صحت سے متعلق غلط مفروضوں کی تصحیح

682

ہمارے ہاں صحت سے متعلق کچھ ایسے تصورات بھی پائے جاتے ہیں جو بہت مقبول ہیں اور لوگ ان پر پختہ یقین رکھتے ہیں لیکن ماہرین صحت کے مطابق ان کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ۔ اس لئے ان کی تصحیح اشد ضروری ہے ۔ ایسے ہی کچھ تصورات کی تصحیح، زیر نظر کالم میں

چائے‘فائدہ مند یانقصان دہ
٭چائے کا استعمال جلد کی خشکی کا سبب بنتا ہے۔
٭٭سبز چائے کے صحت پر بہت کم منفی اثرات ہوتے ہیں‘ تاہم اس کے زیادہ استعمال سے بعض لوگوں کو قبض کی شکایت ہوسکتی ہے۔ جہاں تک اس کی وجہ سے خشکی کا تعلق ہے تو وہ کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے، البتہ کچھ لوگ اس کا شکار بھی ہو جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کے منہ میں سبز چائے پینے سے خشکی ہوجاتی ہے لیکن اس کا تعلق بھی سبز چائے کی زیادہ مقدارسے ہے۔ ہلکے رنگ کی چائے زیادہ مقدار میں پینے سے پیٹ میں مروڑ کی شکایت ہو سکتی ہے تاہم خشکی سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔چائے کے بارے میں کچھ لوگوں کا یہ تاثر درست نہیں کہ وہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے‘ تاہم کسی بھی چیز کی زیادتی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔خالی پیٹ چائے پینے سے معدے میں تیزابیت ہوجاتی ہے اورجو لوگ مستقلاً ایسا کرتے ہیں‘ انہیں مستقبل میں معدے کا السر بھی ہو سکتاہے۔
(مدیحہ انور‘ماہر غذائیات‘لاہور)

بریسز کے ساتھ منہ کی صفائی
٭اگر مستقل بریسز لگے ہوں تو منہ کی صفائی مشکل ہوجاتی ہے۔
٭٭یہ بات درست ہے کہ دانتوں کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے والی تاریں  لگی ہوں تو منہ کی صفائی برقرار رکھنا مشکل ہوتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ بریسز کی صورت میں دانتوں کی صفائی کا خیال رکھنا زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو خوراک کے ذرات ان میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے منہ سے بدبو آنے ،دانتوں میں کیڑا لگنے اور مسوڑھوں کی مختلف بیماریوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جب کسی شخص کو مستقلاً بریسز لگائے جاتے ہیں توڈاکٹر اسے ان کے ساتھ دانتوں کو برش کرنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ مریض کو اس بات کی خاص طور پر تلقین کی جاتی ہے کہ کھانے کا کوئی ذرہ ان کے دانتوں میں نہیں پھنسنا چاہئے اوریہ بھی کہ اسے ہر کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی لازماً کرنی ہے۔اس کے علاوہ ماو¿تھ واش کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو دانتوں پر میل کی پیلی تہہ  نہیں بنتی۔
(ڈاکٹر امتیاز احمد‘ماہر دندان‘شفا انٹرنیشنل ہسپتال‘اسلام آباد)

دوران ِحمل اینٹی بائیوٹکس
٭اینٹی بائیوٹیکس حمل کے دوران استعمال نہیں کرنی چاہئیں
٭٭ دوران حمل خواتین کوادویات تجویز کرنے سے قبل ڈاکٹر کوان کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔حاملہ خاتون کو اینٹی بائیوٹیکس صرف اس وقت دی جاتی ہیں جب اسے انفیکشن کی صورت میں تیز بخار ہوجائے اور اس کے نتیجے میں بچے کی صحت پر برا اثر پڑنے کا خطرہ ہو۔ایسی صورت میں بھی خودعلاجی کی بجائے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی دوا لینی چاہئے۔یہ بات صرف اینٹی بائیوٹکس تک ہی محدود نہیں بلکہ دوران حمل کوئی بھی دوا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں لینی چاہئے ۔یہ بات دھیان میں رکھئے کہ حمل کے دوران ہونے والے بہت سے انفیکشن وقت کے ساتھ خودی ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔
(ڈاکٹر بشرٰی‘ماہر امور زچہ وبچہ‘کے آر ایل ہسپتال‘اسلام آباد)

ذہنی دباو‘بال گرائے
بالوں کے گرنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے ایک ذہنی دباو¿ بھی ہے۔مسلسل ذہنی دباو¿ قوتِ مدافعت کو کمزور کردیتا ہے۔اس سے نہ صرف بال بلکہ جسم کے دیگر اعضاءبھی متاثر ہو سکتے ہیں۔اس مسئلے کی دیگر وجوہات میں ناقص غذائ،انیمیا(خون کی کمی )اور خشکی وغیرہ شامل ہیں۔خواتین حمل کے دوران بھی اس کیفیت سے گزرتی ہیںتاہم وقت کے ساتھ ےہ مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔
(ڈاکٹر فوزیما انور بھٹی‘ ماہرِ امراضِ جلد‘اسلام آباد)

