Vinkmag ad

تھیلیسیمیا: خون کی ایک موروثی بیماری

Thalassemia (Cooley's anemia) symptoms, inherited blood disorder, low hemoglobin, diagnosis, and treatment illustration

تھیلیسیمیا (Thalassemia) خون کی ایک موروثی بیماری ہے جو جسم میں ہیموگلوبن کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں میں موجود ایک پروٹین ہے جو جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔جب ہیموگلوبن یا خون کے سرخ خلیوں کی مقدار کم ہو جائے تو انیمیا ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ بیماری والدین سے بچوں میں موروثی طور پر منتقل ہوتی ہے۔ ہلکی نوعیت کے تھیلیسیمیا میں عموماً علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ شدید صورتوں میں باقاعدہ خون لگوانا پڑ سکتا ہے۔

علامات

تھیلیسیمیا کی علامات بیماری کی قسم اور شدت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں:

٭ مسلسل تھکاوٹ

٭ کمزوری ہونا

٭ جلد یا آنکھوں کا پیلا پڑ جانا

٭ چہرے یا کھوپڑی کی ہڈیوں میں تبدیلیاں

٭ نشوونما کی رفتار کم ہونا

٭ پیٹ پھولنا

٭ پیشاب گہرے رنگ کا ہونا

٭ بھوک میں کمی

وجوہات

تھیلیسیمیا جینز میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں:

الفا تھیلیسیمیا: اس کی شدت متاثرہ جینز کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک یا دو جین متاثر ہوں تو علامات کم یا ہلکی ہوتی ہیں، جبکہ تین یا چار جین متاثر ہونے پر بیماری شدید ہو سکتی ہے۔

بیٹا تھیلیسیمیا: میں بیماری کی شدت متاثرہ جینز پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک جین متاثر ہو تو علامات ہلکی رہتی ہیں، جبکہ دونوں جینز متاثر ہونے پر بیماری درمیانی یا شدید ہو سکتی ہے اور علامات اکثر بچپن میں ظاہر ہوتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

چند عوامل تھیلیسیمیا کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان میں یہ شامل ہیں:

٭ خاندان میں تھیلیسیمیا کی موجودگی

٭ جنوبی ایشیائی، مشرقِ وسطیٰ، یونانی، اطالوی یا افریقی نسل سے تعلق

پیچیدگیاں

درمیانہ یا شدید تھیلیسیمیا مختلف مسائل کا سبب بن سکتا ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ جسم میں آئرن کی مقدار بڑھ جانا

٭ بار بار انفیکشن ہونا

٭ چہرے کی ہڈیوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا

٭ تلی کا بڑھ جانا

٭ نشوونما میں تاخیر

٭ دل کے مسائل پیدا ہونا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

یہ علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں:

٭ مسلسل تھکاوٹ

٭ کمزوری ہونا

٭ نشوونما سست ہونا

٭ جلد یا آنکھوں کا پیلا نظر آنا

٭ پیٹ کا غیر معمولی طور پر بڑا ہونا

تشخیص

تھیلیسیمیا کی تشخیص مختلف طبی ٹیسٹوں مثلاً بلڈ ٹیسٹ جس میں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد، ساخت اور جینیاتی تبدیلیوں کی جا سکتی ہے۔ بعض مخصوص ٹیسٹ، مثلاً کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS) اور ایمنیوسینٹیسس، (Amniocentesis) بچے کی پیدائش سے پہلے تشخیص کے لیے بھی کیے جا سکتے ہیں۔

علاج

علاج کا انتخاب بیماری کی قسم اور شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا کی علاج میں بلڈ ٹرانسفیوژن، اضافی آئرن کم کرنے کے لیے مخصوص ادویات اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ شامل ہیں۔  

احتیاطی تدابیر

تھیلیسیمیا کے مریض درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر آئرن والی ادویات استعمال نہ کریں

٭ متوازن غذا کھائیں اور مناسب مقدار میں کیلشیم اور وٹامن ڈی لیں 

٭ ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں

٭ بیمار افراد سے فاصلہ رکھیں

٭ بروقت ویکسینیشن کروائیں

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ فیملی ہسٹری کی صورت میں جینیاتی کاؤنسلنگ حاصل کریں

Frequently Asked Questions (FAQs)

تھیلیسیمیا کیا ہے؟

یہ خون کی ایک موروثی بیماری ہے جس میں ہیموگلوبن مناسب مقدار میں نہیں بنتا۔

کیا تھیلیسیمیا والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے؟

جی ہاں، یہ بیماری جینز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔

کیا ہر مریض کو خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے؟

نہیں، ہلکے تھیلیسیمیا میں عموماً خون کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تھیلیسیمیا کی سب سے بڑی پیچیدگی کیا ہے؟

شدید تھیلیسیمیا کی مریضوں میں آئرن کی زیادتی، دل کے مسائل اور انفیکشن پیدا ہو سکتے ہیں۔

کیا تھیلیسیمیا کا مستقل علاج موجود ہے؟

بعض شدید مریضوں میں سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ ایک مؤثر علاج ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist

Vinkmag ad

Read Previous

سی ٹی سکین

Read Next

سی بی ٹی: سوچ اور رویے کا علاج

Leave a Reply

Most Popular