• Home
  • صحت عامہ
  • متحد جوان اور صحت مند پاکستان کے لئے کھیلوں کی اہمیت

متحد جوان اور صحت مند پاکستان کے لئے کھیلوں کی اہمیت

296

    آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2017ءکے فائنل میںبھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی نے پوری قوم کو فخر ‘ اتحاد اور خوشی کے جذبات سے سرشار کر دیا ہے ۔اس کے بعد سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ سبز رنگ لوگوں کا سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ بن گیا ہے۔ہمارے کرکٹ کے میدان(گلیاں) ایک بار پھر آباد ہوگئے ہیں۔کھیل یہاں حیرت انگیز معجزے دکھا سکتے ہیں ‘ خصوصاً ہمارے جیسے ممالک میں جہاں آبادی کی غالب اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے کے اس بہت ہی منفرد پہلو کو دیگر تعمیری مقاصد کے لئے بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔کھیل، خاص طور پر کرکٹ ہمارے تقسیم در تقسیم معاشرے کے مختلف طبقات میں مضبوط تعلق کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہ باہمی اختلافات کو ختم اور سماجی طور پر بعد الطرفین کی کیفیت کو کم کر کے اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اورمشترکہ بنیادیں فراہم کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتاہے۔ہمارا معاشرہ مختلف نسلی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہے اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر یہ تقسیم اور خلیج بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔

دوسری طرف کھیل اگر معاشرتی تقسیم کو ختم نہیں تو کم کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتے ہیں ۔ قومی ٹیموں میں مختلف علاقوں اور لسانی و قبائلی پس منظر رکھنے والے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں لیکن وہ اعلیٰ اعزازات جیتنے کے لیے ایک ٹیم کی مانند متحد ہو کر کھیل پیش کرتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے 18جون کو بھی کیا ۔انہوں نے اس امر کا عملی اظہار کیا کہ کرکٹ ٹیم کی طرح ایک متنوع اورمتحدپاکستان حیران کن کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ہمیں اپنے نوجوانوں کو شہروں ،قصبوں اور دیہاتوں میں ایسا ماحول فراہم کرنا چاہئے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کاکھل کر اظہار کر سکیں۔ ہمیں چاہئے کہ تعلیمی اداروں کے کیمپس ایسے بنائیں جن میں کھیلوں کی سہولیات بھی میسر ہوں۔ہماری ہاﺅسنگ سکیموں میں شاپنگ مالز کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان اور پارک وغیرہ بھی شامل ہونے چاہئیں ۔
بد قسمتی سے ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ہمارے سکول اور دیگر تعلیمی ادارے شہروں کے مصروف کمرشل علاقوں میںبلند عمودی عمارتوں کی صورت سکڑتے جا رہے ہیں۔کھیل ‘ خصوصاً نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کے نظام کا موثر حصہ بنتے معلوم نہیں ہوتے۔ دیہات کی بات توچھوڑہی دیں، کھیل کے میدانوں اور پارکوں کے تناظر میں قصبوں اور شہروں کی صورت حال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
جسمانی کھیلوں کی سہولیات کی کمی اور ٹیبلٹ پی سی، سمارٹ فونز اور پلے سٹیشنز وغیرہ تک آسان رسائی نے باہم مل کر نوجوانوں کو سکرین پر کھیلے جانے والے کھیلوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔وہ اب بھی کرکٹ، فٹ بال ، ہاکی اور اس طرح کے دیگر کھیل کھیلتے توہیں لیکن میدانوں کی بجائے صرف کی بورڈز پر۔ اس سے انہیں مضبوط پٹھوں والاطاقتور جسم نہیں بلکہ موٹے شیشوں والی عینکیں ہی ملتی ہیں۔

وقت آگیاہے کہ ہماری حکومتیں، خصوصاً صوبائی اور مقامی حکومتیں کھیلوں کو اپنی ترجیحات میں نمایاں جگہ دیں ، اس لئے کہ وہ متحد، صحت مند اور جوان مستقبل کا پروانہ ہیں۔ جسمانی سرگرمیوں کے لئے مناسب سہولیات کے بغیر بھی نوجوان ہماری آبادی کا بڑا حصہ تورہیں گے لیکن وہ ان جذبوں اور خوابوں سے محروم ہوں گے جو اس عمر کا خاصہ ہیں۔ہمیں ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے لئے قواعدو ضوابط کو تبدیل کر کے انہیں اس بات کاپابند بنانا ہوگاکہ وہ اپنی سکیموں میں کھیل کے میدانوں اور پارکوں کے لئے جگہ لازماًمختص کریں۔تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے والے حکومتی محکموں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ تعلیمی ادارے طلبہ و طالبات کی شخصیت کی تعمیر میں جسمانی کھیلوں کے پہلو کو نظرانداز نہ کریں۔اگر ہمیں متحد اور صحت مندمعاشرہ بننا ہے تو ہمیں کھیل دوست معاشرہ بننا ہوگا۔
آئی سی سی 2017ءکا چیمپئین بننے پر پاکستان کو مبارکباد