بڑی آنکھیں اور نظر کی کمزوری
ےہ ایک حقیقت ہے کہ بڑی آنکھیں اس نقص کازیادہ شکار ہوتی ہیں جس میں قریب کی چیزیں صاف اور دور کی چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔بڑی اور نمایاں آنکھوں والے افراد زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں اس مسئلے کا ضرور شکار ہوتے ہیں ‘ تاہم وہ لوگ جن کی آنکھیںزیادہ نمایاںلیکن ان کے خول چھوٹے ہوں ‘وہ کمزور نظر ی سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں ۔ نظر کی کمزوری کی دیگر وجوہات میں موتیا،آنکھ کے شفاف حصے (cornea) کی خرابی اور کچھ مخصوص بیماریاں شامل ہیں۔
(ڈاکٹر امجد سلیم‘ماہرِ امراضِ چشم‘لاہور)

لیفٹ ہینڈرز‘ زیادہ ذہین
٭ بائیں ہاتھ سے کام کرنے یا لکھنے والے افراد دائیں ہاتھ والوں سے زیادہ ذہین اور ہنر مند ہوتے ہیں۔
٭٭ ےہ مفروضہ محض عمومی مشاہدے پر مبنی ہے جس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بہت سے افراد جہاںاچھے آئی کیو کے مالک ہوتے ہیں‘ وہاں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جوکُند ذہن ہیں۔کوئی شخص اپنی فیلڈ میں کس قدر آگے جاتا ہے‘ اس بات کا انحصار اس کی پرورش، اسے ملنے والے مواقع اور اس کی شخصیت کے کئی پہلوو¿ں پر ہے۔
یہاں میں اس بات پر بھی روشنی ڈالنا چاہوں گا کہ لوگ ”لیفٹی“ کیوں ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہمارا دماغ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اگر بایاں حصہ غالب ہو تو بچہ اپنے تمام کام دائیں ہاتھ سے نپٹانے والا ہو گا اس کے برعکس اگر دایاںحصہ غالب ہے تو بچہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ہو گا۔ اس ضمن میںبعض اوقات موروثی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر والدین یا ان میں سے کوئی ایک لیفٹی ہو تو اس بات کا امکان ہوتاہے کہ بچے کا بایاں ہاتھ دائیں کی نسبت زیادہ زور آور ہو اور وہ اپنے بیشتر کام اسی سے کرے گا۔
(ڈاکٹر محمد ریحا ن اپل، عمومی معالج‘ اسلام آباد)

ٹھنڈے مشروبات سے گلا خراب
ےہ تاثر درست ہے کہ ٹھنڈے پانی سے گلا خراب ہو جاتاہے‘ تاہم ضروری نہیں کہ ایسا کرنے سے ہرفردہی اس مسئلے کا شکار ہو جائے۔مثال کے طور پر حساس گلے کے حامل افراد میں ےہ شکایت دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ٹھنڈے مشروبات گلے کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔اسی طرح زیادہ گرم چیزیں مثلاً چائے یاکافی وغیرہ بھی گلے پر اسی قسم کے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اس لئے اپنے گلے کو صحت مند رکھنے کے لئے زیادہ گرم اور ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں ۔
(ڈاکٹر محمد مشرف بیگ‘ماہرِ ناک کان وگلا‘راولپنڈی)

شہد‘ تمام بیماریوں کاعلاج
٭ شہد ہر طرح کی بیماریوں کاشافی علاج ہے
٭٭ ایک حد تک ےہ مفروضہ درست ہے کہ شہد میں تمام بیماریوں کے لئے شفاہے تاہم اس کا خالص ہونا اولین شرط ہے۔ خالص شہد ملنا بہت مشکل ہے جس کا استعمال کولیسٹرول اور دل کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ اگر سردیوں کے موسم میں بچوں کو کھلایاجائے تو وہ ٹھنڈ کے مضر اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگرچہ شہد کے بہت سے فوائد ہیں تاہم ہر چیز کی طرح اس کے استعمال میں بھی اعتدال کے پہلو کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو چاہئے کہ دن میں چائے کے ایک چمچ سے زیادہ شہد نہ لیں۔
(فریحہ ذیشان، ماہرِ غذائیات، کراچی)

گلے میں خراش‘ کھانسی اور چاول
٭ گلے میں خراش اور کھانسی کی صورت میں چاول نہ کھائیں۔
٭٭ ہمارے ہاں ےہ سمجھا جاتا ہے کہ گلا خراب ہونے کی صورت میں اگر چاول کھائے جائیں تو گلا مزید بگڑ جاتا ہے حالانکہ چاولوں کا گلے کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں۔ ےہ نہ تو بلغم پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں کھانے سے کھانسی ہوتی ہے۔ چاول اور اناج ہماری خوراک کے دو بنیادی اجزاءہیںجو ہماری روزانہ کی کیلوریز(توانائی) کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ہر قوم کا الگ مزاج ہوتا ہے۔ ہم لوگ گندم اور چاول‘ دونوں کو خوراک کے بنیادی اجزاءکے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ چین اور بنگال میں رہنے والے لوگوں کا انحصار کلی طور پر چاولوں پر ہی ہوتا ہے۔ وہ گلے کی خرابی کے باوجود چاول کھانا نہیں چھوڑتے۔ گلے کی خرابی زیادہ تر انفیکشن اور تیزابیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایسے میں چاول چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں ۔
(ڈاکٹر غلام ثقلین، ماہرِکان ، ناک اور گلا، اسلام آباد)