کاگنیٹو بیہیوریل تھراپی (Cognitive Behavioral Therapy) کو مختصراً سی بی ٹی (CBT) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گفتگو پر مبنی ایک منظم نفسیاتی علاج ہے، جس میں مریض ایک ماہرِ نفسیات کے ساتھ طے شدہ سیشنز میں شرکت کرتا ہے۔ علاج محدود مدت میں مکمل کیا جاتا ہے۔
یہ طریقہ انسان کو اپنی سوچ، احساسات اور رویوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ منفی یا غیر مفید سوچ کے انداز کو بدلنے پر توجہ دیتا ہے۔ جب سوچ بدلتی ہے تو احساسات اور رویے بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ یہ کئی ذہنی مسائل مثلاً ڈپریشن، اضطراب، پی ٹی ایس ڈی اور کھانے سے متعلق ڈس آرڈرز میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
سی بی ٹی ذہنی اور جذباتی مسائل کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس میں ہوم ورک بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ تھراپی درج ذیل امور میں معاون ثابت ہوتی ہے:
یہ تھراپی درج ذیل معاملات میں مدد فراہم کرتی ہے:
٭ ذہنی بیماریوں کی علامات کو کنٹرول کرنا
٭ علامات کے دوبارہ ظاہر ہونے کے امکانات کم کرنا
٭ ادویات کے بغیر یا ان کے ساتھ متبادل علاج فراہم کرنا
٭ دباؤ والے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا
٭ جذبات کو بہتر انداز میں سنبھالنا
٭ تعلقات اور رابطوں میں بہتری لانا سیکھنا
٭ غم، نقصان اور صدمے سے نمٹنا
٭ تشدد یا بدسلوکی کے اثرات سے بحالی میں مدد دینا
٭ طویل مدتی جسمانی یا ذہنی علامات کو سنبھالنا
امراض میں معاون
یہ ان بیماریوں میں مؤثر ہے:
٭ ڈپریشن
٭ اضطراب
٭ فوبیا
٭ پی ٹی ایس ڈی
٭ او سی ڈی
٭ نیند متاثر ہونا
٭ کھانے سے متعلق ڈس آرڈرز
٭ نشے کی عادت
٭ بائی پولر ڈس آرڈر
٭ شیزوفرینیا
٭ جنسی مسائل
خطرات
سی بی ٹی عام طور پر محفوظ علاج ہے، تاہم بعض اوقات آپ کو تکلیف دہ جذبات سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مریض کو پرانے تجربات اور دردناک یادوں پر بات کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں پرانی، ناخوشگوار یادیں سامنے آ سکتی ہیں۔ اس سے اداسی یا غصہ محسوس ہو سکتا ہے، تاہم یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے۔
کبھی مریض کو خود کو لاحق خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے وقتی اضطراب بڑھ سکتا ہے، لیکن یہ عمل محفوظ ہوتا ہے۔ یہ معالج کی نگرانی میں ہوتا ہے، جس سے آہستہ آہستہ خوف کم ہو جاتا ہے۔
تیاری اور آغاز
سی بی ٹی شروع کرنے کا فیصلہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں، اور کسی ماہر سے رہنمائی بھی لی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر، متعلقہ اداروں یا آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی مدد مل سکتی ہے۔
شروع کرنے سے پہلے اپنے مسائل میں واضح ہوں، اور اپنے اہداف طے کریں۔ اس سے علاج بہتر ہوتا ہے۔ سیشنز اور اخراجات کا اندازہ بھی پہلے سے کر لیں۔
اس شعبے میں سائیکالوجسٹ، سائیکاٹرسٹ اور کونسلر شامل ہوتے ہیں۔ سائیکاٹرسٹ ادویات بھی تجویز کر سکتا ہے۔
علاج کا عمل
سی بی ٹی انفرادی، گروپ کی شکل میں یا آن لائن بھی ہو سکتی ہے۔ پہلے سیشن میں معالج معلومات لیتا ہے، جس دوران وہ مریض کی حالت اور مسئلے کو سمجھتا ہے۔
علاج میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں:
٭ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے
٭ آرام کی تکنیکیں سکھائی جاتی ہیں
٭ دباؤ کم کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں
٭ منفی سوچ کو پہچاننے کی مشق کرائی جاتی ہے
٭ مشکل حالات کا سامنا کرنا سکھایا جاتا ہے
مراحل
سی بی ٹی عام طور پر درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوتی ہے:
٭ زندگی کے مسائل اور مشکلات پر کھل کر بات کرنا
٭ اپنے خیالات، احساسات اور ان چیزوں کی حقیقت سمجھنا جن پر آپ یقین رکھتے ہیں، کہ وہ ایسی ہیں
٭ منفی سوچ کے انداز کو پہچاننا
٭ غیر حقیقت پسندانہ سوچ کو چیلنج کرنا اور تبدیل کرنا
مدت
سی بی ٹی مختصر علاج ہے، جو اوسطاً 5 سے 20 سیشنز پر مشتمل ہوتا ہے۔ مدت کا دارومدار مسئلے کی نوعیت، شدت اور پیش رفت پر ہوتا ہے۔
رازداری
تھراپسٹ کی بات عام طور پر خفیہ رہتی ہے، تاہم کچھ حالات میں قانون اجازت دیتا ہے کہ معلومات شیئر کی جائیں۔ جیسے کوئی خطرہ، تشدد یا بدسلوکی کے امکانات وغیرہ۔
نتائج
سی بی ٹی بیماری کو ہمیشہ مکمل ختم نہیں کرتی، لیکن علامات کو کم کرنے اور زندگی بہتر بنانے میں مدد ضرور دیتی ہے۔
سی بی ٹی کو مؤثر کیسے بنائیں
٭ علاج کو ایک مشترکہ عمل سمجھیں جس میں مریض اور معالج دونوں شامل ہوں
٭ اپنے خیالات اور احساسات کے بارے میں سچائی سے اور کھل کر بات کریں
٭ علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کریں
٭ فوری نتائج کی توقع نہ رکھیں کیونکہ بہتری وقت لیتی ہے
٭ دیے گئے ہوم ورک اور مشقیں مکمل کریں
٭ اگر پیش رفت نہ ہو تو معالج سے کھل کر بات کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist