Vinkmag ad

ایکس رے

A doctor examining an X-ray in his mobile phone

ایکس رے (x-ray) ٹیسٹ جسم کے اندرونی ڈھانچے، خصوصاً ہڈیوں کی تصویر بناتا ہے۔ شعاعیں جسم کے مختلف ٹشوز میں مختلف مقدار میں جذب ہوتی ہیں۔ یہ فرق ان کی کثافت، یعنی گھنے پر منحصر ہوتا ہے۔ گھنے اجسام جیسے ہڈی اور دھات سفید دکھائی دیتے ہیں، پھیپھڑوں کی ہوا سیاہ نظر آتی ہے جبکہ چربی اور عضلات سرمئی شیڈز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

کچھ ایکس رے ٹیسٹوں میں کنٹراسٹ میڈیم استعمال کیا جاتا ہے جو آئوڈین یا بیریم پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ جسم کے اندرونی حصوں کو زیادہ واضح اور تفصیلی انداز میں ظاہر کرتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

ایکس رے ٹیکنالوجی جسم کے مختلف حصوں کے معائنے اور بیماریوں کی تشخیص کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ہڈیاں اور دانت

فریکچر اور انفیکشن: زیادہ تر صورتوں میں ہڈیوں اور دانتوں کی چوٹ یا انفیکشن واضح طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں

آرتھرائٹس: جوڑوں کے ایکس رے سے بیماری کی موجودگی اور اس کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ وقت کے ساتھ اس کی پیش رفت بھی دیکھی جا سکتی ہے

دانتوں کی خرابی: دانتوں میں کیویٹیز اور دیگر مسائل کی شناخت کے لیے ایکس رے اہم کردار ادا کرتا ہے

ہڈیوں کی کمزوری: خصوصی ٹیسٹوں کے ذریعے ہڈیوں کی کثافت ماپی جاتی ہے تاکہ کمزوری کا اندازہ ہو سکے

ہڈی کا کینسر: ہڈیوں میں غیر معمولی رسولیوں یا ٹیومرز کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے

سینہ

پھیپھڑوں کی بیماریاں: نمونیا، تپ دق اور پھیپھڑوں کے کینسر کی علامات ایکس رے میں ظاہر ہو سکتی ہیں

چھاتی کا کینسر: میموگرافی کے ذریعے چھاتی کے ٹشو میں غیر معمولی تبدیلیوں کی جانچ کی جاتی ہے

دل کا سائز بڑا ہونا: دل کے بڑھنے کی علامت دل کی ناکامی کی نشاندہی کر سکتی ہے

خون کی بند نالیاں: آئوڈین پر مبنی کنٹراسٹ خون کی گردش کے نظام کو واضح کرتا ہے تاکہ رکاوٹیں دیکھی جا سکیں

پیٹ

نظامِ ہاضمہ: بیریم کنٹراسٹ ہاضمے کے مسائل کو واضح کرتا ہے جو پینے یا انیما کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ انیما ایک طبی طریقہ ہے جس میں مخصوص مائع مقعد (anus) کے ذریعے بڑی آنت میں داخل کیا جاتا ہے۔

نگلی ہوئی اشیاء: اگر کوئی بچہ یا شخص کوئی چیز نگل لے تو ایکس رے اس کی درست جگہ معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے

خطرات

ریڈی ایشن سے سامنا

کچھ لوگوں کو ایکس رے کے محفوظ ہونے پر تشویش ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ریڈی ایشن خلیوں میں تبدیلی پیدا کر سکتی ہے جو بعض صورتوں میں کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ ایکس رے میں استعمال ہونے والی ریڈی ایشنز کی مقدار عام طور پر کم ہوتی ہے اور اس کے فوائد زیادہ ہوتے ہیں۔ بچوں میں تابکاری کے اثرات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ حاملہ ہیں یا حمل کا امکان ہے تو اپنی ہیلتھ کیئر ٹیم کو ضرور آگاہ کریں۔ بعض صورتوں میں متبادل ٹیسٹ مثلاً الٹراساؤنڈ استعمال کیا جاتا ہے۔

کنٹراسٹ میڈیم کے ممکنہ اثرات

٭ جسم میں گرمی یا سرخی کا احساس

٭ منہ میں دھاتی ذائقہ محسوس ہونا

٭ چکر آنا

٭ متلی

٭ خارش

٭ جلد پر سرخ یا گلابی، خارش والے دانے (Hives)  ظاہرہونا

نایاب صورتوں میں شدید ردعمل بھی ہو سکتا ہے جس میں شامل ہیں

٭ شدید کم بلڈ پریشر

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ گلے یا جسم کے دیگر حصوں میں سوجن

تیاری کیسے کریں

مختلف ایکس رے ٹیسٹوں کے لیے مختلف تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے مخصوص ہدایات ہیلتھ کیئر ٹیم سے ضرور حاصل کریں۔

کیا پہننا ہے

عام طور پر جسم کے متعلقہ حصے کے کپڑے اتارنے پڑتے ہیں اور بعض صورتوں میں گاؤن پہنایا جاتا ہے۔ زیورات، چشمہ اور دھاتی اشیاء ہٹانے کی ہدایت دی جاتی ہے کیونکہ یہ تصاویر پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

کنٹراسٹ مواد

کچھ ایکس رے سے پہلے کنٹراسٹ میڈیم دیا جاتا ہے جو بیریم یا آئوڈین پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ جسم کے مخصوص حصے کو واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا توقع کریں

ایکس رے کے دوران

ایکس رے مختلف طبی مراکز، ہسپتالوں اور کلینکس میں کیا جاتا ہے۔ مشین جسم سے شعاعیں گزار کر تصویر ریکارڈ کرتی ہے اور یہ عمل بغیر کسی احساس کے ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجسٹ جسم کو درست پوزیشن میں رکھتا ہے۔ بعض اوقات تکیے یا سہارے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آپ کو بالکل ساکن رہنا ہوتا ہے، اور کبھی کبھار سانس روکنا پڑتا ہے تاکہ تصویر واضح آئے۔

سادہ ایکس رے چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے جبکہ کنٹراسٹ والے ٹیسٹس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

بچوں کا ایکس رے

چھوٹے بچوں کو ساکن رکھنے کے لیے مخصوص حفاظتی آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں جو محفوظ ہوتے ہیں۔ والدین کو بعض اوقات ساتھ رہنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایکس رے کے بعد

ایکس رے کے بعد آپ معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ عام طور پر اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوتا۔ اگر کنٹراسٹ میڈیم استعمال کیا گیا ہو تو زیادہ پانی پینا مفید ہوتا ہے تاکہ یہ جسم سے جلد خارج ہو جائے۔

اگر انجیکشن والی جگہ پر درد، سوجن یا لالی ہو تو فوری طور پر ہیلتھ کیئر ٹیم سے رابطہ کریں۔

نتائج

ایکس رے کی تصاویر ڈیجیٹل طور پر محفوظ کی جاتی ہیں اور چند منٹ میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ ریڈیالوجسٹ رپورٹ تیار کر کے آپ کے ڈاکٹر کو ارسال کرتا ہے جو آپ کو نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں نتائج فوری طور پر بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=radiologist

Vinkmag ad

Read Previous

وجائنل ہسٹرییکٹومی: وجائنا کے ذریعے یوٹرس نکالنا

Read Next

سینے کا ایکسرے

Leave a Reply

Most Popular