہ رہے

٭ منہ اور گلے کو سن کرنے کے لیے سپرے یا اینستھیزیا استعمال کیا جاتا ہے

٭ اینڈوسکوپ منہ کے ذریعے آہستہ آہستہ اندر داخل کی جاتی ہے

مریض بول نہیں سکتا لیکن سانس لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔

کیمرہ اندرونی مناظر سکرین پر دکھاتا ہے اور ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے۔ ہلکی ہوا داخل کی جاتی ہے تاکہ راستہ کھل سکے اور بہتر مشاہدہ ہو سکے۔ ضرورت پڑنے پر ٹشو کا نمونہ لیا جاتا ہے یا علاج کیا جاتا ہے۔ یہ عمل عموماً 15 سے 30 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔

پروسیجر کے بعد

مریض کو ریکوری ایریا میں رکھا جاتا ہے جہاں ایک گھنٹے تک نگرانی کی جاتی ہے۔ سکون آور دوا کے اثرات کم ہونے کے بعد مریض گھر جا سکتا ہے۔ کچھ ہلکی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

٭ پیٹ پھولنا یا گیس

٭ ہلکا درد یا مروڑ

٭ گلے میں معمولی خراش

یہ علامات عموماً خود بخود بہتر ہو جاتی ہیں۔ باقی دن آرام کرنا بہتر ہوتا ہے۔

نتائج

نتائج کا انحصار مریض کی حالت اور کیے گئے ٹیسٹ پر ہوتا ہے۔ بعض نتائج فوری طور پر مل جاتے ہیں جبکہ بائیوپسی کی صورت میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مناسب وقت پر نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

پیشاب کا تجزیہ

Read Next

ویگس نرو سٹیمولیشن: مرگی اور ڈپریشن کا ایک جدید علاج

Leave a Reply

Most Popular