وجائنل ہسٹرییکٹومی (Vaginal hysterectomy) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں رحم (یوٹرس) کو وجائنا کے راستے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران سرجن رحم کو بیضہ دانیوں، فیلوپین ٹیوبز، وجائنا کے اوپری حصے اور اسے سہارا دینے والی خون کی نالیوں اور ٹشوز سے الگ کرتا ہے، اور پھر رحم کو باہر نکال دیا جاتا ہے۔
اس طریقے میں پیٹ پر بڑا چیرا نہیں لگایا جاتا، اس لیے ہسپتال میں قیام اور لاگت کم آتی ہے اور صحت یابی بھی نسبتاً تیز ہوتی ہے۔ یہ پروسیجر ہر مریض کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار رحم کے سائز، شکل اور سرجری کی وجہ پر بھی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر بعض صورتوں میں دیگر سرجیکل طریقے بھی تجویز کر سکتے ہیں۔ ان میں لیپروسکوپک یا روبوٹک ہسٹرییکٹومی شامل ہیں جو پیٹ میں چھوٹے چیروں کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ ابڈومینل ہسٹرییکٹومی میں پیٹ پر بڑا چیرا لگایا جاتا ہے۔ ان طریقوں میں بھی اکثر رحم کو وجائنا کے ذریعے ہی نکالا جاتا ہے۔
کئی صورتوں میں ہسٹرییکٹومی کے دوران رحم کے منہ (سروکس) کو بھی نکال دیا جاتا ہے۔ اسے ٹوٹل وجائنل ہسٹرییکٹومی کہا جاتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
وجائنل ہسٹرییکٹومی تولیدی نظام کی مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کی جاتی ہے، جن میں شامل ہیں:
فائبروائڈز
یہ رحم میں بننے والی غیر سرطانی رسولیاں ہیں جو زیادہ خون آنے، خون کی کمی، پیلوِک درد، جنسی تعلق کے دوران درد اور مثانے پر دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ بڑے فائبروائڈز کی صورت میں ابڈومینل ہسٹرییکٹومی کی ضرورت پڑ سکتی ہے
اینڈومیٹریوسس
اس میں رحم کی اندرونی جھلی جیسا ٹشو رحم کے باہر بڑھنے لگتا ہے جو بیضہ دانیوں، فیلوپین ٹیوبز اور دیگر اعضاء کو متاثر کر سکتا ہے۔ علاج میں لیپروسکوپک، روبوٹک یا بعض اوقات وجائنل ہسٹرییکٹومی شامل ہو سکتی ہے
ایڈینومیوسس
اس حالت میں رحم کی اندرونی تہہ رحم کی دیوار میں بڑھ جاتی ہے۔ اس سے رحم بڑا ہو جاتا ہے اور ماہواری کے دوران شدید درد اور زیادہ خون آتا ہے۔ یہ اکثر مینوپاز کے بعد بہتر ہو جاتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں ہسٹرییکٹومی کی ضرورت پڑتی ہے
کینسر
رحم، سروکس، اینڈومیٹریئم یا بیضہ دانیوں کے کینسر یا کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں میں ہسٹرییکٹومی کی جا سکتی ہے۔ اینڈومیٹریل کینسر میں زیادہ تر لیپروسکوپک یا روبوٹک طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ اووری یا سرویکل کینسر میں اکثر ابڈومینل ہسٹرییکٹومی کی جاتی ہے
رحم کا وجائنا میں آ جانا
پیلوِس کے ٹشوز کمزور ہونے سے رحم وجائنا میں نیچے آ جاتا ہے۔ اس سے پیشاب لیک ہونے، اس حصے پر دباؤ محسوس ہونے اور رفع حاجت میں مشکل ہونے کی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ رحم کو نکالنے اور ٹشوز کی مرمت سے علامات بہتر ہو سکتی ہیں
زیادہ یا طویل ماہواری
اگر ادویات یا کم سرجیکل طریقے مؤثر نہ ہوں تو ہسٹرییکٹومی کی جاتی ہے
پیلوِک کا طویل مدتی درد
اگر درد کی وجہ واضح ہو اور دیگر علاج ناکام ہو جائیں تو ہسٹرییکٹومی مددگار ہو سکتی ہے
ان میں سے زیادہ تر حالات میں ہسٹرییکٹومی واحد علاج نہیں ہوتی، ادویات یا کم جراحی طریقے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل کے بعد حمل ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے مستقبل میں حمل کی خواہش کی صورت میں متبادل علاج پر غور ضروری ہے۔
خطرات
وجائنل ہسٹرییکٹومی نسبتاً محفوظ ہے، تاہم کچھ ممکنہ خطرات بھی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ زیادہ خون بہنا
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ انفیکشن
٭ قریبی اعضاء کو نقصان
٭ اینستھیزیا پر منفی ردعمل
کچھ صورتوں میں سرجری کے دوران طریقہ کار تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔
تیاری
سرجری سے پہلے مریض کو مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں، ادویات کے استعمال کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور اینستھیزیا کے انتخاب پر بات کی جاتی ہے۔ گھر پر مدد کے لیے کسی فرد کا انتظام بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ صحت یابی میں وقت لگتا ہے۔
طریقہ کار
مریض کو پیٹھ کے بل لٹایا جاتا ہے اور مثانے کے لیے کیتھیٹر لگایا جا سکتا ہے۔ سرجن وجائنا میں چیرا لگا کر رحم تک پہنچتا ہے۔ وہ خون کی نالیوں کو بند کر کے رحم کو الگ کرتا ہے، اور پھر اسے وجائنا کے ذریعے نکال دیتا ہے۔ ٹانکے جذب ہونے والے مواد سے لگائے جاتے ہیں۔
پروسیجر کے بعد
زیادہ تر مریض اسی دن گھر جا سکتے ہیں، تاہم بعض کو ایک رات ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ درد کے لیے ادویات دی جاتی ہیں اور کچھ دن تک ہلکا خون آ سکتا ہے۔
صحت یابی
مکمل صحت یابی عام طور پر 3 سے 4 ہفتوں میں ہو جاتی ہے۔ اس دوران 6 ہفتے تک بھاری وزن اٹھانے اور جنسی تعلق سے پرہیز ضروری ہے، تاہم ہلکی جسمانی سرگرمی مثلاً واک مفید ہے۔ درد بڑھنے، شدید خون آنے یا متلی کی صورت میں فوری رابطہ ضروری ہے۔
جذباتی اثرات
کچھ افراد کو راحت محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ میں اداسی یا جذباتی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اگر بیضہ دانیاں نکالی جائیں تو مینوپاز کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن کے لیے علاج موجود ہے۔
نتائج
ہسٹرییکٹومی کے بعد ماہواری ختم ہو جاتی ہے اور حمل ممکن نہیں رہتا۔ اگر بیضہ دانی موجود ہوں تو ہارمونز جاری رہتے ہیں، ورنہ مینوپاز فوری شروع ہو جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne